کہاں ہیں اہلِ فکر.....

09:33 AM, 16 Aug, 2026


جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے ، دگرگوں ہے جہاں تازوں کی گردش تیز ہے ساقی ، ہی کا منظر بار بار دہرایا جاتا دیکھا۔ شاید اس لیے کہ یہ آخری دور چل رہا ہے۔ قربِ قیامت کے اعتبار سے۔ خاتم النبین آکر نبوت رسالت کی تکمیل کر گئے۔ گریٹر اسرائیل برائے آمد ِدجال کی راہ ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ جو بچپن میں ’جن کی جان طوطے میں ہے‘ والی کہانیاں پڑھی تھیں، وہ ہم یوں دیکھ رہے ہیں کہ ’طوطا‘ اسرائیل ہے (گرچہ کر یہہ صورت) ، اور امریکہ ، یورپ تمام عیسائی، یہودی دنیا کے حکمران جنات (عوام نہیں) کی جان اسرائیل کے تحفظ اور بقا میں ہے۔ مغربی عوام اٹھ اٹھ کر احتجاج ، مظاہروں کے ریکارڈ توڑ چکے۔ مگر ہر جا موساد کی تربیت یافتہ پولیس اور دیگر ہتھکنڈے انہیں پسپائی پر مجبور کرتے ہیں۔ دجال کی پیشانی پر لکھا (احادیث میں مذکور کافر)’ک ف ر‘ اسرائیلی وردی، جنگجو جہاز پر اور امریکی وزیر دفاع ہیگسیتھ کے بازو پر بھی کندہ (ٹیٹو) ہے۔ دو ضعیف فلسطینیوں کو انسانی ڈھال بنا کر ظالمانہ طریقے سے گولیاں مار کر شہید کرنے والی 92 بٹالین ، ’Kfir‘ والی بریگیڈ کے فوجیوں کی تھی۔
 البتہ حیرت انگیز یہ ضرور ہے کہ تین سالوں میں پہلی مرتبہ اسرائیل کی ’رحم دلی‘ کی خبر آئی۔ وہ یہ کہ ان کے وزیر اتمار بن گویر نے فلسطینی قیدیوں کی جیلوں کے گرد خندقیں کھدوائیں تاکہ اس میں (پانی میں )نیل کے مگر مچھ بطور چوکیدار رکھے جائیں۔ (نیل کے مگرمچھ ، فرعونی زیادہ خونخوار ہوتے ہوں گے!) مگر اسرائیلی کورٹ کی مگر مچھوں کے لیے مامتا تڑپ اٹھی۔ ’جانوروں کو جینے دو‘ نامی تنظیم (اسرائیلی حقوق مگرمچھانِ وطن) نے کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ جانوروں سے بدسلوکی کا اندیشہ تھا اور اسرائیلی عملے کی بھی فکر تھی بظاہر۔ سو یہ پروگرام روک دیا گیا۔ یہ خدشہ بھی ہوگا کہ فلسطینی قیدیوں پر ظلم کی انتہا پر کہیں مگر مچھ آنسو بہاتے اسرائیلی عملے کو ہی نہ نگل جائیں۔ صحابہؓ کے واقعات پڑھ رکھے ہیں جہاں جانوروں نے انہیں پہچانا، تعظیم دی اور حکم مانا!
 ایران پر جنگ کے حوالے سے سابق مشیر ٹرمپ (جو اس جنگ پر احتجاجاً مستعفی ہو گئے تھے) جو کینٹ نے کہا: ’اہم ترین اقدام جو ٹرمپ کر سکتا ہے یہی ہے کہ وہ فوراً اس جنگ سے نکل جائے۔ یہی بہترین راستہ ہے جنگ ختم کرنے کا‘۔ مشیر صاحب تسلی رکھیں ، ٹرمپ کہہ چکا ہے کہ ایران سے دھیمے سروں میں(Low Key!)بات چیت جاری رہے گی۔ کینٹ بلا سبب بے قرار ہو رہے ہیں۔ کچھ مقاصد ہیں، اہداف ہیں جو حاصل ہو جائیں۔ ایران نے بھی اپنے مطالبات دہرائے ہیں۔ امریکی جنگ کے پس پردہ اسرائیل چہار جانب پنجے پھیلا رہا ہے۔ لبنان میں اب تک4,335جان بحق ہو چکے۔ حوثی بھی دوبارہ اٹھ کر سعودی عرب کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہر مزاور باب المندب دونوں ایرانی دائرہ¿ اثر میں ہیں۔ باب المندب پر حوثی ہیں جو دوسری طرف سعودی عرب کے اتحادی یمنیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ 11یمنی جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے۔ یمنی ساحل ڈرونز کے ذریعے تباہ حال کر دیا۔
 ادھر ایران نے زرِ تلافی طلب کیا ہے امریکہ سے اس جنگ کا۔ ہرمز کھولنے کے لیے بھی معاوضہ۔ نیز ایران پر پابندیاں اور فوجی دھمکیاں ختم ہوں۔ یہ تو کھلے مطالبے ہیں۔ دنیا کی معیشت بحری تجارت سے وابستہ ہے سو چند کام نکل جائیں۔ مشرق وسطیٰ کا نقشہ کونڈو لیزا رائس دور کی پیشین گوئی/حقیقی خواہش کے مطابق ہو جائے تو سب ٹھیک (ان کے اعتبار سے) ہو جائے گا۔ غزہ پر قبضہ تقریباً ہو ہی چکا۔ خستہ حالی کی آخری انتہا¶ں پر فلسطینی پہنچائے جاچکے۔ سعودی عرب نے بحری دفاعی اتحاد بنانے کو کثیر الملکی کانفرنس بلائی۔ ریاض میں 30 جولائی کو بشمول یورپی یونین کے ، 43 ممالک نے شرکت کی۔ سبھی کو بحری تجارت کو لاحق خطرات کا احساس تھا۔ تا ہم اس اتحاد کی رکنیت صرف 14مسلم ممالک نے اختیار کی ، جو حوثیوں کی دھمکیوں کے پیش نظر بنا ہے۔ ایسی کوششوں میں اطمینان دلانے کو یورپ کی شرکت رہتی ہے!
 ٹرمپ کے امن معاہدے کا حقیقی مآل بھی سامنے ہے۔ جس کا بہت چرچا تھا۔ ٹرمپ کے گن ہم نے بھی گائے ، خود اس کے دعوے بلند بانگ تھے کہ یہ تباہ کن جنگ کا خاتمہ کر دے گا۔ وہ اصلاََ آج مظلوم فلسطینیوں کے خلاف وحشی جنگی جنونیوں کی درپردہ فتح تھی۔ ایک مکمل نسل کشی کے جرم کے باوجود فلسطین کو آزاد ریاست تو کیا ہونا تھا ، مغربی کنارہ بھی دن بدن ہاتھ سے جا رہا، ظلم کے شکنجے میں ہے۔ حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسے مکمل ختم کرنے کے ٹرمپ و اسرائیلی عزائم کی تکمیل مطلوب ہے بس۔
 آزاد کشمیر کی صورتحال پر بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے شدید تشویش کا مظاہرہ کیا ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی ، چیئر مین عالمی فورم برائے امن و انصاف نے مصدقہ اطلاعات پر (مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے جانی اتلاف کی) قانونی اور اخلاقی تقاضے پر متوجہ کیا ہے۔ یو این ہائی کمیشن نے بھی ہیومن رائٹس کی ذمہ داری کے تناظر میں فوری اور مکمل غیرجانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے، راولا کوٹ میں17جولائی کے واقعے پر۔ وگرنہ یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے موقف کو جموں و کشمیر ، بھارت تنازع پر شدید نقصان پہنچائے گا۔ یہی اظہار تحریر اً30 برطانوی ممبرانِ پارلیمنٹ اور یوکے بھر میں ان کے ساتھیوں ، بشمول کل جماعتی پارلیمانی گروپ چیرمین عمران حسین،ممبر پارلیمنٹ نے کیا ہے۔ گرفتاریوں، مواصلاتی سروسز کی پابندیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے پر زور دیا ہے۔ 
بھارت میں (نیپال ،سری لنکا اور بنگلہ دیش کی مثل!) اب مودی کی آہنی قوت، کم عمر طلباءاور نہتے نوجوانوں کے شہر شہر پھیل گئے مظاہروں کی حدت سے پگھل رہی ہے۔ وزیر کے استعفیٰ پر بھی کہانی ختم نہ ہوئی۔ فرعون پر سُرسُریوں ، مینڈکوں ، جوﺅں کا عذاب اللہ نے بھیجا تھا۔ یہاں آج کے فراعنہ پر بھی مینڈکوں کی طرح ٹراتے(کاکروچوں کی تشبیہہ دی تھی متکبر جج نے) خط ِغربت کے نیچے سے ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ان کا مقابلہ کرتے مواصلاتی رابطوں کا گلا گھونٹا، بھوک ،سختی کا عذاب دیا ، دبانے کی کوشش کی۔ مگر یہ برگر، فوڈ پانڈا کلاس تو نہ تھی کہ دب جاتی۔ عوام کے لیے دیوانی مہنگائی ، بے روزگاری، ذلت میں در در کی خاک چھاننا، تن کے کپڑے ، پا¶ں کی جوتی ، سواری سے محروم آبلہ پائی آخر کب تلک۔ حکمرانوں کی بد عنوانی ، مراعات کی انتہائیں ، گاڑیوں کے شاندار قافلے ، عشرت کدے ، بیرونی ممالک میں سرمایہ کاریاں، جائیدادیں ، اولادیں۔ کہانی تمام تحریکوں ، انقلابوں کی متماثل ہے۔ تیونس میں ایک غریب کی ریڑھی ہی تو الٹی تھی اور عرب بہار نے حکمرانوں کے سبھی عیش بہاریں لوٹ لیں۔ حسنی مبارک، قذافی، بو علی غرض کوئی نہ بچا۔ ڈالروں ، ریالوں بھرے بینک اور ٹرنک سب سامنے آگئے۔ افغانستان میں امریکی تابوت اٹھاتے رہ گئے ، اشرف غنی ڈالر بھر بھر ہیلی کاپٹر لے کر اڑ گیا۔ 
یہ سب امریکہ اور بڑی طاقتیں بھی دیکھ کر رہیں گی۔ جس طرح زہران ممدانی یہودیوں کے گڑھ نیو یارک سے منتخب ہو کر ٹرمپ کو للکارتا رہا۔ اب مشی گن میں مصری مسلمان ڈاکٹر عبد الرحمن عبدل السید (ڈیمو کریٹ) کانگریس کے لیے سینیٹر کے انتخاب پر بطور امیدوار جیت گیا۔زبردست اسرائیل مخالف ، فلسطینی نسل کشی پر شدید ناقد، ٹرمپ پالیسیوں پر ڈٹ کر آواز اٹھانے والا ۔ حد درجے لیاقت، صلاحیت کا حامل۔ بیوی انڈین مسلمان حجابی ڈاکٹر۔ اس کے خلاف بے پناہ پیسہ انتخابی مہم پر یہودیوں نے لٹایا ، طاقتور ترین سیاسی مشینری کا استعمال بھی اسے نہ ہرا سکا۔ عوام غضبناک ہیں کہ ان کے خون پسینے کی کمائی نچوڑ کر سرمایہ دار غیر ملکی قوتوں، اسرائیل اور ذاتی مفادات پر لٹا رہے ہیں۔ یہ لمحہ¿ فکریہ ہے دنیا بھر کے اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں کے لیے۔
 عام امریکی اب ہر معاملے پر احتجاج کر رہا ہے۔ ہر گزرتی گاڑی کی نمبر پلیٹ کی تصویر کشی کرتے کیمروں کو عوام نے جابجا توڑ ڈالا شدید احتجاج کیا۔ ’ہماری نجی زندگی میں تانک جھانک کی جرات کوئی نہ کرے۔ نگرانی کیمرے نامنظور۔ ICE (امیگریشن اور کسٹمز کے جبرینفاذ کا ادارہ) نامنظور !‘ اور یوں سفید فام امریکہ پر سے بھورے ، کالے غیر ملکی نسلوں کے امریکیوں سے ملک پاک کرنے کی ٹرمپی چاہت مصری نوجوان نے خوابِ پریشاں کردی!
13,14اگست کی درمیانی شب12.00بجے جب پاکستان اس اعلان سے وجود میں آیا کہ ’یہ ریڈیو پاکستان ہے‘،تووہ 27رمضان المبارک 1366ھ کی رات تھی۔مگر ہم اسے یومِ آزادی قرار نہیں دے سکتے تھے۔جشنِ آزادی منانے کی کھلی آزادیاں سلب ہو جاتیں!
کہاں ہیں اہلِ فکر جن کی سوچ کے دھارے 
مری مظلوم اس امت کا رخ بدل ڈالیں
        
٭٭٭

مزیدخبریں