کل یوم آزادی تھا اور ہم نے اسے خوب جی بھر کر منایا۔ کیوں نہ مناتے کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں اور آزاد قومیں اپنی آزادی کا جشن منانے کا پورا پورا حق رکھتی ہیں۔ ویسے بھی اب تو جب سے ہم نے گزشتہ سال سے بھارت کو عبرت ناک شکست دی ہے ہمیں تو ہر خوشی کئی گنا زیادہ محسوس ہونے لگی ہے۔ یہاں تک کہ وہ "پاں پاں" جو دو سال پہلے تک ہر بار یوم آزادی پر ناک میں دم کئے رکھتی تھی اب تو وہ بھی بری نہیں لگتی بلکہ کسی حد تک اچھی لگنے لگی ہے۔ اب تو ہمارے شعراءبھی "آواز پا" کو "آواز پاں" باندھنے لگے ہیں۔ ویسے ہم نے تو کئی سال پہلے ہی اس پاں پاں کی شان میں قطعہ لکھ دیا تھا۔ پیش خدمت ہے:
صد شکر ہم بھی شہری ہیں آزاد ملک کے
یہ بات ذہن میں رہی رقصاں تمام دن
اس بات کو وہ دیتی رہی اور تقویت
ہوتی رہی فضا میں جو پاں پاں تمام دن
خیر ہم نے کل سارا دن اس پاں پاں سے لطف اندوز ہونے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ صرف ایک آدھ موقع پر ایسا ہوا کہ پاں پاں نے ہمیں اچھا خاصا ڈسٹرب کیا اور وہ موقع تھا جمعہ کی نماز کا۔ پاں پاں کے شور میں امام صاحب کا خطبہ سننا مشکل ہو گیا تھا بلکہ نماز کی رکعتیں پکڑنا بھی خاصی بڑی آزمائش بن گیا تھا کیونکہ جیسے ہی امام صاحب اللہ اکبر کہتے پاں پاں کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو جاتیں اور تکبیر کی آواز پاں پاں میں دب جاتی۔ سو ہمیں سماعت کی بجائے بصارت کے سہارے نماز مکمل کرنا پڑی۔ اس موقع پر دل میں خیال آیا کہ اپنے بچوں کو بتایا جائے کہ یہ ملک صرف آزاد ہی نہیں اسلامی بھی ہے اس لیے شعائر اسلامی کا تھوڑا بہت خیال کر لیا کریں اگر ہم نے پاں پاں ہی کرنا تھی تو وہ ہم انڈیا میں بھی آرام سے کر سکتے تھے۔ پھر خیال آیا کہ کوئی بات نہیں بچے ہیں اگر سال میں ایک آدھ دن لوگوں کی نمازیں خراب کر بھی لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ پھر یہ بھی خیال آیا کہ اگر 14 اگست اور جمعہ ایک ہی دن آجائیں تو کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ دونوں میں سے کسی ایک دن کو آگے کر لیا جائے۔ یا تو 14 اگست ہی 15 اگست کو منا لی جائے یا پھر جمعہ کو ہفتے کے دن پڑھ لیا جائے۔ خیر یہ سب تو ضمنی باتیں ہیں اصل بات یہ ہے کہ آسمان کو چھوتی مہنگائی کے باوجود پچھلے سال کی طرح اس بار بھی 14 اگست منانے کا بہت مزہ آیا۔ اندرونی حالات جیسے بھی ہوں گزشتہ ایک سال کے دوران میں عالمی منظر نامے پر پاکستان جس طرح ابھر کر سامنے آیا ہے اس سے واقعی دل کو بہت خوشی ملتی ہے۔ یہ سب ہمیں ایک خواب جیسا محسوس ہوتا ہے۔ ایک حسین خواب جیسا، لیکن دوسری طرف ایک ایسا طبقہ بھی ہے جسے یہ سب ایک ڈراﺅنا خواب لگتا ہے۔ اس طبقے کی جانب سے سوشل میڈیا پر یوم آزادی کے حوالے سے جس قسم کی پوسٹیں دیکھنے کو مل رہی ہیں اس سے تو کم از کم اسی تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ وہ اس جشن سے خوش ہے نہ پاکستان کو ملنے والی عزت سے اور نہ اس کے نزدیک وہ آزادی کوئی آزادی ہے جس میں ان کا دیوتا پس دیوار زنداں ہو۔ اس طبقے کو بھی سمجھ لینا چاہیے کہ شخصیات بڑی نہیں ہوتیں وطن بڑا ہوتا ہے۔ شخصیات تو آنی جانی چیز ہیں پہلے بھی بہت شخصیات آئیں اور اپنے دور میں بہت نامور ہوئیں لیکن آج وہ بے نشان ہو چکی ہیں مگر وطن قائم و دائم ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ سو ہمیں بھی اس کے آگے بڑھنے میں اپنا حصہ ڈالتے رہنا چاہیے، بھلے باجا بجا کر ہی ڈالیں تاکہ فخر کے ساتھ دوسروں کو یہ تو بتا سکیں:
ہم نے آزادی سے ہے اب کے بھی
یوم آزادی کو منایا خوب
رات بھر گولیاں چلاتے رہے
سارا دن باجا بھی بجایا خوب
یوم آزادی اورباجا
09:18 AM, 15 Aug, 2026