بھارت میں میڈیکل کالج کی بندش، کشمیری مسلمان طلبہ متاثر

04:06 PM, 15 Jan, 2026

جموں/کشمیر: بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں واقع شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (SMVDMI) کو بند کر دیا گیا ہے، جس سے درجنوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔ نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے 6 جنوری کو کالج کی منظوری واپس لی، جس کی باضابطہ وجہ انفراسٹرکچر کی کمی بتائی گئی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی اور مذہبی دباؤ بھی اس فیصلے میں اثر انداز ہوا۔

کالج کے پہلے بیچ میں شامل 50 طلبہ میں سے 42 مسلمان تھے، جو میرٹ کی بنیاد پر منتخب ہوئے تھے۔ اس میں سات ہندو اور ایک سکھ طالب علم بھی شامل تھے۔ ہندو انتہا پسند گروپس اور بی جے پی سے وابستہ رہنماؤں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ہندو ڈونیشن سے چلنے والے ادارے میں مسلمانوں کو داخلہ نہیں ملنا چاہیے، جس کے بعد کالج کی بندش عمل میں آئی۔

رپورٹ کے مطابق  طلبہ اب اپنے گھروں واپس لوٹ چکے ہیں، اور کئی طلبہ بغیر کسی متبادل میڈیکل کالج کے رہ گئے ہیں۔حکومتِ جموں و کشمیر نے اعلان کیا ہے کہ متاثرہ طلبہ کو دیگر میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ ان کا تعلیمی نقصان کم سے کم ہو۔یہ واقعہ بھارت میں تعلیم کے شعبے میں مذہب اور سیاست کے بڑھتے اثرات پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

 بھارت میں میڈیکل کالجوں میں داخلہ نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (NEET) کے ذریعے ہوتا ہے، جو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے تحت منعقد ہوتا ہے۔ ہر سال بیس لاکھ سے زائد طلبہ اس امتحان میں شریک ہوتے ہیں، جبکہ ایم بی بی ایس کی نشستیں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار ہوتی ہیں۔

مزیدخبریں