پاکستان سٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس ایک لاکھ 36 ہزار کی نئی ریکارڈ حد عبور کر گیا۔رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 1440پوائنٹس کی تیزی دیکھی گئی اور ہنڈرڈ انڈیکس بڑھ کر 135440پوائنٹس کی نئی بلند سطح پر آ گیا۔ بعد ازاں ایکسچینج میں 1712پوائنٹس کی تیزی ہوئی اور ہنڈرڈ انڈیکس بڑھ کر 136012پوائنٹس کی نئی بلند سطح پر آ گیا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے سٹاک ایکسچینج کے ایک لاکھ 35 ہزارپوائنٹس کی سطح عبورکرنے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرناکاروباری برادری کے اعتماد کا مظہر ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا حالیہ مثبت معاشی اشاریے حکومتی پالیسیوں کی سمت درست ہونے کے عکاس ہیں، ملک میں کاروبار دوست ماحول فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ملک معاشی استحکام کے بعد معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے، حکومت ملکی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔اس سے قبل اگر کاروباری ہفتے کا جائزہ لیا جائے تو ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند ہو جائے گا کہ سرمایہ کار اعتماد کر رہے ہیں ، پاکستان کی سمت درست ہے ۔ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہارکر چکے ہیں ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کا ایجنڈا آخر ہے کیا ؟ ہر اچھی خبر پر پراپیگنڈا وتیرہ بن چکا ہے ۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور اپنا صوبہ چھوڑ کر لائو لشکر اور پروٹوکول کے ہمراہ یوں لاہور میں داخل ہوئے جیسے کوئی قلعہ فتح کرنے جا رہے ہیں۔ یہاں آکر یہ واضح ہوا کہ ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا تھا ہی نہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ایک مرتبہ پھر حکومتی پروٹوکول کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور لائو لشکر کو یہاں لاکر یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ سیاست چمکانے کے ماہر ہیں۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے لیے فیصلہ سازوں کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہیں، مولانا فضل الرحمان منافق آدمی ہے، وہ اب بھی اندر سے اسٹیبلشمنٹ سے ملا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ اگست تک اپنی تحریک کو عروج پر لے جانا ہے، پانچ اگست کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان ہو گا، قوم میں شعور آ گیا ہے۔ ہمارے لوگوں پر نو مئی کے بعد بدترین تشدد کیا گیا، ہمارے خلاف اب دوبارہ فسطائی مہم چلائی جا رہی ہے، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیخلاف کیسز کو چلنے ہی نہیں دیا جارہا۔احتجاج کا آئینی حق بھی چھینا جارہا ہے، لوگوں کو احتجاج کے لیے باہر نکال رہے ہیں، ریاستی ادارے اپنے آئینی کام کو چھوڑ کر غیر آئینی کاموں میں لگ گئے ہیں، دہشت گردی اور سرحدوں کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ملک میں مافیا کا اسٹرکچر بن گیا ہے، ادارے کہتے ہیں کہ ہم سیاست نہیں کرتے لیکن وہی کام کرتے ہیں، میں فوجی کا بیٹا ہوں لیکن آج لوگ اداروں کیخلاف ہوچکے ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان مسلسل مذاکرات کی بات کررہے ہیں، عوام غیر جمہوری رویوں کو مسترد کررہے ہیں، پاکستان کے لیے کھڑا ہونے کے لیے کسی سے ملا ہوں تو ہاں ملا ہوں۔ بانی پی ٹی آئی نے کہہ دیا کہ اسی سے بات ہوگی جس کے پاس مینڈیٹ ہے، بانی پی ٹی آئی صرف اختیار والے کیساتھ بات کا کہہ چکے ہیں، فیصلہ سازوں سے بات ہوگی ان کے ساتھ سیاسی لوگوں نے بیٹھنا ہے تو منظور ہے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے جعلی الیکشن اور حکومت گرانے میں کردار ادا کیا، مولانا فضل الرحمان نے خود کہا کہ جنرل باجوہ کے کہنے پر انہوں نے ہمارے حکومت گرائی۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 90 دن ہم نے اپنے آپ کو دئیے ہیں، نئے لائحہ عمل کے تحت اپنی تحریک کو 5 اگست تک عروج پر لے جائیں گے، 90 دن میں ہم طے کریں گے کہ ہم نے اس ملک میں سیاست کرنی ہے یا نہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا نے کہا کہ تحریک انصاف میں اختلافات کا بیانیہ فیصلہ سازوں کی سازش ہے، یہ ملک اشرافیہ کا ملک ہے، تمام پارٹی کا اکٹھے ہوکر لاہور آنا یہ ثبوت ہے کہ ہم بانی کی رہائی کیلئے متحد ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ریاست عدلیہ اور قوم کی رہائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں ٹن چینی باہر بھیج کر زیادہ قیمت پر واپس منگوائی جا رہی ہے، ہماری تحریک ہر گھر سے نکلے گی، ہمارا قوم سے وعدہ ہے کہ ہم نے اب پیچھے نہیں ہٹنا۔ یہ وہ پریس کانفرنس تھی جو ملک میں نیا سیاسی انتشار پھیلانے کے لئے کافی ہے ۔ ملک ایک ایسی نہج پر ہے جہاں سے لگ رہاہے کہ حالات بہتری کی جانب جارہے ہیں ، ایسے حالات میں لائو لشکر لا کر ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کا دوسرے صوبے میں جا کر پریس کانفرنس کرنا اس تاثر کو عیاں کر رہا ہے کہ اس ٹولے کا مقصد ہی انتشار پھیلانا ہے اور ملک کو نقصان پہنچانا ہے ۔
ایک طرف سٹاک مارکیٹ دوسری جانب گنڈا پور!
09:29 AM, 15 Jul, 2025