سمندر پار پاکستانیوں کیلئے صرف بیان بازی نہ کریں

09:03 AM, 15 Jan, 2026

2014ءمیں پی ٹی آئی کے جلسوں میںہمیشہ کی طرح ملک کے خلاف زہر افشانی کی گئی جس میں عوام کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ ” بجلی کے بل نہ بھریں، بیرون ملک پاکستانی اپنی رقومات پاکستان نہ بھیجیں“ یہ عمل آج بھی جاری ہے ہمشیرہ نے یہ بیڑا اٹھایا ہوا ہے اور بیرون ملک پاکستانیوںسے ویڈیو خطاب کرکے انہیں ہدایات دے رہی ہیںکہ پاکستان زرمبادلہ نہ بھیجیں جب تک ”بھیا “رہا نہ ہوجائے ، مگر بیرون ملک پاکستانی ملک کے خلاف کسی بیان، کسی بھی سوشل میڈیا کی بات کو ’دیوانے کی بڑ“ سمجھتے ہوئے بھر پور ریکارڈ ذرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں اور روزبروز اس میں اضافہ ہورہاہے حکومت کا دعویٰ ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کا حکومتی پالیسیوں پر اعتبار ہے یہ دعویٰ بھی میرے نزدیک خواہ مخوا کا ہے اصل بات یہ ہے کہ سمندر پار پاکستانی بھی اپنے پیارے وطن سے اسی طرح محبت سے سرشار ہیںجسطرح ملک کے اندر ، وہ وطن عزیز کی ترقی کے خواہاں ہیںمگر افسوس کی بات یہ ہے جنکی زرمبادلہ بھیجنے کی تعریفوںکے پل باندھے جاتے ہیں ،معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہتے کہتے وزراءاور حکومت کا منہ دکھ جاتا ہے انہیںاس محب وطنی کا کیا صلہ ملتا ہے؟؟؟ یہ بڑا اہم سوال ہے بیرون ملک پاکستانیوںکو سہولیات پہنچانے کےلئے حکومت نے کئی ادارے بنائے ہیں جنکی کروڑوں کی تنخواہیں اسی زرمبادلہ سے دی جاتی ہیں انہیں مسائل کا ادراک ہی نہیںہے ، کوئی پائیدار پالیسی نہیںجس سے یہ محب وطن بیرون ملک پاکستانی مستفید ہو سکیں صرف بیان بازی ہے اور وہ بیرون ملک پاکستانیوںسے استفسار کرتے ہیں کہ انہیںمسائل کی نشاندہی کریں اگر مسائل کی نشاندہی بھی بیرون ملک پاکستانیوں کو کرنا ہے تو وہ خود کس مرض کی دواءہیں؟؟ دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور یہ تعداد محض اعداد و شمار نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے مگر اس ہجرت کی اصل کہانی روزگار کی تلاش سے کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہے۔بیرونِ ملک جانے والا ہر پاکستانی ایک سپاہی کی طرح ایسے محاذ پر قدم رکھتا ہے جو بظاہر خاموش ہے مگر حقیقت میں ایک مسلسل جدوجہد کا میدان ہے۔ یہ محاذ عسکری سرحدوں سے مختلف ضرور ہے مگر اس کے تقاضے کم نہیں۔ سرحدوں پر کھڑے سپاہی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کی حفاظت کرتے ہیں اور انہی کی طرح اوورسیز پاکستانی بھی اپنے حصے کی قربانیاں جذباتی، معاشی، قانونی اور سماجی دبا¶ کی صورت میں دیتے ہیں جو حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کے باعث مزید سخت ہو جاتی ہے۔ بیرون ملک سے ترسیلات گزشتہ سال 2025ءمیں 40ارب 18 کروڑ ڈالر ہیں جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی رقم ہے اصل مسئلہ اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب یہ سپاہی اپنے وطن واپس آتے ہیں۔ یہاں انہیں وہ عزت، سہولت اور شناخت نہیں ملتی جس کے وہ حقیقی مستحق ہیں۔ زرمبالہ لیتے وقت انہیں سمندر پار پاکستانی کہا جاتا ہے اور وہ جب وطن آتے ہیں یا انکے بچے پاکستان تعلیم کیلئے آتے ہیں تو انکی شناخت کو”غیر ملکی طلبا “ فارنر ، اور اجنبی “ کی فہرست میں ڈال دیا جاتاہے تمام ادارے چاہے وہ تعلیمی ادارے ہوں یا کوئی دفتر فیسوں، فنڈز کی مد میں انکے والدین کی کھال ادھیڑنا شروع کردیتے ہیں انہیں فارنر یا اجنبی کی فہرست میں رکھنا ایک ایسی انتظامی ناانصافی ہے جو ان کی دہائیوں کی خدمات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ وہ تارکینِ وطن ضرور ہیں مگر پاکبان ہیں اپنے وطن کے محافظ اور اپنی معیشت کے معمار ہیں۔ایک پاکستانی شہری کے بچے کو اپنے ہی ملک میں غیر ملکی تصور کرنا پالیسی سازی کی سنگین خامی ہے جسے بہرحال درست کیا جانا چاہئے۔ اس کی تازہ مثال میڈیکل کالجز میں اوورسیز پاکستانیوں کے کوٹہ میں کمی اور فارنرز کے برابر فیس مقرر کرنا ہے جو کہ ساٹھ ہزار روپے سے بڑھا کر دس ہزار ڈالر کر دی گئی ہے یہ اقدام پنجاب میں اٹھایا گیا جہاںبنت نواز شریف پنجاب کو خوبصورت اور سہولیات پہنچانے کیلئے مشقت کررہی ہیںیہ اقدام غیر منصفانہ ہے بلکہ قومی شعور کے بھی خلاف ہے۔ یہ فیصلہ اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بچے پاکستانی شناخت رکھتے ہیں، پاکستانی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور ان کا تعلق اسی مٹی سے ہے۔اوورسیز پاکستانیوں کے لئے قانونی اور انتظامی رکاوٹیں بھی ایک الگ محاذ ہیں۔ موبائل فون رجسٹریشن پر بھاری فیسیں، اثاثہ جات کی درآمد پر پیچیدہ ضوابط، بینکنگ کے قوانین اور سرکاری دفاتر میں عدم تعاون یہ سب مسائل ان کے لئے ایسی جنگ بن جاتے ہیں جو وہ اپنی محب وطنی کے صلے میں لڑتے ہیں حیرت انگیز طور پر وہی شخص جو بیرونِ ملک پاکستان کا سفیر سمجھا جاتا ہے وطن واپس آتے ہی ایک اجنبی بن جاتا ہے،اور یہ جب چند دن چھٹیوںپر آتا ہے اسکی ساری چھٹی ان مسائل سے لڑائی میں گزر جاتی ہے بطور قوم ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اوورسیز پاکستانی صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے والے افراد نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں دو حصوں میں تقسیم کر دی ہیں ایک حصہ وطن کے لئے اور دوسرا گھر والوں کے لئے۔ ان کی عزت، ان کی سہولت، ان کے مسائل کا حل اور ان کی رہنمائی قومی ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ جودل وطن سے دور رہ کر بھی وطن کے لئے دھڑکتے ہیں وہی اصل قومی سرمایہ ہیں۔اوورسیز محاذ کے ان خاموش سپاہیوں کو سلام جو اپنے وطن کی معیشت، اپنے خاندان کی امیدوں اور اپنی شناخت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارے ارباب اقتدار پڑوس یا کسی ملک کی برائی پر نظر رکھتے ہیں انکی 
اچھائیوںپر کیوںنہیں ؟ جیسے ہماری مہنگی پاسپورٹ فیسیں، فلپائن میں وہ اپنے بیرون ملک عوام کو وطن واپسی پنشن کی سہولیات دیتے ہیں۔ میری تینوں بیٹیوں نے جدہ میں ابتدائی تعلیم فلپائنی سکول سے حاصل کی تھی اور میں ششدر رہ گیا جب سالانہ امتحان کے بعد سال کے آخر میں مجھے میری جمع شدہ فیسوںکا حساب دیتے ہوئے اپنے اخراجات نکال کر مجھے کچھ رقم واپس بھی کی کہ تمھارے بچوںپر ہمار اجو خرچ ہوا اسکے بعد یہ تمھارے بقیہ ہم واپس کررہے ہیںشائد وہ اسلئے کرتے ہوںکہ وہ مسلمان نہیںہیںمزید عمارتیںکھڑی کرنے کا والدین کی رقم سے انہیں شوق نہیں ہم تو لاکھوں اپنے فنڈ میںرکھتے ہیں پنشن کے حوالے سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جب یہی پاکستانی عمر کے اس حصے میں داخل ہوتے ہیں جہاں آرام اور تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے تو ریاستی سطح پر ان کے لیے کوئی باضابطہ پنشن نظام موجود نہیں ہوتا۔ یہ مسئلہ محض فلاحی نہیں بلکہ قومی پالیسی کا ہے اوورسیز پاکستانی ریاست کے خیر خواہ معیشت کے مضبوط ستون اور پاکستان کے سفیر ہیں سوال یہ نہیں کہ کیا انہیں پنشن دی جا سکتی ہے سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنی اس ذمہ داری کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے؟۔

مزیدخبریں