علم کے صحرا میں بھٹکتی نسلیں

09:09 AM, 15 Dec, 2025

 تعلیم ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں بصیرت کی روشنی کو اجاگر کرتی ہے ۔یہ صرف حروف کی منتقلی کا نام نہیں بلکہ یہ وہ روحانی اور فکری رہنمائی ہے جو اقوم کی فکری تشکیل ،اخلاقی تہذیب اور تمدنی بقاء کا بنیادی وسیلہ ہوتی ہے۔تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جن معاشروں نے تعلیم کو مرکزِ حیات بنایا وہ زمانے کے جبر کے سامنے پوری استقامت، وقار اور خوداعتمادی کے ساتھ ثابت قدم رہے لیکن جن اقوام نے تعلیم کو ثانوی حیثیت دے کروقتی مفادات کی نذر کیاوہ رفتہ رفتہ فکری زوال،اخلاقی انتشاراور سماجی بے سمتی کا شکار ہو گئیں۔بدقسمتی سے ہمارا حکومتی تعلیمی نظام بھی آج اسی زوال پذیر راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے جہاں تدبیر کے بجائے تذبذب،اصلاح کے بجائے نمائشی اقدامات اور وژن کے بجائے وقتی مصلحتوں نے مستقل قیام کر لیاہے۔حکومتی تعلیمی ڈھانچہ بظاہر وزارتوں،محکموں،بورڈز،نصابی کمیٹیوںاورپالیسی دستاویزات پر مشتمل ایک وسیع اورمنظم نظام نظرآتاہے مگراس کی باطنی کیفیت کسی ایسی کھوکھلی مشینری کی مانند ہے جس میں حرکت تو موجودہے مگر فکری روح غائب ہو چکی ہے۔اسکولوں سے جامعات تک ہرسطح پرایک ایساغیرمربوط اور انتشارزدہ منظرنامہ دکھائی دیتاہے جہاں تعلیم کا مقصد واضح ہے اور نہ ہی سمت متعین۔یہاں علم کو شعور بنانے کے بجائے محض امتحانی ضرورت میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔ہمارے سرکاری اسکولوںکی حالت اس فکری انحطاط کی واضح مثال ہے ۔خستہ عمارتیں،بنیادی سہولیات کا فقدان،غیرفعال لائبریریاں،سائنسی آلات سے محروم لیبارٹریاںاور اساتذہ کی شدید کمی سب مل کر ایک ایسے نظام کی تصویر پیش کرتے ہیں جو تعلیم کے نام پر محض رسمی ذمہ داری ادا کر رہا ہے۔سرکاری اسکولوں کی زبوں حالی کا اندازہ اگر شہری علاقوں سے باہر جا کر لگایا جائے تو تصویر مزید المناک ہوجاتی ہے ۔پاکستان کے تقریباً چالیس فیصد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو محفوظ اور معیاری کلاس رومز موجود نہیں ہیں۔دیہی اور پسماندہ علاقوں کے37فیصد اسکولوں میں چار دیواری نہیں،65فیصد میں سائنس اور کمپیوٹر لیبارٹری موجود نہیںہیں۔تقریباً45فیصد اسکولوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں،پورے ملک میں 23فیصد اسکول آج بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں ۔
مری جیسا سیاحتی مقام جسے ترقی اور ریاستی توجہ کی علامت سمجھا جاتا ہے،جہاں شرع خواندگی ستر فیصد کے قریب ہے مگر سرکاری اسکولوں کی حالت اس دعوے سے میل نہیں کھاتی ۔وہ شہر جسے طاقت کے ایوانوں میںقربت حاصل ہے ،جسے وقت کی وزیراعلیٰ کا دوسرا گھر کہا جاتا ہے وہاں کے کئی سرکاری اسکول بنیادی انسانی سہولیات کے منتظرکیوں ہیں؟ان اسکولوں کی عمارتیں اکثرخستہ حال ہیں،چھتیں ٹپکتی ہیں،فرش سرد اور نم آلود ہیں،کھڑکیوںکے شیشے غائب ہیں،شدید سردی میں بچوں کے لیے نہ مناسب حرارت کا انتظام موجود ہے اور نہ ہی گرم پانی کی سہولت میسر۔یہاں فرنیچر،ہیٹر،مناسب روشنی کا انتظام اور بنیادی تدریسی مواد ایک خواب بن چکے ہیں۔جس شہر سے سیاحت کے ذریعے کروڑوںروپے کی آمدن حاصل کی جاتی ہے،جہاں سیاحت پر بے پناہ وسائل لگائے جا رہے ہیں ماحولیاتی تفریحی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے جا رہے ہیںوہاں کے سرکاری اسکول آخرچند بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہیں؟کیا تعلیم سیاحتی منصوبوں سے کم اہم ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کی ذہنی تربیت،فکری نشونمااورمستقبل کوپالیسی ترجیحات میں کہیں پسِ پشت دیا ؟اساتذہ کی کمی اور انتظامی بے حسی نے اس بحران کو مزیدگہرا کر دیا ۔یہ صورتحال صرف مری تک محدود نہیں بلکہ ملک کے بیشتر دیہاتی علاقوں کے سرکاری اسکول بھی اسی محرومی کا نوحہ ہیںمعصوم بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں تو کہیںبرسات کے دنوں میں کلاس رومز تالاب کا منظر پیش کرتے ہیںاور کہیں در صرف اب نام کے رہ گئے ہیں۔یہ وہ بچے ہیں جوآنے والے وقت میں قوم کی خدمت کریں گے لیکن آج یہی بچے اپنے بنیادی حق سے محروم ہیں ۔پینے کے صاف پانی کی فراہمی ، مناسب فرنیچر ،اور محفوظ ماحول کسی عیش کا نام نہیں بلکہ تعلیم کے لیے لازمی شرائط ہیں۔ہماری درسگاہیں صرف نام کی حد تک تعلیمی ادارے ہیں جہاں تعلیم بوجھ اور اسکول ایک مجبوری محسوس ہوتا ہے۔اساتذہ جو کبھی تعلیمی نظام کی اصل بنیاد ہوتے تھے ہمارے ہاں سب سے زیادہ نظر انداز کیے گئے ،ناقص تربیت،غیرشفاف بھرتیاں،کم تنخواہیںاور سماجی ناقدری نے تدریسی پیشے کو ایک مقدس مقصد کے بجائے مجبوری کی نوکری بنا دیا۔جب استاد خودفکری،معاشی اور پیشہ ورانہ عدم تحفظ کا شکار ہو تووہ طلبہ میں تخلیقی سوچ،اخلاقی جرات اور سوال کرنے کا حوصلہ کیسے پیدا کر سکتا ہے؟جس کے نتیجے میں مکالمے کے بجائے یک طرفہ لیکچر اور فہم کے بجائے رٹا غالب آ جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری تعلیمی روایت رک جاتی ہے ہم بولتے بہت ہیں لیکن سنتے کم ہیں ،سمجھاتے ضرور ہیں مگر سمجھنے کی مہلت نہیں دیتے۔اسکولوں کی بحالی صرف عمارتیں یا وسائل فراہم کرنے کا معاملہ نہیںبلکہ ایک فکری انقلاب کا تقاضا ہے ۔اسی تناظر میںعاصم رضا کا یہ شعر ہمارے تعلیمی بحران کی گہری اور تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے ۔
بھر دیا شہر کو اسکول بنا کر لیکن 
ہم نے اسکول کو تعلیم سے خالی رکھا
ان کے الفاظ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں کہ ہم نے تعمیرکو ترقی اور تعداد کو معیار سمجھ لیاہے۔عمارتیں بڑھ گئیں،بجٹ کی سرخیاں بن گئیں مگراستاد کی تربیت ،نصاب کی معنویت اور طالب علم کی فکری پرورش کہیں پسِ منظر میں چلی گئی۔یہاں اسکول موجود ہیں مگر سوچ کی روشنی محدود اورذہن ویران ہوتے جا رہے ہیں۔یہ تضاد صرف عمارتوں یا وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ وژن اور سمت کی غیر موجودگی کا ہے۔سرکاری اسکول وہ ادارے ہیں جو ریاست اور شہری کے تعلق کی بنیاد رکھتے ہیں ، جہاں بچے اپنے اولین تجربات کے ذریعے نظم ،انصاف اور ذمہ داری کا تصور سیکھتے ہیں لیکن جب یہ ادارے محض رسمی بوجھ بن جائیں تو ریاست کے وعدے خاک میں مل جاتے ہیں۔نصابِ تعلیم خود ایک مستقل بحران کی علامت ہے فرسودہ مواد ،غیر متعلقہ معلومات اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے کٹا ہوا نصاب طلبہ کو علمی زندگی کے لیے تیار کرنے کے بجائے انہیں ذہنی جمود کا شکار بنا دیتا ہے۔سائنسی تحقیق،تنقیدی فکر،اور عملی مہارتوں کی کمی نے تعلیم کو ترقی کے بجائے احساسِ محرومی کا ذریعہ بنا دیاہے۔تعلیم صرف کتابیں پڑھانے کا نام تو نہیں ہے یہ شعور ،کردار اور صلاحیت کی تعمیر کا عمل ہے مگر محدود وسائل میں یہ عمل کہیں ادھورا رہ جاتا ہے ۔ علم کا حقیقی مقصد تب پورا ہوتا ہے جب سوچنے ،سوال کرنے اور تخلیق کرنے کا ماحول قائم ہو مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ سبھی بنیادیں زنگ آلود اور کمزور ہیں۔یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے صرف نصاب تک محدودرہ گئے ہیں۔تعلیم کے حقیقی ، فکری معیار کی بحالی ہی وہ عمل ہے جو نسلوں کی تقدیر میں وقار اور شعور کا غنچہ کھلائے گا ۔

مزیدخبریں