چلتی مسافر بس میں انسان نہیں خواہشات اور امیدیں سفر کر رہی ہوتی ہیں ۔ کوئی گھر سے دور اور کوئی گھر کی جانب رواں دواں ہوتا ہے ۔ خیالات کے تانے بانے بُنتے اِن مسافروں کے پاس یا تو نئی منزلوں پر پہنچنے کی امید ہوتی ہے یا پھر مدتوں بعد اپنے گھر والوں سے ملنے کی خواہش ٗ ماں باپ سے لپٹنے کی تمنا ٗ بچوں کو چومنے اور اور بیوی سے ملاپ کی خواہش ۔ کوئی رشتوں سے بچھڑ رہا ہوتا ہے اورکوئی انہیں ملنے کی آس پر اپنے گھونسلے میں واپس آ رہا ہوتا ہے۔ یہ امیدیں اور خواہشیں صرف مسافروں سے نہیں جڑی ہوتیں بلکہ صوبوں کے مختلف شہروں کے تنگ تاریک گھروں میںخوشی کے آنسواورآس ِ مستجائی کی دعائیں بھی اُن کی منتظر ہوتی ہیںلیکن اگر یہ منظر یکلخت دھواں دھواں کر دیا جائے اور ماں باپ ٗ بہن بھائیوں ٗ بیوی بچوں اورعزیز و اقارب کو یہ اطلاع ملے کہ آپ کے ’’بے گناہ مزدور‘‘ کسی سیاسی پراکسی کی بھینٹ چڑ گئے ہیں تو سوچیں کہ اُن گھروں میں کیا کہرام مچتا ہوگا ۔ میں نے زندگی کا ایک طویل حصہ اپنے مسافر باپ کے انتظار میں گزار اہے جس سے میری ملاقات دو سال بعد صرف ایک مہینے کیلئے ہوتی تھی سو میں مسافروں کے گھروں کے حالات اورحادثات کی صورت میںجنم لینے والے کرب و اذیت سے بخوبی واقف ہوں ۔
فرسٹ ائیر میں تھا تو میرے ٹیچر سید تجمل شاہ جو ڈپی کمشنر کوئٹہ تھے اُن کی شہادت کی خبر سنی ٗ جو مسلکی جنگ میں کام آئے اور اُس کے بعد آج تک کیا کیا سنا ہے اُس کیلئے اقساط میں کالم نہیں کتابوں کے والیم لکھنا ہوں گے ۔ کبھی بھٹو نے بے نظیر کے نام اپنے خط میں لکھا تھا کہ ’’ اگر تم بلوچوں سے ملی تو انہیں کہنا کہ تم بہادر مائوں کے بیٹے ہو۔‘‘ یہ خط ’’ میری بیٹی ‘‘ کے عنوان سے ذوالفقار علی بھٹو نے محترمہ بے نظیر کی سالگرہ پر انہیں جیل سے لکھا تھا ۔ امریکہ کے دونوں بدمعاشوں : اسرائیل اور بھارت کو گزشتہ دنو ں اقوام ِ عالم کے سامنے منہ کی کھانا پڑی ہے اور اب امریکہ کو یقین ہو چکا ہے کہ دنیا ئے اسلام میں صرف پاکستان ہی واحد ملک ہے جو اُس کی بربریت اورغنڈہ گردی کا منہ توڑ جواب دے سکتا ہے۔ بھارت خطر ناک دشمن تھا لیکن مودی سرکار نے اُسے خطر ناک ترین بنا دیا ہے ۔ بلوچستان میں جاری دہشتگردی جنہیں ہم دو چار ہزار دہشتگردوںکی کارروائی بتا کر آگے کا سفر شروع کرتے ہیں وہ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ بی ۔ ایل ۔ اے کے دہشتگر د آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا کام پنجاب کے خلاف کردیتے ہیں جس سے پنجاب کا غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف گزشتہ چند سال میں پنجاب میں کوئٹہ ہوٹلز کی بھر مار نے حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ اب یقینا ہمیں دہشتگرد تو نظر نہیں آتے لیکن ہر موڑ پر ایک کوئٹہ ہوٹل نظر آ جاتا ہے اور میرا ذاتی تجزیہ مجھے بار بار اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ یہ بی ۔ ایل ۔ اے کی انوسٹمنٹ ہے کیونکہ جب تک انہیں پنجاب سے لاشیں نہیں ملیں گی ان کی علیحدگی پسند تحریک اور بلوچ سماج کی حمایت بھی حاصل نہیں ہو گی ۔ دوسری طرف پنجابیوں کا شناختی کارڈ دیکھ کر انہیں شہید کرنا پنجاب کے نوجوانوں اور پنجابی قوم پرستوں کو مشتعل کرنے کی سازش ہے ۔ ہمیں اس سازش کاشکار نہیں ہونا بلکہ ایک مہذب شہری کی طرح اپنے اداروں پر اعتماد کرنا ہے کہ مہذب شہری کبھی اجنبی لشکروں کا حصہ نہیں بنتے ۔ انٹیلجنس اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ پنجاب میں کھلے کوئٹہ ہوٹلوں سے مکمل باز پرس کر کے انہیں پنجاب میں کام کی اجازت دی جائے اور پنجاب کے عوام کو باقاعدہ آگاہ کیا جائے کہ یہ لوگ چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں کے اتنے بڑے کرائے کیسے ادا کر رہے ہیں ؟۔
زندہ سماج میں حادثے ہوتے رہتے ہیں ٗ یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن اگر ریاست زخمیوں اور دنیا سے چلے جانے والوں کے اہل ِ خانہ سے تعزیت نہ کرے تو یہ زیادہ خوفناک بات ہے ۔ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا دعوی کرنے والوں کو تو اس کی توفیق نہیں ہو گی لیکن اگر پنجاب بھی اُن کے زخموں پر مرہم نہیں رکھے گا تو حکومت سماجی حمایت سے محروم ہو جائے گی ۔ دنیا پور کے دو بھائی جابر طور اور عثمان طور جو باپ کے جنازے میں شرکت کیلئے روتے ہوئے آ رہے تھے ٗ انہیں شہید کردیا گیا اور پھر جمعہ کی صبح باپ اور شام کو دونوں بیٹوں کی تدفین کی گئی ۔شہداء کی والدہ نے انتہائی صبر کے ساتھ بیٹوں کو دنیا سے رخصت کیا اور شہیدوں کو ملک پر قربان کر نے کا خوبصورت پیغام دیا ۔ خانیوال میں شہید ہونے والے لانس نائیک غلام سعید کے 6 بچے ہیں اور سب سے چھوٹی بیٹی ابھی چھ ماہ کی ہے ۔ غلام سعید کا جسد خاکی پہنچنے کے تھوڑی ہی دیر بعد اُس کے والد بھی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔یہ ہوتی ہے جوان بیٹوں کی موت اور اُس کا صدمہ ۔ وفاقی وزیر مواصلات و مرکزی صدر استحکام ِ پاکستان پارٹی عبد العلیم خان ٗ مرکزی سیکرٹری جنرل میاں خالد محمود ٗصدر پنجاب رانا نذیر احمد خان ٗ جنرل سیکرٹری پنجاب و ایم پی اے شعیب صدیقی اوربریگیڈئر (ر) قیصرماہے کی معیت میں لانس نائیک غلام سعید اور دنیا پور میں شہید ہونے والے بھائیوں کے گھر تعزیت کیلئے پہنچے ۔ عبد العلیم خان نے شہداء کے ورثہ کے پہلو میں کھڑ ے ہو کر اُس بہادر ماں کو سلام پیش کیا جس نے دو بیٹوں کی شہادت کے بعد بھی پاکستان کے وقار کو ترجیح دی ۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد پاکستان میں بد امنی کی فضا چاہتے ہیں جس کی انہیں ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ٗ ہم شہداء کے وارث ہیں اور ایسی گھنائونی حرکت کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا ۔ عبد العلیم خان نے سپہ سالار ِ پاکستان فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مکمل کامیابی کا یقین دلاتے ہوئے کہا:’’ اس دہشتگردی سے سارا پاکستان متاثر ہے اور شہید ہونے والے بھی غریب گھروں کے لوگ تھے ۔انہیں بھی انہی مسائل کا سامنا تھا جو بلوچستان ٗ سندھ اور سرحد کے غریب عوام کو ہے ۔ عبد العلیم خان نے یقین دلایا کہ ہم اپنی جان سے تو دستبردار ہو سکتے ہیں لیکن پاکستان کے دفاع اور پاکستانی عوام کی حفاظت سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے کہ یہ ہماری آخری پناہ گاہ ہے ٗ پاکستان کے دشمنوں کو منہ کی کھانا پڑے گی اور ان کا پیچھا جہنم کے دروازے تک کیا جائے گا ۔‘‘
میں سمجھتا ہوں کہ زندہ قومیں بُرے وقت سے نکل کر ہی بڑی قومیں بنتی ہیں اور یہ پاکستان پر مشکل ترین وقت ہے کیونکہ ہمیں اس بار صرف بیرونی نہیں اندرونی ملک دشمنوں سے بھی نمٹنا ہے ٗ اس کیلئے صرف صبر اور عزم کے ساتھ اپنے اداروں کا ساتھ دینا ہو گا ۔
پنجابیوں کا قتلِ عام انارکی پھیلانے کی سازش
09:28 AM, 15 Jul, 2025