یو اے ای صرف ہمارے حکمرانوں کاہی پیارا نہیں مختلف وجوہات کی بناءپر ہمیں بھی اب بہت اچھا لگتا ہے ، یہ میرا یو اے ای کا شاید بیسواں دورہ تھا ، میں ہر بار صرف سیر سپاٹے یا شاپنگ وغیرہ کر کے ہی واپس آجاتا تھا ، یا پھر دوست احباب سے ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر کچھ گپ شپ ہو جایا کرتی تھی ، اس بار یو اے ای کو میں نے ذرا مختلف زاویوں سے دیکھا ، یہاں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے ، ان میں زیادہ تر مختلف اقسام کے کاروباروں سے وابستہ ہیں ، بے شمار مختلف محکموں یا شعبوں میں جابز بھی کرتے ہیں ، یہ نہیں کہ دبئی میں کرپشن یا فراڈ وغیرہ نہیں ہوتے مگر وہاں کوئی فراڈ یا کرپشن ایسی نہیں ہوتی جس سے ریاست ، م±لک یا معاشرے کو کوئی نقصان پہنچے ، صرف انفرادی سطح پر کچھ لوگ کچھ خرافات میں مبتلا ہوتے ہیں ، ان میں جو پکڑا جاتا ہے قانون کے مطابق ا±سے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، پورے یو اے ای میں بڑے کرائم یا جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں ، صرف چوری چکاری یا فراڈ وغیرہ ہوتے ہیں جن میں بدقسمتی سے ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی ملوث ہے ، یو اے ای میں مقیم بے شمار دوستوں نے مجھے بتایا بلکہ ا±نہوں نے مجھے یو اے ای کی جیلوں میں وزٹ کی دعوت بھی دی ، وہاں جیلوں میں زیادہ تر بنگالی ، پاکستانی ، ہندوستانی اور رشین بند ہیں جو فراڈ چوری اور اس نوعیت کے دیگر جرائم میں ملوث ہیں ، گزشتہ ہفتے وہاں میرے ایک عزیز شہباز بٹ کے ساتھ پراپرٹی کے ایک معاملے میں ایک عربی نے فراڈ کیا ، وہ ا±س فراڈئیے کے خلاف عدالت میں چلے گئے ، میں نے ا±س سے پوچھا ”اس فراڈئیے کو اس بناءپر کوئی رعایت تو نہیں مل جائے گی کہ ا±س کا یا ا±س کی بیوی کا تعلق ایک عرب ملک سے ہے ؟ وہ بولا”بالکل ایسے نہیں ہوگا ، پورے یو اے ای میں فراڈ کیسز میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جاتی“ ، یو اے ای پر دنیا کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے وہاں کسی کے ساتھ بڑا یا چھوٹا فراڈ کر کے کوئی نہیں بچ سکتا ، قانون کے مطابق اے سخت سزاو¿ں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، چھوٹے موٹے معاملات میں سفارش چل جاتی ہے پر ایسے نہیں ہوتا بڑے بڑے جرائم میں ملوث لوگ بااثر شخصیات کی سفارشوں سے بچ نکلیں ، یہی وجہ ہے پوری دنیا سے بڑی تعداد میں لوگ یو اے ای میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جن میں بہت سے پاکستانی بھی ہیں ، بے شمار لوگ جائز ناجائز طریقوں سے پاکستان سے اپنا سرمایہ صرف اس لیے یو اے ای منتقل کر رہے ہیں ایک تو وہاں ٹیکسوں کی بھرمار نہیں ہے جیسے ہمارے ہاں ہے ، علاوہ ازیں پاکستان میں سرمایہ دار کو عزت اور جان و مال کا وہ تحفظ بھی حاصل نہیں جو یو اے ای یا بعض دوسرے ممالک میں ہے ، مختلف کاروباروں میں ویسا منافع بھی نہیں ملتا جیسا یو اے ای میں مل جاتا ہے ، پوری دنیا میں کرپشن ہوتی ہے ، المیہ یہ ہے پاکستان میں ”کرپشن کا کاروبار“ ہوتا ہے ، ایمانداری سے بزنس وغیرہ کرنے والوں کو جب با امر مجبوری اس لعنت کا حصہ بننا پڑتا ہے یہ بات ا±ن کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے ، ناجائز کاموں کے لیے چلیں رشوت دینا پڑتی تھی ، حالات اب یہ ہوگئے ہیں جائز کاموں کے لیے بھی خوارہونا پڑتا ہے ، رشوت دینا پڑتی ہے ، سسٹم یا نظام جان بوجھ کر اتنا پیچیدہ رکھا ہے اپنے جائز کام رشوت دے کر کروانا یا نکلوانا انتہائی ایماندار لوگوں کی بھی مجبوری بن گئی ہے ، اسی لیے لوگ یہاں سے بھاگ رہے ہیں ، انتہائی کریمینل اور کرپٹ سسٹم کو ہلکا سا ٹھیک کرنے کی کوئی کوشش اگر شروع کر دی جائے میرا ایمان ہے پاکستان سے تیزی سے بھاگتے ہوئے لوگوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہو جائے گی ، یو اے ای میں اس وقت سب سے زیادہ چمکنے والا کاروبار پراپرٹی کا ہے ، مختلف ممالک سے یو اے ای آنے والے سرمایہ کار اپنی زیادہ تر سرمایہ کاری اسی شعبے میں کر رہے ہیں ، دبئی میں پراپرٹی کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں ، چھوٹے موٹے سرمایہ کار دبئی میں پراپرٹی خریدنے کا اب تصور بھی نہیں کر سکتے ، چھوٹے سے فلیٹ کی قیمت بھی پاکستانی رقم میں کروڑوں اربوں کی بنتی ہے ، البتہ جنہوں نے دبئی میں پرانی پراپرٹیاں خریدی ہیں ا±ن کی پانچوں گھی میں ہیں ، اپنی اگلی زندگی میں وہ اب کچھ بھی نہ کریں دبئی کی چھوٹی موٹی پراپرٹی ہی ا±ن کے لیے کافی ہے ، یو اے ای کی دوسری ریاستوں شارجہ ، ا±م القوئین اور عجمان وغیرہ کے مقابلے میں دبئی میں مختلف پراپرٹیز کے کرائے بھی بہت زیادہ ہیں ، چھوٹے موٹے کاروبار کرنے والوں کا دبئی میں رہائش رکھنا ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ، چنانچہ بے شمار لوگ جو دبئی میں چھوٹا موٹا کاروبار یا جاب وغیرہ کرتے ہیں ا±نہوں نے اپنی رہائش شارجہ یا عجمان وغیرہ میں رکھی ہوئی ہے ، اس سلسلے میں ا±نہیں بس ایک دشواری کا سامنا ہے ، شام یا رات کو وہ جب اپنی جاب یا کاروبار سے فارغ ہوکر دبئی سے شارجہ یا عجمان وغیرہ جاتے ہیں ا±نہیں اندھا دھند ٹریفک کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، دبئی سے شارجہ کا راستہ صرف بیس سے پچیس منٹ کا ہے جو اس اندھا دھند ٹریفک کی وجہ سے بعض اوقات دو سے تین گھنٹوں میں طے ہوتا ہے ، اس عذاب سے بچنے کے لیے بے شمار لوگ اب اپنے کاروبار بھی شارجہ یا عجمان وغیرہ میں شفٹ کر رہے ہیں ، اور جو دبئی میں جابز کرتے ہیں ا±ن کی بھی کوشش اور خواہش یہی ہے ا±نہیں کوئی جاب شارجہ یا عجمان میں ہی مل جائے ، دبئی میں صرف پراپرٹی ہی نہیں دوسری اشیاءبھی بہت مہنگی ہیں ، چنانچہ بے شمار لوگ شاپنگ وغیرہ کے لیے بھی اب یو اے ای کی دوسری ریاستوں کو ترجیح دیتے ہیں ، خصوصاً یو اے ای کی ایک ریاست ا±م القوئین بہت ہی سستی ہے ، مثال کے طور پر دبئی میں جو چیز ہمیں سو درہم میں ملتی ہے ا±م القوئین میں وہ آسانی سے اس سے تقریبا آدھی قیمت پر مل جاتی ہے ، ا±م القوئین خوبصورت بھی بہت ہے ، خصوصاً اس کا کائٹ بیچ دیکھنے کے لائق ہے ، اس ریاست میں چونکہ ابھی زیادہ آبادی نہیںہے چنانچہ یہاں سکون بھی ہے ، مگر اب لوگ بڑی تیزی سے یہاں گھر بنا رہے ہیں دوسری ریاستوں سے ا±م القوئین شفٹ ہو رہے ہیں ، س±نا ہے اس کے قریب ہی دنیا کا سب سے بڑا ایئرپورٹ اور کسینو بھی بن رہا ہے ، اس لیے بھی یہاں پراپرٹی کی قیمتیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں ، دنیا بھر سے پراپرٹی میں دلچسپی رکھنے والوں کی توجہ کا یہ مرکز بنتا جا رہا ہے ، اور اپنی خوبصورتی کے اعتبار سے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز بنتا جا رہاہے۔ (جاری ہے)
ہمارا پیارا یو اے ای
09:05 AM, 15 Jan, 2026