بھارت میں غیر شائع شدہ کتاب کا واویلا

09:12 AM, 15 Feb, 2026

ہمسایہ ملک بھارت میں ایک غیر شائع شدہ کتاب "دی فور سٹارز آف ڈسٹنی" کے خلاف حکومتی مشینری متحرک ہو گئی ہے۔ بھارتی فوج کے سابق آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل منوج مکھڑ نروانے کی یہ کتاب سیاسی اور عسکری حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ کتاب دراصل جنرل نروانے کی سوانح حیات ہے جس میں انہوں نے سال 2020 میں بھارت کی یونین ٹریٹری لداخ کی وادی گلوان میں بھارت اور چین کی شدید جھڑپوں کا ذکر کیا ہے۔ 
وادی گلوان میں بھارت چین سرحدی کشیدگی سال 1962 کے بعد سال 2020 میں سامنے آئی تھی جس میں بیس بھارتی فوجی اہلکار جان سے گئے۔ چین نے بھارتی فوج کے کئی جوان اور افسر گرفتار بھی کئے تھے۔ اس بھارتی علاقے پر اب چین کا کنٹرول ہے۔ جسے بھارت لائن آف ایکچول کنٹرول کے نام سے تسلیم کرتا ہے۔ اس تنازعہ کے وقت لیفٹیننٹ جنرل منوج مکھڑ نروانے بھارتی فوج کے چیف آف دی آرمی سٹاف تھے۔ 
کتاب میں اس سرحدی تنازعے پر جنرل نروانے نے لکھا ہے کہ چینی فوج لداخ کی وادی گلوان میں بھارتی سرحد کی طرف مسلسل مارچ کر رہی تھی۔ چینی افواج کے پاس آرٹلری ٹینکس، تبت فورسز کے جوان اور اسلحہ بھی تھا۔ اس سنگین صورتحال کی اطلاع ملتے ہی میں نے نئی دہلی میں اعلیٰ حکومتی عہدیداران کو ٹیلیفون کالز کیں اور انکو بر وقت آگاہ کیا اور احکامات مانگے جس پر مجھے انتظار کرنے کو کہا گیا۔ وزیراعظم نریندرمودی کے دفتر تک معاملہ منٹوں میں پہنچایا گیا۔ اسی دوران چینی افواج انتہائی قریب آ چکی تھیں اور سامنے نظر آ رہی تھیں۔ بار بار کالز کرنے پر کافی انتظار کروانے کے بعد وزیر دفاع اور وزیراعطم نے دفاع کی کوئی ہدایات جاری نہیں دیں۔ بلکہ مجھے کہا گیا کہ آپ کو جو درست لگے وہ کریں۔ یعنی جو ٹھیک لگے جو مناسب سمجھیں وہ کریں۔ غیر مسلح اور کم نفری والی بھارتی فوج وادی گلوان میں چینی فوج پر حملہ تو کیا اپنا دفاع کرنے سے بھی قاصر تھی۔ 
دی فور سٹارز آف ڈسٹنی کتاب سابق آرمی 
چیف جنرل منوج مکھڑ نروانے نے اپنی مدت ملازمت ختم ہونے/ ریٹائرمنٹ کے بعد پبلشنگ کے لئے پنگوئن پبلشنگ ہاو¿س بھجوائی تھی۔ جس کے بعد اس پبلشنگ ہاو¿س نے سال 2024 میں وزارت دفاع سے اسے شائع کرنے کا اجازت نامہ مانگ رکھا ہے جو ابھی تک نہیں ملا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمنٹ کے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی سابق آرمی چیف کی یہ کتاب لے کر پارلیمنٹ پہنچے اور بجٹ اجلاس میں اپنی تقریر میں اس کتاب کے وادی گلوان پر چند جملے پڑھنے کی کوشش کی۔ پارلیمنٹ میں حکومتی بینچوں نے شدید احتجاج کیا اور سیپکر اوم برلا نے کتاب کے پانچ جملے بھی پڑھنے نہیں دئیے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعتراض کیا کہ یہ کتاب شائع نہیں ہوئی اس لئے اس کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا ہے۔ 
اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ ہال کے باہر سیڑھیوں پر کئی روز احتجاج کیا۔ انہی احتجاجوں میں راہول گاندھی جنرل نروانے کی کتاب لے کر میڈیا سے سامنے لہراتے رہے۔ وزیراعظم نریندرمودی سے اپوزیشن اس کتاب میں کئے گئے انکشافات پر جواب طلب کرتی رہی مگر نریندرمودی دور دور تک نظر نہیں آئے۔ راہول گاندھی نے میڈیا سے گفتگو میں یہ بھی کہا کہ کتاب میں جو کچھ لکھا ہے اس پر وضاحت آنی چاہیے۔ اگر کوئی بھی قومی سلامتی کے معاملے پر جھوٹ بول یا لکھ رہا ہے تو بھاجپا سرکار عوام کو اور پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ بھارت کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع پر بات ہونی چاہئے۔ اپوزیشن کا رونا تو ایک طرف یہاں تو غیر شائع شدہ کتاب نے حکومت کی حالت خراب کر رکھی ہے۔
بھارتی فوج کے 1954 آرمی رولز کے سیکشن 21 کے مطابق کسی بھی فوجی کو کتاب شائع کرنے سے قبل وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری لینا لازمی ہے۔ مگر یہ حکم نامہ سابق اور ریٹائرڈ افسران پر لاگو نہیں ہوتا ہے۔ 
کتاب کے بعض صفحے سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔جس کے خلاف نئی دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس پینگوئن پبلشنگ ہاو¿س کے خلاف بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ اسی دوران جنرل منوج نروانے نے خود سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آکر کتاب کے غیر شائع شدہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔
افسوس ایسے نظام پر کہ جو لکھاری کو ڈرائے، کیسوں سے دھمکائے اور صد افسوس اس سابق فوجی پر جو یہ پریشر لے بھی لے۔ بھاجپا سرکار میں تو بھارت میں مذہبی انتہا پسندی کا رجہان رہا ہے مگر یہ حکومتی دباو¿ اب کی بار اپنے ہی آرمی چیف پر ڈالا گیا ہے جو فورسز کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ ایسے اقدامات فوج کے مورال کو پست کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اگر ایک ملک اپنے ہی فوج کے سابق سربراہ کی حفاظت نہیں کر سکتا تو وہ کتنے سنگین مسائل سے دوچار ہو گا۔ ایک ایسی فوج جو اپنے آرمی چیف کی ساکھ نہیں بچا سکتی وہ جنگی محاز پر کس حد تک کمزور اور لاچار ہو گی۔ یہ کتاب کا معاملہ نہیں بلکہ بھارت کی ناکام پالیسیوں کا معاملہ ہے جو اسے اندرونی اور بیرونی محاذ پر رسوا کر رہی ہیں۔ 
بری، بحری اور فضائیہ افواج کے اعلیٰ افسران دوران سروس مختلف باڈر ایریاز اور انٹیلجنس اداروں میں کام کرتے ہیں۔ جہاں وہ قومی سلامتی کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں۔ جو انکے اور ان کے فوج کے ادارے کے لئے بہت اہمیت کی حامل پوزیشنز ہوتی ہیں۔ فوج کے اعلیٰ افسران جنرلز، ائیر مارشلز اپنی بہترین فیصلہ سازی اور ادارے کی ملکی مفاد، تحفظ اور دفاع کی خدمات کے تجربات نہ کسی سویلین، نہ کسی سیاست دان اور نہ ہی میڈیا تک آنے دیتے ہیں لیکن اگر ریٹائرمنٹ کے بعد وہ حساس پہلوو¿ں پر کتابیں لکھنا چاہتے ہیں تو اسے ملک، قوم اور فوج کو خطرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔ 
بھارتی حکومت کے ایسے حربوں نے ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کے لئے خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اب مستقبل میں فورسز کے ریٹائرڈ افسران کتاب لکھنے کا خطرہ مول لیں گے یا نہیں کہنا مشکل ہے۔ زبان بندی کے اس دور میں شاید ہی کوئی ریٹائرڈ فوجی افسر کلیئرنس کے لیے اپنی کتاب کا مسودہ بھارتی وزرات دفاع کو بھیجے گا۔

مزیدخبریں