امریکا اور اس کے اتحادیوں نے دعویٰ کیا تھاکہ صدام حسین کے پاس کیمیائی اور ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار موجود ہیں جو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، یہ دعویٰ کبھی ثابت نہ ہوا بلکہ برطانیہ کے اس وقت کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اس دعویٰ کو جان بوجھ کر گھڑنے کا اعتراف بھی کیا، لیکن بعد میں عراقی عدالت نے صدام حسین کے خلاف مقدمہ چلایا اور 2006 میں انہیں پھانسی دی گئی امریکہ شروع سے ہی دوسرے ممالک میں مداخلت اور طاقت کے نشے میں دوسرے ملکوں پر چڑھائی کرکے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے اس میں کچھ ممالک بھی اس کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ ہوتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ شائد امریکہ کی چاپلوسی کرکے اس کے ظلم کا شکارہونے سے بچ جائیں گے وینزویلا کے بعد اگلہ نشانہ کون ہو گا یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن ایران میں حالیہ پرتشدد مظاہروں کے پیچھے بھی امریکہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے کیونکہ اسرائیل نے جب پنگا لیا تو ایران نے اس کی چنگی طرح”منجھی “ ٹھوکی تھی امریکہ بھی اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا تھا ساتھ میں رضا شاہ پہلوی کے بیٹے کو بھی اس نیت سے بلوایا گیا کہ ایران میں اپنی پاکٹ حکومت بنائی جا سکے جب ایرانی قوم نے دیکھا کہ یہ تو معاملہ ہی کچھ اور ہے تو امریکہ کےخلاف سڑکوں پر نکل آئے اور رضا پہلوی مایوس ہو کر واپس چلا گیا اور ٹرمپ کو بھی ان فالو کردیا اب ایک بار پھر جنگیں رکوانے کے دعویدار ٹرمپ ایران میں انار کی پھیلانے کی ٹھان لی ہے اور مہنگائی کے نام پر کرائے کے آدمی بجھواکروہاں انتشار کو پروان چڑھایا جا رہا ہے اور ساتھ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر ایرانی مظاہرین کی ہلاکتیں ہوئیں تو کارروائی کی جا سکتی ہے جس کے جواب میں ایرانی سپریم کمانڈرآیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ دوسروں کے مسائل حل کرنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل حل کرے حالانکہ ایران میں معاشی مشکلات کی بڑی وجہ ظالمانہ امریکی پابندیاں ہیں، امریکا ہمارے خلاف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور میڈیا جنگ بھی کر رہا ہے، امریکا جھوٹی معلومات، فوجی دھمکیوں اور تشدد پر اکسانے پر عمل پیرا ہے جبکہ جرمن صدر ٹرمپ پر برس پڑے ہیں اور انہوں نے کہا کہ
طاقت ور ممالک چھوٹے ممالک کو اپنے تابع بنالیں گے،ہمیں مل کر دنیا کو لٹیروں کے ٹھکانے میں بدلنے سے بچانا ہوگا، جرمنی کے صدر فرینک والٹر اسٹین مائر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی ہے برلن نے خبردار کیا ہے کہ عالمی قوانین اور اتحاد کو نظرانداز کیا گیا تو دنیا ایک ایسی جگہ بن جائے گی جہاں طاقتور ممالک کمزور ریاستوں کو اپنی مرضی کے تابع کرلیں گے جرمنی کی بات تو سچ ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ ”بلی“کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟دوسری طرف ٹرمپ نے دنیا بھر میں وہ اپنی فوج کو کسی بھی ملک پر حملے کا حکم دے سکتے ہیں کا بیان دے کر دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے امریکی صدر نے کہا کہ کسی ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ وہ صرف اپنے طے کردہ اخلاقیات کے اُصول اور اپنی سوچ سے لیتے ہیں کسی اور کی پروا نہیں؟ٹرمپ کی دھمکی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ چوہدراہٹ کے نشے میں دنیا کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے دوسری طرف ٹرمپ امن کے نوبیل انعام کےلئے مرا جا رہا ہے ادھر وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا کی اگلے ہفتے امریکی صدر سے ملاقات ہونے کا امکان ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ ٹرمپ کو اس کی ہاں میں ہاں ملانے والی شخصیت مل گئی ہے اور وہ اب تیل پر قبضہ دھڑلے سے کرے گا اسی لئے امریکی صدر نے وینزویلا پر متوقع دوسرے فوجی حملے کو منسوخ کر دیا کیونکہ پنجابی کی مثال ہے اگر بندہ ”گڑ“ دینے سے مرتا ہے تو اسے زہر دینے کی کیا ضرورت ہے جب اپوزیشن رہنما کے ذریعے معاملات امریکہ کے حق میں جا رہے ہیں تومزید دشمنی مول لینے کی کیا ضرورت ہے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا نے گرین لینڈ حاصل نہ کیا تو روس یا چین اس پر قبضہ کر لیں گے جو امریکہ کوکسی صورت قبول نہیں ،جنگیں رکوانے کے دعویدار ٹرمپ آٹھ جنگیں تورکوادیں لیکن غزہ میں جو انسانی المیہ برپا ہوا جس میں لاکھوں بے گناہ افراد جان سے گئے وہ بھی امریکہ کی چھترچھاﺅں میں ہوا، وینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ کسی طرح بھی قابل تعریف عمل نہیں کہ ایک خودمختار ملک کے صدر کو اہلیہ سمیت پکڑ کر لے جانابد ترین غنڈہ گردی ہے اس کے بعداب ایران کے خلاف پھرحملوں کے مختلف آپشنزکی دھمکیاں دی جا رہی ہیں یہ تمام اقدامات دنیا کو مزید غیر محفوظ بنا رہے ہیں ٹرمپ کے مطابق گرین لینڈ کو روس اور چین کو روکنے کے لیے اپنی ملکیت بنائیں گے یہ درحقیقت عالمی امن کے لیے ایک خطرناک اعلانِ جنگ ہے، روس اور چین کا نام لے کر جارحیت کو نظریہ ضرورت قرار دینا عالمی قوانین کی توہین ہے،گرین لینڈ پر حملہ کرنے کے بیانات خود امریکہ میں بھی سنجیدہ حلقے جابرانہ سوچ قراردے رہے ہیںیہ روش نیٹو جیسے اتحاد کو توڑنے اورعالمی طاقتوں کے درمیان ٹکرا¶ کا سبب بنے گی ، عالمی برادری کو اس جنون پر واضح، سخت اور متحد ردِعمل دینا ہوگا، ورنہ قیمت پوری انسانیت ادا کرے گی ، امریکہ چاہتا ہے روس اور چین وہاں اثر و رسوخ قائم نہ کر سکیں اپنا تسلط قائم کرنے کےلئے تیسری دنیا میں امریکہ نے ایجنٹ چھوڑ رکھے ہیں، ان کو ڈالر دیئے جاتے ہےں، اگر ملک کے اندر حالات بہتر ہوں تو ایجنٹ پیدا نہیں ہونگے، لیکن امریکہ یہ کرنے نہیں دیتا اور وہاں آمریت اور بادشاہت کو فروغ دیتا ہے جیسا کہ اب ایران میں ہو رہا ہے بتایا جائے کیا احتجاج صرف ایران میں ہو رہے ہیں؟کیا دیگر ممالک میں کوئی پرابلم نہیں کہ وہاں کسی کو احتجاج ہوتا نظر نہیں آ رہا دنیا کے ہر خطے میں احتجاج ہو رہے ہیں، فرانس میں پنشن اصلاحات کے خلاف لاکھوں سڑکوں پر آتے ہیں، خودامریکہ میں نسلی امتیاز، مہنگائی اور جنگی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے ہوتے ہیں، بھارت میں کسانوں، اقلیتوں اور دلتوں کے احتجاج جاری ہیں، یورپ میں مہاجرین، توانائی بحران اور یوکرین جنگ کے خلاف آوازیں اٹھتی ہیں، خلیجی ممالک میں بھی خاموش مگر سخت ریاستی دبا¶ کے سائے میں ناراضیاں موجود ہیں فرق یہ ہے ان مظاہروں کو وہ سرخیاں نہیں ملتیں جو ایران کو دی جاتی ہیں پھر یہی سوال ہے کہ ایران ہی کیوں نشانے پر ہے اس کی بنیادی وجہ احتجاج نہیں، بلکہ ایران کوتوڑنا درکار ہے جو سال ہا سال کی پابندیوں کے باوجود جھکنے کو تیار نہیں ایران کھل کر امریکی و صہیونی نظامِ کو چیلنج کرتا ہے فلسطین، لبنان اور مزاحمتی محاذ کی عملی حمایت کرتا ہے تیل، معیشت اور دفاع میں خود مختاری کا دعویٰ رکھتا ہے اور سب سے بڑھ کر، اپنی خارجہ پالیسی کو واشنگٹن کی مرضی سے مشروط نہیں کرتا یہی جرم ہے جس کی سزا دی جا رہی ہے۔
دنیا کو فتح کرنے کا ناکام مشن
09:04 AM, 15 Jan, 2026