یوں تو بھارت کے نو ممالک سے باڈر لگتے ہیں جن میں سات ممالک بشمول پاکستان سے زمینی باڈرذ ہیں اور دو ممالک سری لنکا اور مالدیپ سے بحر ہند میں بحری باڈر لگتے ہیں۔ مگر بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک سے سفارتی اور تجارتی حتہ کہ اسٹراٹیجک تعلقات خاصے خراب چل رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات سے پورا جنوبی ایشیا واقف ہے مگر بھارت کی خطے میں بڑھتی ہوئی سرد جنگیں خطے کے لئے نیک شگون نہیں ہیں۔
بھارت کے پاکستان کے بعد دوسرے بڑے اسٹراٹیجک باڈر کی بات کی جائے تو چین اور بھارت کے مابین بھی کچھ اچھا نہیں چل رہا ہے۔ جولائی کے ماہ میں بھارتی پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے چین کے ساتھ ملنے والی ریاست اروناچل پردیش کا سرکاری دورہ کیا۔ پارلیمانی کمیٹی سے ملاقات میں اروناچل پردیش کے کسانوں اور چرواہوں نے اس بات کا خلاصہ کیا کہ ریاست کے سرسبز علاقوں میں چینی سیکیورٹی فورسز کے اہلکار انہیں کاشت کرنے اور مویشی چرانے نہیں دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہی رہا تو چینی فورسز پہاڑوں سے مزید آگے آ کر گاوں اور کھیتوں پر بھی اپنا قبضہ جما لیں گے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پارلیمانی کمیٹی کی خبر میڈیا پر آنے کے بعد بھی بھارتی حکومت نے کوئی بیان نہیں جاری کیا۔ کیونکہ اروناچل پردیش کے نشادہندہ علاقوں میں بھارت کی باڈر فورس موجود ہی نہیں ہے۔ صرف چین کی فورس ہے۔
بھارتی کے متنازع علاقے لیہ، لداغ میں سیر و تفریح کے لئے جانے والے سیاحوں سے انکشاف کیا ہے کہ لداغ اور آس پاس کے تمام علاقوں میں چینی وقت کام کرتا ہے۔ اس علاقے میں داخل ہوتے ہی موبائل فون چین کا وقت دکھانے لگتے ہیں۔ بھارت کے علاقوں میں آٹومیٹک چینی ٹائم زون لاگو ہونا یہ بتاتا ہے کہ بھارت کا وقت خراب چل رہا ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق چینی فوج نے اروناچل پردیش ریاست میں بھارتی فوج کو گشت کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ ریاست کے تاکسنگ اور سبانسیری اضلاع اس وقت چینی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔
گزشتہ ہفتے چینی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ اروناچل پردیش چین کا حصہ ہے اور اسکا نام زنگنان ہے جو چین کے زیر کنٹرول تبت کا علاقہ ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے سرکاری نقشے میں زنگنان کو چین کا حصہ بھی دکھایا ہے۔
اس کے بعد بھارت نے ایک نقشہ جاری کیا اور اس میں ریاست اروناچل پردیش کے ستائیس علاقوں کو بھارت میں ظاہر کر کے اس کے ستائیس علاقوں کے نام جاری کئے جن کو چین نے مسترد کر دیا ہے۔ بھاجپا حکومت نے حسب روایت کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
سال دو ہزار بیس میں بھارت کی چین کے ساتھ وادی گلوان میں چھڑپیں ہوئی تھیں۔ جن میں بیس بھارتی فوجی اہلکار جانبحق ہوئے تھے۔ درجنوں زخمی اور کئی بھارتی فوجی چینی افواج نے اپنی تحویل میں لے لئے تھے۔ اس وقت بھارتی فوج نے چینی فوج کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے اہلکار چھڑوائے تھے۔ آج کی حقیقت یہ کہ لیہ، لداغ، گلوان، پینگوان جھیل، اکسائی چن کے پہاڑی علاقے، جھیل اور ریاست اروناچل پردیش میں بھی لائن آف ایکچول کنٹرول کے تحت چین کا مکمل کنٹرول ہے۔
بھارت کے ایک اور ہمسائے نیپال کے ساتھ بھی ملکی سطح کے تعلقات خراب ہیں۔ نیپال نے بھارت اور چین کی جانب سے بدھ مت، ہندومت اور جین مت مذاہب کے ماننے والوں کی سالانہ کیلاش مانسروار یاترا کے لیے لیپولیکھ پاس کے راستے کے استعمال پر اعتراض کیا ہے۔ نیپال نے دعویٰ کیا ہے کہ لیپولیکھ پاس نیپال میں واقع ہے۔ جبکہ بھارت اسے اپنے ملک کا پہاڑی علاقہ مان کر اسکا بغیر اجازت مذہبی یاتراوں کے لئے استعمال کرتا آ رہا ہے۔
دو ماہ قبل بھارت نیپال پہاڑی باڈر کے مسئلے پر بات چیت کے لئے بھارت نے سرکاری افسران اور ترجمان کا وفد نیپال بھیجا تھا۔ تاہم نیپال کے وزیراعظم بلیندرا شاہ نے یہ کہتے ہوئے بھارتی وفد سے ملاقات سے انکار کر دیا کہ وہ اپنے ہم منصب سے ملاقات کریں گے۔ جس کے بعد نیپال نے بھارت کے ساتھ باڈر تجارت معطل کر دی ہے۔ یعنی سرحدی کشیدگی تجارتی خسارے میں تبدیل ہو گئی یے۔
نیپال وہ ملک ہے جہاں کے لئے مشہور تھا کہ نیپال کے دارلحکومت کھٹمنڈو شہر میں بھارتی سرکار چلتی ہے مگر آج اس نے بھی بھارت کے ساتھ سرحدی حدود کے معاملے کو سلجھانے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ نیپال کا کہنا ہے کہ 210 سال پرانا سال 1816 کا بھارت نیپال باڈر تقسیم کا سگاولی معاہدہ سرکاری ریکارڈ سے کہیں غائب ہو گیا ہے۔ جب ملے گا تو اس معاہدے کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ نیپالی حکومت کا یہ تلخ رویہ بھارت کے لئے بڑا اپ سیٹ ہے۔
بھارت نے اپنے ہمسائے ممالک سے پنگے لینے کی وجہ سے باڈرذ پر کشیدہ صورتحال اس حد تک خراب کر لی ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہ پراگ جین کو بنگلہ دیش کا ہنگامی دورہ کرنا پڑا ہے۔ پراگ جین کے دو دورہ غیر اعلانیہ سرکاری دورے میں بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمان کے دفاعی امور کے مشیر، بریگیڈیئر جنرل (ر) ڈاکٹر اے کے ایم شمس الاسلام، وزیر داخلہ صلاح الدین احمد، اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فورسز انٹیلی جنس کے نمائندوں سے ملاقات کیں۔ را چیف پراگ جین نے بھارت بنگلہ دیش کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور بات چیت بحال کرنے پر زور دیا۔
یاد رہے بھارت کو بنگلہ دیش کے ساتھ لگنے والی ریاستیں پسچم بنگال، آسام، میگھلایا، تریپورا اور میزورام میں باڈر فنسنگ نہ ہونے کی وجہ سے غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کی بھارت میں نقل و حرکت کے مسئلے کا سامنا ہے۔ بھارت نے سیکیورٹی رسک بتا کر بنگلہ دیشیوں کو زبردستی ملک بدر کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ جسکی وجہ سے بنگلہ دیش نے بھارت سے اپنے سفارتی تعلقات معطل کر کے بھارت کے لئے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے کیونکہ تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر کے بھارتی علاقے میں سرحدی باڑ موجود نہیں ہے جو بنگلہ دیش کی نہیں بھارت کی باڈر سیکیورٹی فورس کی کوتاہی ہے۔ بنگلہ حکومت سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو بھارت میں پناہ دینے پر بھی نالاں ہے۔ یہ بڑھتی ہوئی کشیدگی پراگ جین کو ڈھاکہ لے پہنچی۔
بھارت کے لئے پاکستان اور چین کا دب دبا تو تھا ہی اب تو بنگلہ دیش اور نیپال نے بھی آنکھیں دکھانے شروع کر دی ہیں۔ مگر یہ ہمارے لئے توجہ طلب معاملی ہے کیونکہ بھارت کی تجارتی بندشوں، سرحدی تنازعات اور خراب سفارتی تعلقات کے پاکستاں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان امن کا خواہاں ملک ہے مگر کہتے ہیں نہ کہ انسان بہت کچھ تبدیل سکتا ہے مگر اپنا ہمسایہ تبدیل نہیں کر سکتا۔
بھارت کی زمین تنگ
09:32 AM, 16 Aug, 2026