لمبی سزا، شکنجہ سخت، ٹمپریچر میں اضافہ 

09:10 AM, 15 Dec, 2025

احتساب، احتساب، کڑا احتساب، سخت فیصلے آنے لگے۔ آنے ہی تھے 4 دسمبر کو نوٹیفکیشن جاری ہوا، سید زادے نے طاقت پکڑی 5 دسمبر کو ڈی جی آئی ایس پی آر نے عالم غیظ و غضب میں کھری کھری سنائیں جس کے بعد فیصلوں کی سیریز شروع ہوگئی، شکنجہ کسا جانے لگا۔ 11 دسمبر کو دل دہلا دینے والے ذہنوں کو مائوف کرنے والے فیصلے نے ہلچل مچا دی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے 15 ماہ کی طویل سماعت کے بعد 14 سال قید با مشقت کی سزا سنا دی۔ فیض حمید پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، سرکاری رازوں کے قانون کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور افراد کو مالی نقصان پہنچانے سے متعلق 4 الزامات ثابت ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق سیاسی اشتعال انگیزی، عدم استحکام سمیت دیگر معاملات علیحدہ دیکھے جا رہے ہیں، یعنی حالیہ سزا فیز ون فیز ٹو باقی ہے۔ فیض حمید گم صم فیض یاب ہونے والے خوفزدہ ’’اسی دن کے لیے تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے، اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر‘‘ فیز ٹو کیا مطلب؟ جان نہیں چھوٹی۔ ’’ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں‘‘ یاران تیز گام بھی لپیٹ میں آئیں گے۔ کورٹ مارشل کے آفٹر شاکس سامنے آرہے ہیں ایسے ثبوت ہاتھ لگ گئے جن سے 9 مئی 26 نومبر اور سانحہ جعفر ایکسپریس سمیت دیگر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث افراد کو قابو کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ 6 افسر، 8 بیورو کریٹ، 2 جج، 32 سیاستدان زیر تفتیش ہیں۔ پی ٹی آئی کے رئوف حسن سے ملنے والا پورا ڈیٹا موجود، چار بڑے لیڈر بھی زد میں آئیں گے۔ فیض حمید کا پورا گینگ جیل کی ہوا کھائے گا۔ فیض حمید کے ساتھ بہت سے اعلیٰ نسل کے لوگ نشان عبرت بنیں گے۔ شنید ہے کہ فیض حمید پر ایک صحافی کے قتل کا مقدمہ بھی بننے والا ہے۔ معاملات سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں، اصل معاملات حالیہ سزا کے بعد سامنے آئیں گے۔ کرپشن، سیاست میں مداخلت، بغاوت کیا وہ نمرود کی خدائی تھی کہ بندگی کرنے والوں کا بھی بھلا نہ ہوا۔ غرور کا سر نیچا، اشارے مل رہے ہیں کہ فیض حمید وعدہ معاف گواہ بننے جا رہے ہیں، کس کے خلاف گواہی دیں گے۔ جرائم کا طوق اپنے گلے سے اتار کر کس کے گلے میں ڈالیں گے؟ جو کچھ کیا وزیر اعظم کے حکم پر کیا ایسا ہوا تو اڈیالہ جیل کے اندر اور باہر 7 ریکٹر اسکیل کے زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے جائیں گے۔ واقفان حال تاریخ میں تبدیلی اور مستقبل کے سیاسی منظر نامہ سے پریشان ہیں کیا گزشتہ صدی کے آخری دو دہائیوں کی تاریخ دہرائی جانے والی ہے۔ معافی، ڈیل اور ڈھیل کے دروازے کھڑکیاں بند مذاکرات کی کوئی آفر نہ امید۔ ’’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا‘‘ فیض حمید کی گواہی اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد آرٹیکل کی گونج، سزا کا سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے، پھر کوئی تارا مسیح؟ اے دل زار نہیں کوئی نہیں۔
بانی پی ٹی آئی جیل کی کال کو ٹھڑیوں میں گم، کوئی آواز نہ دستک، غیر یقینی مستقبل سے مایوس، توشہ خانہ ٹو، ،جی ایچ کیو حملہ کیس اور 9مئی کے فیصلے سر پر، ستم گر دسمبر ہی میں سنائے جانے کا امکان، ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے ’’بڑے خان صاحب‘‘ اڈیالہ جیل میں بھی عوامی مقبولیت کے سراب میں مبتلا رہے یاد رکھے گئے، حالانکہ وقت کے ساتھ مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے، 2024 کے انتخابات میں ڈالے گئے 5 کروڑ 92 لاکھ 21 ہزار 77 ووٹوں میں سے دنیا کی مقبول ترین پارٹی ہونے کی دعویدار پی ٹی آئی کو ایک کروڑ 24 لاکھ 57 ہزار 5 سو 67 ووٹ ملے جو ملک کی کل آبادی کا7.388ہے یعنی 93 فیصد لوگوں نے پی ٹی آئی کو مسترد کردیا۔ وجہ کرپشن، سیاست سے ناواقفیت اور عدم دلچسپی، دوسروں کو چور ڈاکو کہنے والے کی ناک کے نیچے مبینہ طور پر 5300 ارب ڈالر کی کرپشن ہوئی جس کا انکشاف آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کیا جس پر موجودہ حکومت نے کرپشن کا سراغ لگایا۔ یہ کرپشن 2018ء 2023ء تک کی گئی۔ خان صاحب نے آبیل مجھے مار کے ماورے پر عمل کرتے ہوئے اپنے ایکس اکائونٹ اور ٹوئٹس میں بارہ بار ذہنی مریض کی رٹ لگائی۔ جبکہ فیس بک پر ایک صاحب عبدالحئی جٹ نے خان کے ذاتی معالج کی 25 سال پرانی ویڈیو وائرل کی جس میں اس نے کہا تھا کہ خان میں ذہنی مرض کے سمٹمپز پائے گئے۔ معائنہ کے بعد میں نے خان سے کہا کہ وہ سیاست کی طرف نہ جائیں لیکن انہوں نے میری بات ماننے سے انکار کردیا۔ خان کی اس ٹوئٹ نے دشمنی اور مخاصمت کی وہ آگ بھڑکائی جسے بیرسٹر گوہر جیسا دھیما وکیل اور نامزد چیئرمین بھی ٹھنڈا نہ کرسکا ۔انہوں نے کہا جو ہوگیا سو ہوگیا اب ہمیں لگی آگ کو ٹھنڈا کرنا چاہیے، نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے، علیمہ باجی اور ان کی بہنیں، گنتی کے دو چار وکلاء اور چالیس پچاس جاں نثاروں کے لیکر جیل پر ہر ہفتہ دو بار دھاوا بولتی ہیں۔ پچاس جانثار دو سو کیمرے 16رپورٹر سوشل میڈیا پر پبلسٹی اور کمپنی کی مشہوری کا مقصد پورا ہوگیا، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اوپر والوں سے ہاتھ ملانے کے باوجود گیارہویں بار خان سے ہدایات لینے کے بہانے زیارت کی غرض سے آستانہ عالیہ پر حاضری دے چکے، زیارت نصیب نہیں ہوئی، پورا صوبہ لاوارث، پشاور کا جلسہ کسی ہال کا فنکشن ثابت ہوا۔ چار پانچ ہزار کے جلسہ میں البتہ جی بھر کے گالیاں دی گئیں، پی پی کے منحرف ہوکر خان کی غلامی اختیار کرنے والے شوکت بسرا نے کتا کتا کے نعرے لگوائے، اسلام آباد پر حملہ آور ہونے اور جیل توڑنے کی دھمکیاں دی گئیں، نو واردان سیاست کو صرف نعروں اور گالیوں کی تربیت دی گئی ہے۔ نوجوان لڑکیوں کا مقبول نعرہ تیرا یار میرا یار قیدی نمبر 804 (پنجاب میں یار کسے کہتے ہیں پتہ نہیں) کوہاٹ کا جلسہ بھی شادی بیاہ کی تقریب ثابت ہوا۔ تحریک تحفظ آئین کے ادھار لیے ہوئے رہنمائوں اور خالی جگہ پاکر صفوں میں گھس جانے والے لیڈروں نے 20 اور21 دسمبر کو قومی کانفرنس کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کو بھی شرکت کی دعوت دی لیکن سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے جواب میں وہ لتے لیے کہ دوبارہ فون کی ہمت نہ ہوئی، دونوں مستعار لیڈروں کے عزائم کیا ہے، آگ کے شعلے بڑھکائیں گے یا ہاتھ ملاکر چھلانگیں لگاتے رہیں گے۔ مذاکرات کا آپشن ختم، عوام کی حمایت ندارد، جمائمہ کی اقوام متحدہ سے اپیلیں بیکار، سابق خاتون اول کے عشق کے چرچے، ٹیریان کی شادی کی افواہیں، پارٹی میں خوف، مایوسی، بیس پچیس ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ سب کچھ خان کا کیا دھرا ہے۔ پارٹیاں اس طرح نہیں چلتیں، مائنس ون کے فارمولے کا چرچا، ملاقاتوں پر مکمل پابندی، پارٹی پر پابندی لگے خان پر قہر ڈھانے کی تیاریاں کرلی گئی ہیں۔ اہم فیصلے ہوچکے اللہ خیرکرے۔

مزیدخبریں