’’بلوچستان پاکستان کا دل‘‘ 

09:10 AM, 15 Dec, 2025

بلوچستان اپنی تزویراتی اہمیت ،معدنی دولت اور جغرافیائی حیثیت کے باعث پاکستان کا نہایت اہم ترین خطہ ہے ۔مگر افسوس کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے اسے بیرونی سازشوں اور دشمن قوتوں نے دانستہ طور پر ایک ایسے مصنوعی میدان جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے جس کی بنیاد محض پراپیگنڈے پررکھی گئی ہے۔جب بعض عناصر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی ’’آزادی کی جنگ‘‘ جاری ہے تو وہ صرف جھوٹ اور دشمن کی زبان بول رہے ہوتے ہیں۔ بلوچستان نہ تو مقبوضہ علاقہ ہے اور نہ یہاں کبھی ایسے حالات پیدا ہوئے جو کسی تحریک آزادی کا جواز بن سکیں۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سو فیصد دہشت گردی ہے جسے بھارت نے ایک منصوبہ بندی کے ساتھ پروان چڑھایا۔بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیمیں بلوچستان کی خیر خواہ ہیں اور نہ ہی بلوچ عوام کی ،ان کا اصل نشانہ ہمیشہ بے گناہ شہری،سیکیورٹی فورسز ،ترقیاتی منصوبے اور وہ نوجوان رہے ہیں جو امن،تعلیم اور بہتر مستقبل کے خواہش مند ہیں۔ان نام نہاد بلوچ حقوق کی دعویدار تنظیموں نے کبھی بھی بلوچ عوام کے مفاد ات کے لیے جدوجہد نہیں کی ۔واضح رہے کہ دنیا کی کوئی بھی حقیقی تحریک آزادی نہ ہی اپنے خطے کے اسکول جلاتی ہے ،نہ ہسپتال تباہ کرتی ہے اور نہ ہی عوام کو اغوا،بلیک میل یا خوف میں مبتلا کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال کسی صورت’’ جدوجہد‘‘ نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔1971 میں مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے میں بھارت نے جوبھیانک کردار ادا کیا، وہی مکروہ سوچ آج بھی بھارتی ذہنوں میںپنپ رہی ہے۔ دہلی کی قیادت نے متعدد مرتبہ اعتراف کیا کہ وہ پاکستان کواندر سے کمزور ہوتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت 1980 کی دہائی میں بھارت نے بلوچستان کو اپنا اگلا ہدف بنایا۔ افغان سرزمین اور بیرون ملک نیٹ ورکس کو استعمال کرتے ہوئے ’’را‘‘ نے فنڈنگ، تربیت اور اسلحے کی فراہمی کا منظم نظام قائم کیا۔ 2016 میں گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے اعترافات نے دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا کہ وہ بلوچستان میںکن گروہوں کو کس طرح پیسہ، تربیت اور سہولت فراہم کر رہا تھا۔بلوچستان میں سرگرم یہ کالعدم گروہ درحقیقت چند خاندانوں کاذاتی کاروبار ہیں۔ ان کے لیڈر بیرون ممالک بیٹھ کر فنڈنگ لیتے ہیں، عیاشی کی زندگیاںگزارتے ہیں، مگر قربانی صرف ان نوجوانوں سے لیتے ہیں جنہیں برین واشنگ کے ذریعے پرتعیش زندگی کے جھوٹے خواب دکھا کر جذباتی بنا کر پہاڑوں پر بھیجا جاتا ہے،جہاں انہیںریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا جاتا اور دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے ۔ اگر یہ تحریکیں واقعی عوامی ہوتیں تو ان کی جڑیں بلوچستان کے دیہاتوں، شہروں، قبائل اور عوام کے اندر ہوتیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 100فیصد بلوچ عوام نہ ان تنظیموں کے ساتھ ہیں اور نہ ان کے زہریلے بیانیے کو قبول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں ہزاروں بھٹکے ہوئے نوجوانوں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں واپسی اختیار کی۔بلوچستان میں جاری دہشت گردی دراصل پاکستان کے خلاف جاری ’’ہائبرڈ وار‘‘ کا حصہ ہے۔ دشمن جانتا ہے کہ براہ راست جنگ ممکن نہیں، اس لیے پراپیگنڈا جھوٹ، سوشل میڈیا Manipulation، جعلی رپورٹس اور نفرت کے بیج بو کر ایک ایسی ذہنی جنگ مسلط کی گئی ہے جس کا مقصد ریاست اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا ہے۔ بھارتی نیٹ ورکس کی جانب سے چلائے جانے والے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، اے آئی سے تیار شدہ ویڈیوز، جھوٹی انسانی حقوق کی رپورٹس اور بیرون ملک لابیوں کی سرگرمیاں اسی ہائبرڈ وار کی مثالیں ہیں۔ مگر حقائق اس برعکس ہیں۔بلوچ عوام ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ اپنے ملک، اپنی ثقافت اور اپنے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر بلوچستان ترقی کرے گا تو وہی اس کے اصل وارث ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پورے بلوچستان میں ہزاروں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ گوادر پورٹ، سی پیک، سڑکوں کے نیٹ ورک، ڈگری کالجز، یونیورسٹیاں، آئی ٹی لیبز، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، کھیلوں کے میدانوں کی تعمیر یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ریاست اس خطے کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔اگر بلوچستان واقعی ’’مقبوضہ علاقہ‘‘ یا ’’متنازع‘‘ ہوتا تو کیا یہاں نوجوان تعلیم، کھیل، آئی ٹی اور کاروبار کے شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہوتے؟ کیا یہاں کے علاقے ترقیاتی منصوبوں سے بدل رہے ہوتے؟ کیا یہاں ہزاروں نوجوان ہر سال پاک فوج، ایف سی، پولیس اور سویلین اداروں میں شامل ہو رہے ہوتے؟ کوئی بھی مقبوضہ ریاست اپنے دفاعی اداروں میں شامل نہیں ہوتی، مگر بلوچستان میں ایسا ہو رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچستان، پاکستان کا حصہ ہے۔سیکیورٹی فورسز نے گذشتہ دو دہائیوں میں ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر بلوچستان کومحفوظ بنایاہے۔ انہوں نے بھارت کے نیٹ ورکس توڑے، دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے، عوام کے لیے امن کا ماحول قائم کیا اور ساتھ ہی ساتھ تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں بے شمار منصوبے مکمل کیے۔ دنیا میں کہیں بھی یہ مثال نہیں ملتی کہ فوج صرف سیکیورٹی ہی نہیں بلکہ تعلیم، ترقی، فلاح اور سماجی بہبود کے منصوبوں کو بھی اپنی نگرانی میں مکمل کریں مگر بلوچستان اس کی زندہ مثال ہے۔بلوچستان دشمنوں کی نظر میں اس لیے اہم ہے کہ یہاں گوادر پورٹ موجود ہے، سی پیک گزر رہا ہے، معدنی وسائل بے مثال ہیں، جغرافیائی پوزیشن غیرمعمولی ہے، اور مستقبل میں پاکستان کی معاشی طاقت کا مرکز یہی خطہ ہے۔ دشمن یہی نہیں چاہتا کہ پاکستان اپنے معاشی مستقبل کی طرف بڑھ سکے، اس لیے وہ بلوچستان میں بدامنی کی آگ بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے۔مگر سچ یہ ہے کہ بھارت کی کبھی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ قوم متحد ہے۔ بلوچستان پاکستان کی شناخت ہے، وطن عزیز کا دل ہے، اور اس کا مستقبل پاکستان کے ساتھ ہے۔ یہاں کوئی تحریک آزادی نہیں یہاں صرف دہشت گردی ہے اور اس دہشت گردی کے پیچھے بھارت کی وہی پالیسی ہے جو اس نے 1971 میں اختیار کی تھی۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ پاکستانی قوم، سیکیورٹی ادارے، بلوچ عوام اور دنیا سب حقیقت سے واقف ہیں۔بلوچستان پاکستان ہے، پاکستان رہے گا اور دشمن کی ہر سازش ہر بار ناکام ہوگی۔انشاء اللہ 

مزیدخبریں