اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پارلیمانی امور کو ہموار چلانے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے قانون سازی کا مکمل اختیار اتحادیوں کی باہمی مشاورت سے مشروط کر دیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس نے وزارتِ قانون کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ پیپلز پارٹی کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی سرکاری بل ایوان میں نہ لایا جائے۔
وفاق نے قانونی اور پارلیمانی امور پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے اتحادی جماعتوں کی ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کر دی ہے، جس کی سربراہی پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما شیری رحمان کریں گی۔ اب پارلیمان میں کسی بھی بل کی آمد سے قبل اس کا مسودہ شیری رحمان کی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کی حتمی منظوری کے بعد ہی اسے 'سرکاری بل' کی حیثیت حاصل ہوگی۔
وزیراعظم ہاؤس نے وزارتِ قانون و انصاف کو پابند کیا ہے کہ وہ قانون سازی کے ہر مرحلے پر اتحادیوں کے ساتھ ڈیٹا اور معلومات شیئر کرے۔
حکومت کے اس فیصلے کو پیپلز پارٹی کے ان تحفظات کے جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اہم فیصلوں میں اتحادیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ اب قانون سازی کا توازن پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں رہے گا۔
قانون سازی پر 'ڈیڈ لاک' کا خاتمہ: پیپلز پارٹی کی مشاورت کے بغیر کوئی بل پیش نہ کرنے کا فیصلہ
11:19 AM, 15 Feb, 2026