سڈنی دہشت گردی پر پاکستان کے خلاف اسرائیل، بھارت اور افغانستان کا پروپیگنڈا بے نقاب

02:10 PM, 15 Dec, 2025

سڈنی : آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں حالیہ دہشت گردی کے حملے میں کئی افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے، جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرے کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ اس دوران ایک کار سے دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔

اس واقعے کے بعد اسرائیلی اور بھارتی میڈیا نے اس دہشت گردانہ حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔ اسرائیل کے اخبار "یروشلم" نے بغیر کسی تصدیق کے حملہ آوروں کو پاکستانی قرار دے دیا، جبکہ بھارتی ایجنسی "را" سے جڑے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ ان ذرائع نے اس حملے کو پاکستان سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی، حالانکہ اس میں پاکستان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

پاکستان کے حکام اور آسٹریلیش حکام کے مطابق، ساجد اکرم اور نوید اکرم کے پاکستانی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ساجد اکرم کا تعلق پاکستان سے نہیں ہے، اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی ایسی معلومات ہیں جو ان کے پاکستانی ہونے کو ثابت کریں۔

بھارتی میڈیا نے جھوٹا پروپیگنڈا کیا کہ ساجد اکرم ٹورسٹ ویزا پر آسٹریلیا گیا تھا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا، اور اس کا ویزا 2001 میں اپنی آسٹریلوی بیوی وارینا سے شادی کے بعد پارٹنر ویزا میں تبدیل ہو گیا۔ آسٹریلوی ہوم منسٹر ٹونی بیورک نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

ساجد اکرم 10 سال سے آسٹریلیا کے گن کلب کا ممبر تھا اور اس کے پاس 6 لائسنس شدہ ہتھیار بھی تھے۔ مزید یہ کہ اطلاعات کے مطابق ساجد اکرم کا تعلق افغانستان کے ننگر ہار صوبے سے تھا، جو دہشت گردی کا ایک اہم گڑھ بن چکا ہے۔ حملے میں استعمال ہونے والا فائرنگ کا طریقہ افغان طالبان کی کارروائیوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

اس تمام صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل، بھارت اور افغانستان نے پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے کی کوشش کی، لیکن ان کے تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی تھے۔

مزیدخبریں