بسنت پر ڈھول بجانے کا سلسلہ ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا تھا کہ ساتھ ہی کسی انجانی ڈیل کے ڈھول بجنے شروع ہوگئے ہیں ۔مزے کی با ت یہ ہوئی کہ بسنت پر ڈھول بجانے والے بھی پکے پروفیشنل تھے اور ڈیل کے ڈھول بجانے والے بھی ”پروفیشنل “ ہی ہیں۔عمران خان صاحب کی آنکھ خراب ہونے کی رپورٹ سامنے آتے ہی ان ڈھولچیوں کی پرفارمنس کمال کی ہوگئی ہے۔کئی ایک تو حکومت کو گھر بھی بھیج چکے ہیں اور باقی ماندہ بس چند ماہ یا ہفتوں میں نیاپاکستان واپس لانے کا نقارہ بجائے جارہے ہیں ۔آج کل اس طرح کے ڈھول بجانا ڈیجیٹل میڈیا چلانے والوں کی مجبوری بنی ہوئی ہے اور یہ ڈیجیٹل میڈیا میں ایک قدرتی عمل بن جاتاہے آپ جس طرح اپنے دیکھنے سننے والوں کو ٹرین کرتے ہیں وہ آپ سے اسی طرح کا کانٹینٹ ڈیمانڈ کرتے ہیں آپ اس پٹری سے اترنے کی کوشش کرتے ہیں یا ”حقیقی“ خبر کی بات کرتے ہیں تو دیکھنے والے دیکھنا چھوڑدیتے ہیں ۔ویورشپ کم تو ڈالر کم اس لیے ایک جھوٹ کے بعد مزید جھوٹ مجبوری سی بن جاتی ہے۔ڈیجیٹل میڈیا میں چونکہ اکثریت دیکھنے والے پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں تو ان کو خوراک بہم پہچانا بھی لازمی ہے ۔
بہت سارے اس کام میں مصروف ہیں کہ ڈیل ہوگئی ہے یا اس کا اغاز ہوگیا ہے اور اب عمران خان کا باہر آنا دنوں کی بات ہے۔اور تو اور سہیل وڑائچ جیسے بڑے سینئر صحافی بھی سمجھتے ہیں کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں سب اچھا نہیں ہے ۔اور اس کے بعد اب قومی حکومت کا قیام اٹل ہے۔ویسے یہ قومی حکومت کا چورن دہائیوں سے بیچا جاتا ہے ۔سب کو علم ہے کہ یہ قومی حکومت یا ٹیکنوکریٹ سیٹ والا چورن انتہائی بد مزہ اور بے ذائقہ ہے لیکن پھر بھی نہ یہ چورن بیچنے والے باز آتے ہیں اور نہ ہی خریدنے والے۔میرے نزیک کسی بھی طرح کی کوئی بھی قومی حکومت جس کی بنیاد الیکشن نہ ہو وہ غیر آئینی ہے۔ایسا صرف پاکستان کے آئین کو معطل کرکے ہی کیا جاسکتا ہے جو کہ مارشل لا ہوسکتا ہے ۔یاپھر ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی جس کے بعد یہ ممکن ہے ۔یا پھر اس کی ایک فوری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت جو جماعتیں اقتدار سے باہر ہیں یعنی پی ٹی آئی اور مولانا فضل الرحمان بھی حکومتی بینچوں پر بیٹھ جائیں اور اپنے حصے کے مطابق وزارتیں قبول کرلیں تو بن گئی قومی حکومت ۔اس کے علاوہ کوئی بے روزگار سیاستدان یا چلے ہوئے کارتوس ٹینکوکریٹ وغیرہ کو پک کرکے اقتدار میں بٹھانا صرف مارشل لا میں ممکن ہوتا ہے ۔ جس طرح ایوب خان نے کابینہ بنائی ،جس طرح ضیاالحق نے حکومت کی یا پھر جس طرح پرویز مشرف نے ابتدا میں اپنی کابینہ تشکیل دی تھی باقی صرف زیب داستان ہوسکتی ہے عملی شکل ممکن نہیں ۔
اب آتے ہیں ڈیل کی طرف اس ڈیل کا مکھڑا دکھاتے ہیں آپ کو یا پھر عمران خان کے جیل سے نکلنے کی صورتیں دیکھ لیتے ہیں ۔عمران خان صاحب کی چونکہ آنکھ خراب ہے تو اس کے لیے باہر نکالنے کا ایک راستہ ان کا علاج ہے بالکل اسی طرح جس میاں نوازشریف جیل کے اندر شدید بیمار ہوئے ۔تو ان کو پہلے سروسز اسپتال لایا گیا ۔پھر ان کے لیے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بنائی گئی جس کی نگرانی اس وقت کی پنجاب کی وزیرصحت یاسمین راشد نے کی ۔اس ٹیم نے رپورٹ دی کہ حالات بہت خراب ہیں میاں صاحب کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے اس لیے ان کو باہر بھجوادیا جائے ۔اس کے بعد یہ معاملہ کابینہ میں گیا وہا ں شیریں مزاری نے آنسوبہائے اور عمران خان صاحب کا دل پگھل گیا اور عدالت نے کابینہ کی سفارش پر میاں صاحب کو باہر بھیج دیا ۔اس کے بعد کرونا کی وجہ سے علاج شروع نہ ہوسکا تو ان کا قیام طویل ہوتاگیا یہاں تک کہ الیکشن کا مرحلہ آگیا اور میاں صاحب واپس آگئے ۔
کیا اس طرح کی صورتحال عمران خان صاحب کے ساتھ پیش آسکتی ہے کیا ان کو اس طرح علاج کے لیے باہر جانا قبول ہوگا؟ کیا ان کے چاہنے والے جنگجو جو آنکھ کے بدلے آنکھ کے نعرے ماررہے ہیں وہ ا ن کو ایسی ڈیل کرنے دیں گے ؟ کیا بیرون ملک بیٹھے” بارلے“ اس ہیروکو جس کو انہوں نے مزاحمت کا آخری استعارہ بنارکھا ہے جو کہتے ہیں کہ عمران خان نوازشریف سے مختلف ہیں وہ ایک دن بھی اسپتال نہیں گئے وہ ا ن کو نوازشریف جیسا بنتے دیکھ پائیں گے؟۔
دوسری صورت یہ ہے کہ عمران خان صاحب منت ترلہ کرلیں،نومئی پر معافی مانگیں اور خاموشی اختیار کرنے کا وعدہ کرلیں ۔ اس سیٹ اپ کو الیکشن تک چلنے دیں اگلے الیکشن میں حصہ لیں اور پھر جو عوام کا فیصلہ ہوا س کے مطابق آگے بڑھیں ۔غصہ اور انتقام جیسی خرافات سے پیچھا چھڑوائیں ۔ملک کی ترقی میں ساتھ دیں ۔سب کچھ تہس نہس اور میں ”کلا ای کافی آں“والی سوچ سے نکلیں اور سب کے ساتھ چلنے کا ہنر سیکھ لیں۔کیا عمران خان یہ کرسکتے ہیں؟ کیا ان کے کارکن جو ان کو مہاتما کا درجہ دیے بیٹھے ہیں جو ان کو سپر ہیرو سمجھتے ہیں ایسی الائشوں سے مبرا سمجھتے ہیں وہ ان کو ایسا کرنے دیں گے؟۔
یہ تو تھیں ڈیل کی صورتیں ۔اب دیکھتے ہیں کہ ڈیل ہوگی کیوں؟ اسٹیبلشمنٹ ایسی کوئی ڈیل کرے گی کیوں؟اور پھر کیا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایسا ہونے دیں گی؟ ایسے وقت میں جب ملک میں سب ٹھیک ہے۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں کسی بات پر اختلاف نہیں ہے۔دونوں طرف باہمی اعتما دکا رشتہ ہے۔ پنجاب حکومت بہترین پرفارم کررہی ہے ۔اسٹیبلشمنٹ پورے سسٹم میں ہر ایک چیز میں حصہ دار ہے شہباز شریف کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت نہیں ہے اور پھر شہبازشریف نے پاکستان کے لیے پاکستان کی معیشت کے لیے اپنا سیاسی سرمایہ بے دردی سے جھونکنے سے بھی گریز نہیں کیا۔جو اس ملک کو ڈیفالٹ کے دہانے سے نکال کر پٹری پر لے آئے ہیں کیا اس وقت ان کے بدترین مخالف سے ڈیل کرکے ان کو ایسا انعام اور صلہ دینا کوئی عقلمندی ہوسکتی ہے؟جب وزیراعظم شہبازشریف اپنی جان توڑ کوشش اس ملک کو سنوارنے کے لیے کررہے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کیوں ان کی جگہ کسی اور کولانے کا رسک لے گی؟۔
چلیں پھر بھی ہم فرض کرلیتے ہیں کہ پرانی عادتیں مشکل سے بدلتی ہیں ۔موجودہ سیٹ اپ کو تین سال ہوگئے ہیں اور یہاں اچھے رشتوں کا دورانیہ اتنا ہی ہوتا ہے تو اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں ۔فرض کرلیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ لازمی ڈیل کرنا چاہتی ہے تو یہ ڈیل کیا ہوسکتی ہے؟ظاہر ہے ڈیل اقتدار کے لیے ہی ہوگی نا؟ صرف جیل سے نکل کر گھر بیٹھنے کے لیے تو عمران خان ڈیل نہیں کریں گے نا؟ تو پھر کیا فوری عمران خان کو اقتدار دیاجاسکتا ہے؟ اس کاجواب نفی میں ہے ۔ایسے تو نہیں ہوسکتا کہ اسٹیبلشمنٹ شہبازشریف سے کہے کہ آپ گھر چلے جائیں اور عمران خان کو جیل سے نکال کر کرسی اقتدار پر بٹھادیں؟اس کے لیے عدم اعتماد درکار ہوگی جو پیپلزپارٹی کے بغیر کامیاب نہیں ہوگی تو پیپلزپارٹی شہباز کو نکال کر عمران کو لاسکتی ہے؟سوچیں سوچیں۔
اور ڈیل ہوگئی....؟
09:15 AM, 15 Feb, 2026