ملک عزیز جس مقصد کے لئے حاصل کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہو سکا کہ غربت و افلاس نے ابھی تک اس کا پیچھا نہیں چھوڑا ‘جو غریب ہے وہ اور بھی غریب ہو رہا ہے ‘جو دولت مند ہے اس کی دولت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے. مسائل کی یلغار سے ہا ہا کار مچی ہوئی ہے انہیں حل کرنے کی طرف بڑھا جاتا ہے تو مزید سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں‘ جہالت بھی ختم ہونے میں نہیں آرہی. پورے معاشرے کو بیماریوں نے گھیر رکھا ہے خوشحالی ہم سے کوسوں دور ہو چکی ہے جبکہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ملک چین نے حیران کن ترقی کر لی ہے اور اب وہ سپر پاور بن کا ہے اس نے ایک ارب سے زائد اپنے لوگوں کی غربت کو ختم کر دیا ہے ٹیکنالوجی میں اس قدر آگے جا چکا ہے کہ کچھ نہ پوچھیے۔ ایک ہمارے حکمران ہیں کہ لوگوں کو دبانے میں لگے ہوئے ہیں جس کے لئے وہ طرح طرح کی حکمت عملیاں اختیار کر رہے ہیں ٹیکس ہی لگائے جا رہے ہیں لہذا حکمرانوں اور عوام کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہوچکی ہے جسے وہ دیکھ بھی رہے ہیں مگر ان میں احساسِ قربت و ہمدردی در آتے دکھائی نہیں دے رہے۔ اس ملک پاکستان کو جب حاصل کیا جا رہا تھا تو اس وقت ہجرت کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ جان کی بازی ہار گئےتھے۔ بالخصوص پنجاب سے آنے والوں کو چ±ن چ±ن کر خون میں نہلایا گیا۔ بچوں بوڑھوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ جوان عورتوں کی عزتیں تک لوٹ لی گئیں۔ بہت سوں کو ازخود لوگوں نے زندگی سے محروم کر دیا۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگوں نے کتنے صدمے برداشت کیے‘ کتنے زخم سہے۔ وہ پوری عمر اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے آنسو بہاتے رہے۔ مسلسل آہیں بھرتے رہے۔ یادیں رہ رہ کر انہیں تڑپاتی رہیں مگر وہ پ±ر امید تھے کہ ملک عزیز میں انہیں ضرور س±کھ چین ملے گا ان کو جو بتایا گیا اس پر عمل ہو گا مگر نسلیں وجود میں آتی گئیں اور جاتی رہیں خوابوں کی پگڈنڈی پر رونقوں کا گزر نہیں ہو سکا۔ اب وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے اناسیواں برس ہو چکا ہے تو ہمیں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پریشانیوں کا ایک پہاڑ کھڑا ہو چکا ہے۔ کہا مگر یہی جا رہا ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں عوام ہیں کہ دہائی دے رہے کہ انہیں ہر طرح کے مسائل نے کسی آکاس بیل کی مانند اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس بِیل کی گرفت ہر گزرتے دن کے ساتھ سخت ہوتی جا رہی ہے۔ انہیں اپنا د±کھ بیان کرنے کی بھی اجازت نہیں مگر انہیں اب بھی یہ آس ہے کہ یہ دن ایسے نہیں رہیں گے کیونکہ مشکل وقت کا عرصہ اب طویل نہیں ہو سکتا کیونکہ جب ذہن بیدار ہوتے ہیں تو ٹھہرا ہوا منظر بدل جاتا ہے لہذا یہ جو سیاسی معاشی اور سماجی منظر نامہ جو ہر پل اذیت پہنچا رہا ہے گھنگھور گھٹا کی طرح ٹِک نہیں سکے گا آگے کی جانب سِرک جائے گا۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی مصائب تھے اور لگ رہا تھا کہ وہ کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے مگر انہیں دھرتی باسیوں نے آگے دھکیل دیا “ میخائل شولوخوف کے لکھے شاہکار ناول جب دھرتی جاگی“ میں ایسا ہی منظر پیش کیا گیا ہے۔ میکسم گورکی کے ناول ”ماں“ میں بھی یہی کچھ بتایا گیا ہے لہذا یہ جو صورت حال ہے کہ اس میں ایک اضطراب ہے اور بے چینی ہے ختم ہونے والی ہے یعنی اب قوم کٹھن مرحلوں سے گزر آئی ہے اب اسے خوشوں کے چراغ جلتے ہوئے دیکھنا ہے اپنی منزل کی دل کش و حسیں وادی میں قدم رکھنا ہے لہذا حالت موجود کا غم نہ کر جو گھڑیاں تمھیں بھاری اور بوجھل محسوس ہو رہی ہیں انہیں راستے سے ہٹ جانا ہے۔
ہم مانتے ہیں کہ ہمارے بڑوں سے جن کے ہاتھ میں اختیارات کے قلم تھے وہ اس کا استعمال عوام کے مفاد میں بہت کم کر سکے انہوں نے ذاتی خواہشات کی تکمیل کے لئے ضروری نہیں سمجھا کہ عوام کو دکھوں سے نجات دلائی جائے۔ان میں یہ سوچ ہی نہیں پیدا ہو سکی کہ بے بس عوام کی مشکلات کو ختم کرنے کی زمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔
در اصل تقسیم سے پہلے انگریزوں نے اپنے قدم جمانے کے لئے جہاں انہوں نے قوانین کا سہارا لیا وہاں کچھ لوگوں کو بڑی بڑی جاگیریں دے کر اپنا آلہ کار بنا کر حکمرانی کی ان کے چلے جانے کے بعد بھی ان کا رویہ عوام کے ساتھ ویسا ہی رہا کہ انہیں مرعوب کرو انہیں ڈراو¿ دھمکاو¿ اگر وہ تب بھی قابو میں نہ آئیں تو ان کو سزائیں دلواو¿۔ جاگیر دارانہ طرز عمل اس وقت ختم ہو گا جب ملک میں جمہوریت آئے گی لوگوں کو حق رائے کی آزادی ہو گی ان کی رائے کو مقدم جانا جائے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایسا کرے گا کون؟ قانون سازی تو زیادہ تر وہی لوگ کر رہے ہیں جن کے بڑوں کو انگریزوں نے جاگیریں تحفتاً دی تھیں اگرچہ اب وہ تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر رہی ہیں مگر ان کے مالکان کا مزاج نہیں بدلا لہذا جب تک عوام خود اپنی قیادت نہیں کرتے جو آسانی سے نہیں ہو سکتی تب تک حقیقی جمہوریت نہیں آئے گی؟
بہرحال یہ بات تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ ملک عزیز کو مثالی قیادت نہیں مل سکی جو بھی ملی اس نے عوام کو مایوس کیا انہیں وعدوں پر مشتمل تقاریر سے بہلایا گیا۔ بھٹو صاحب سے عوام کو یہ امید بندھی تھی کہ وہ سوشلزم کے نعرے کو عملی جامہ پہنا کر ایک معاشی انقلاب برپا کر دیں گے مگر انہوں نے انقلاب مخالف قوتوں کو اپنے گرد جمع کر لیا جنہوں نے ان کی راہ میں دیکھی ان دیکھی رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں۔بھٹو صاحب سے ایک غلطی یہ بھی سرزد ہوئی کہ انہوں نے ان جاگیر داروں کو اپنا تابع اور وفادار ساتھی بنانے کے لئے فی کّس پچیس ایکڑ اراضی اپنے نام کروانے کی قانونی حیثیت دلوادی جبکہ صدر ایوب نے فی خاندان کا قانون بنایا اس کے باوجود وہ ان کے ہم نوا نہ بن سکے اور انہیں تختہ دار تک لے گئے پھر بھٹو صاحب نے بغیر تیاری کے سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا اسی لئے قومیائی گئی صنعتیں قائم نہ رہ سکیں اور پیداواری عمل رک گیا۔
یہ پہلو بھی قابل غور ہونا چاہیے کہ اگرچہ ان کے دور میں چند بنیادی خرابیاں پیدا ہوئیں یا غلطیاں ہوئیں مگر ان میں یہ اہلیت و صلاحیت بے پناہ تھی کہ وہ پاکستان کو بام عروج تک لے جاتے۔ یہی چیز امریکی سامراج کو کھٹکنے لگی کہ اس طرح تو پاکستان اس کے دست نگر نہیں رہے گا سب سے زیادہ اہم اور حساس بات مسلم ا±مہ کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا اور ان کے وسائل کو بروئے کار لانا تھا۔ ملک کو جوہری قوت بنانا تھا لہذا اس نے وہ کام کر دکھایا جسے لوگ آج تک نہیں بھلا پائے ایک عوامی لیڈر کو ان سے ج±دا کر دیا گیا جس نے ان کی زندگیوں میں خوشحالی لانے کا عزم کیا تھا۔
قصہ مختصر یہ کہ ہم اناسی برس کے بعد بھی غربت افلاس اور بیماری کے عفریت سے جان نہیں چھڑا سکے۔ہماری معیشت ہانپ کانپ رہی ہے قرضوں نے ہماری مت مار کے رکھ دی ہے آج ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو قائد کے خواب کو حقیقت میں بدل دے !
قیادت کی تلاش کا سفر !
09:35 AM, 16 Aug, 2026