آگاہی کی کمی، ہماری مشکلات کی اصل وجہ

09:30 AM, 16 Aug, 2026


کسی بھی معاشرے کی ترقی، خوشحالی اور استحکام صرف مادی وسائل، فلک بوس عمارتوں، جدید سڑکوں یا بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ نہیں ہوتی بلکہ اس کا اصل انحصار عوامی شعور، علم اور آگاہی پر ہوتا ہے۔ جب کسی قوم کے افراد کو اپنے بنیادی حقوق، آئینی ذمہ داریوں اور روزمرہ زندگی سے جڑی اہم معلومات کا علم نہ ہو، تو وہ معاشرہ مجموعی طور پر بے پناہ مشکلات اور فکری پسماندگی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد پھیلے مسائل کا گہرائی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ مجموعی طور پر ہمارے معاشرے میں متعدد معاشی، معاشرتی، طبی اور قانونی مسائل کی اصل جڑ آگاہی کی کمی ہے۔ صحت کے شعبے کو ہی دیکھ لیا جائے، جو کسی بھی جاندار معاشرے کا بنیادی ستون ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں صحت کے حوالے سے شعور کی اس قدر کمی ہے کہ بہت سے لوگ بیماریوں کی ابتدائی علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں یا پھر نیم حکیموں، عطائیوں اور غیر مستند معلومات کی بنیاد پر خود ہی اپنا علاج یعنی سیلف میڈیکیشن شروع کر دیتے ہیں۔ کئی مریض بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے ایسی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں جن سے ابتدائی مرحلے میں معمولی احتیاط یا سستی دوا کے ذریعے باآسانی بچا جا سکتا تھا۔ یعنی مریض کو اصل علاج سے زیادہ نقصان معاشرے میں پھیلی غلط فہمیوں، وہم اور افواہوں سے پہنچتا ہے۔
میرا چونکہ اپنے بڑے بھائی کے ڈائلسز کے سلسلے میں لاہور کے اتفاق ہسپتال میں ریگولر آنا جانا ہو رہا ہے، تو میں وہاں پر روزانہ کی بنیاد پر جو مناظر دیکھتی ہوں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ ان میں سے اکثریت کو یہ بنیادی بات تک معلوم نہیں کہ حکومت کی طرف سے ڈائلسز جیسا مہنگا علاج کئی نجی ہسپتالوں میں ان کے صحت کارڈ پر بالکل مفت ہے۔ حد تو یہ ہے کہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کا قومی شناختی کارڈ ہی دراصل ان کا صحت کارڈ ہے اور یہی عدم آگاہی کی بدترین صورتحال ہے۔ ہم خود بحریہ آرچڈ ہسپتال میں ڈائیلاسز کے لیے اب صحت کارڈ پر شفٹ ہو چکے ہیں۔اس سنگین معاملے پر ریاستی سطح پر کوئی مناسب کام نہیں کیا گیا اور نہ ہی شاید ان لوگوں کی سوشل میڈیا تک رسائی ہے کہ انہیں یہ معلوم ہو سکے کہ حکومتی سطح پر ان کے اتنے بڑے اور جان لیوا مسائل کا حل پہلے سے موجود ہے۔ ہمارے پالیسی ساز یہ بھول جاتے ہیں کہ ہسپتالوں کے چکر کاٹنے والے یہ لوگ فیس بک یا یوٹیوب پر اشتہارات نہیں دیکھتے، انہیں براہِ راست اور زمینی سطح پر رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ مفقود ہے۔
صحت کی طرح، تعلیم کے میدان میں بھی آگاہی کی کمی انتہائی واضح اور تکلیف دہ شکل میں نظر آتی ہے۔ ہمارے دیہی اور پسماندہ شہری علاقوں میں آج بھی بہت سے والدین بچوں کی تعلیم، بالخصوص بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کی اہمیت کو مکمل طور پر نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف میٹرک یا انٹر کر لینے کا نام ہے یا پھر وہ جدید دور کے تعلیمی تقاضوں اور نئے مواقع سے بالکل ناواقف ہیں۔آج کی دنیا ڈیجیٹل سکلز اور جدید علوم کی طرف منتقل ہو چکی ہے لیکن ہمارے بچوں کو کیریئر کونسلنگ میسر نہیں ہے۔ نتیجتاً ملک کے لاکھوں باصلاحیت بچے مناسب رہنمائی، سکالرشپس کی معلومات اور درست سمت نہ ملنے کے باعث اپنی خداداد صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ طلبہ کی اکثریت صرف چند روایتی شعبوں کے پیچھے بھاگتی ہے اور وہاں گنجائش نہ ہونے کی صورت میں مایوسی کا شکار ہو کر تعلیم ہی چھوڑ دیتی ہے، جبکہ دنیا میں ترقی کے ہزاروں دیگر راستے ان کی لاعلمی کی وجہ سے بند رہ جاتے ہیں۔قانونی اور انتظامی معاملات میں بھی یہی مایوس کن صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔ ایک عام پاکستانی شہری اپنے بنیادی آئینی حقوق، تھانے کچہری کے نظام اور قانونی طریقہ کار سے بالکل ناواقف ہوتا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ اگر کوئی اس کا استحصال کرے تو اسے داد رسی کے لیے کہاں جانا چاہیے۔ اس ہمہ گیر لاعلمی کا براہِ راست فائدہ معاشرے کے دھوکے باز عناصر، جعل ساز، راشی کارندے یا بااثر لوگ اٹھاتے ہیں۔ غریب آدمی کو قانون کا ڈر دکھا کر اس کی زمینوں پر قبضے کر لیے جاتے ہیں یا اسے جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر لوٹا جاتا ہے۔ اگر شہریوں کو اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی قانونی ذمہ داریوں کا درست شعور ہو تو ملک کی عدالتوں کا بوجھ بھی ہلکا ہو سکتا ہے اور روزمرہ کے ہزاروں تنازعات، لڑائیاں اور ناانصافیاں جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔
سماجی اور معاشرتی سطح پر بھی آگاہی کی کمی مختلف قسم کی فرسودہ اور خطرناک روایات کو جنم دیتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں تحقیق کا رواج نہیں ہے اور بعض اوقات محض سنی سنائی باتوں، توہمات اور من گھڑت قصوں کو حقیقت سمجھ لیا جاتا ہے اور آنکھیں بند کر کے ان پر عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہی غلط تصورات اور توہمات ہمارے معاشرتی رویوں اور ثقافت کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ نتیجتاً ایسے پے در پے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کی بنیاد کسی ٹھوس حقیقت یا عقل کے بجائے صرف اور صرف غلط معلومات اور جہالت پر ہوتی ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ پولیو جیسی مہمات کے خلاف افواہیں پھیلا کر نسلوں کو معذور کر دیا جاتا ہے یا پھر صحت و صفائی کے بنیادی اصولوں سے دوری کی وجہ سے پورا خاندان وبائی بیماریوں کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔موجودہ دور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے جہاں معلومات تک رسائی آج سے چند سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان، تیز اور سستی ہو چکی ہے۔ ہر شخص کے ہاتھ میں موجود سمارٹ فون دنیا بھر کی معلومات کا خزانہ سمیٹے ہوئے ہے لیکن ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معلومات کی کثرت ہمیشہ درست آگاہی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ 
 سچی آگاہی وہ ہے جو عقل، منطق اور تحقیق کی کسوٹی پر پوری اترے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں اور قوموں نے علم، تحقیق اور شعور کو اپنی اولین ترجیح بنایا، وہی دنیا میں معزز کہلائیں اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوئیں۔ آگاہی انسان کو صرف معلومات ہی فراہم نہیں کرتی بلکہ یہ انسان کو بہتر اور بروقت فیصلے کرنے کی طاقت دیتی ہے، ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچاتی ہے اور اپنے معاشی و سماجی حالات کو خود بدلنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی باشعور قومیں اپنے کارخانوں سے زیادہ اپنے شہریوں کے فکری شعور پر سرمایہ کاری کرتی ہیں، کیونکہ شعور یافتہ اور باخبر افراد ہی کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اور حقیقی سرمایہ سمجھے جاتے ہیں۔ مادی دولت ختم ہو سکتی ہے لیکن فکری بیداری نسلوں کو سنوار دیتی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف مسائل کا رونا رونے کے بجائے ان کے حل کی طرف بڑھیں اور عدم آگاہی کے اس اندھیرے کو دور کرنے کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ جب بھی کوئی مفادِ عامہ کا منصوبہ، جیسے صحت کارڈ یا تعلیمی وظائف شروع کرے، تو اس کی تشہیر صرف سوشل میڈیا یا ٹی وی تک محدود نہ رکھے۔ ہسپتالوں، سکولوں اور عوامی مقامات پر مقامی زبانوں میں معلوماتی بینرز آویزاں کیے جائیں اور ہسپتالوں میں خصوصی ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں جہاں عملہ خود آنے والے ان پڑھ مریضوں کی رہنمائی کرے۔ میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی ریٹنگ کی دوڑ سے نکل کر روزانہ چند گھنٹے عوامی شعور کی بیداری، صحت کے اصولوں اور قانونی حقوق کی معلومات کے لیے وقف کرنے چاہئیں۔

مزیدخبریں