کل 14 اگست تھا۔ پاکستان نے اپنی آزادی کا جشن منایا اورآج 15 اگست کو بھارت اپنا یوم آزادی منارہا ہے۔ دونوں ممالک کے لیے یہ دن برطانوی استعمار سے نجات کا دن ہے۔ مگر جشنِ آزادی کے شور میں ایک بنیادی سوال ضرور اٹھنا چاہیے: گورا چلا گیا، مگر کیا گورے کا نظام بھی چلا گیا؟
برصغیر پر انگریز کے قبضے سے پہلے یہاں مسلمان حکمران ضرور تھے، مگر مغل بنیادی طور پر وسطی ایشیا کے تیموری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بابر کی پدری نسبت تیمور اور مادری نسبت چغتائی منگول خاندان سے تھی۔ تاہم مغلیہ دور میں ہندوستانی، فارسی، وسطی ایشیائی اور مسلم عناصر مل کر ایک ایسی تہذیب بناتے گئے جس میں ہندو، مسلمان اور سکھ اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔
پھر انگریز آیا اور حکمرانی کا مزاج بدل گیا۔
برطانوی استعمار میں پولیس، قانون، ضلعی انتظامیہ اور افسر شاہی بنیادی طور پر عوام کو بااختیار بنانے کے لیے نہیں بلکہ رعایا کو کنٹرول کرنے کے لیے منظم کیے گئے۔ 1857 کے بعد پھانسیوں، گرفتاریوں، اجتماعی سزاو¿ں اور قتلِ عام نے اس نظام کی سختی ظاہر کردی۔ مگر المیہ یہ ہے کہ 1947 میں انگریز چلا گیا، اس کا انتظامی فلسفہ بڑی حد تک باقی رہ گیا۔
آج بھی چیئرمین ایف بی آر، آئی جی، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، وفاقی سیکرٹری اور دوسرے اعلیٰ عہدیداروں کے گرد ایسا اختیار کا حصار قائم ہے جس میں عہدہ خدمت سے زیادہ اقتدار کی علامت بن جاتا ہے۔ وزیراعظم سے لے کر انتہائی بڑے افسر تک، ہر کوئی اپنے اندر ایک نادر شاہ لیے پھرتا ہے۔ اختیار عوام کی خدمت کے لیے ملتا ہے، مگر اکثر عوام پر برتری کے اظہار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔میرے دوست وسیم خان، جو کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ ہیں، نے برسوں پہلے شکار کے ایک سفر کا واقعہ سنایا۔ بڑے سرکاری اور بااثر لوگ شکار کے لیے گئے۔ راستے میں ایک چھوٹی سی پانی کی کھائی آگئی۔ ایک ہاری کو بلایا گیا اور کہا گیا کہ وہ کھائی میں لیٹ جائے تاکہ شکاری اس کی پشت پر قدم رکھ کر دوسری طرف چلے جائیں۔
وہ شخص بھی کسی کا باپ، بھائی یا بیٹا تھا۔ شاید وہ بھی پاکستان زندہ باد کہتا ہوگا۔ مگر اس کے لیے آزادی کیا تھی؟ صرف یہ کہ گورا چلا گیا، یا یہ بھی کہ اب ریاست اسے عزت دے گی؟یہی سوال آج بھی زندہ ہے۔ریاستی ادارے اگر اپنا بنیادی کام کرنا چھوڑ دیں تو نئے ادارے بنانا مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ نظام کی کمزوری کی علامت بن جاتا ہے۔ پنجاب میں جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے CCD کا قیام بھی اسی بحث کو جنم دیتا ہے۔ جرائم کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اگر نئے ادارے کی ضرورت اس لیے محسوس ہو کہ پولیس، تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام اپنا کام مو¿ثر طور پر نہیں کر رہے تو اصل ضرورت نئے ادارے سے زیادہ موجودہ نظام کی اصلاح ہے۔
اگر کسی ملزم کے ساتھی اسے چھڑانے کے لیے پہنچ جائیں، جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان فائرنگ میں انہی کے لوگ مارے جاتے رہیں اور سینکڑوں واقعات کے باوجود مستقل حل پیدا نہ ہو تو سوال صرف مجرموں کا نہیں رہتا، ریاستی رٹ کا ہوجاتا ہے۔پولیس اگر طاقتور شخص کے خلاف کارروائی کرے تو اسے بھی قانون کے مطابق کرنی چاہیے، اور اگر پولیس افسر کے خلاف شکایت ہو تو اس کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ ریاستی طاقت کا مطلب یہ نہیں کہ ادارہ خود عدالت بن جائے۔پھر عدالت کہاں گئی؟ پراسیکیوشن کہاں گئی؟ ثبوت کہاں گئے؟ اور شہری کا آئینی حق کہاں گیا؟
ہم نے آزادی اس لیے حاصل نہیں کی تھی کہ ایک غیر ملکی حاکم کی جگہ اپنے حاکم پیدا کرلیں۔ آزادی کا مطلب تھا کہ حکومت قانون کے تابع ہوگی اور شہری قانون کے ذریعے محفوظ ہوگا۔
یہی اصول کسٹمز، ایف بی آر، پولیس اور انتظامیہ پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر اپریزر، ایگزامنر، ایس ایچ او یا کسی انتظامی عہدے کی پوسٹنگ مالی منفعت کا ذریعہ بن جائے تو پھر مسئلہ فرد کا نہیں، پورے نظام کا ہے۔ کرپشن بھی اچانک پیدا نہیں ہوئی؛ قیامِ پاکستان کے بعد جعلی کلیموں، الاٹمنٹ، سفارش اور عہدوں کے مفادات سے اس نے شکلیں بدلیں اور وقت کے ساتھ سیاست و انتظامیہ میں گہری ہوتی گئی۔
اعلیٰ سرکاری عہدوں پر دوہری شہریت کا مسئلہ بھی محض حب الوطنی کا نہیں بلکہ ریاستی اعتماد، مفاد اور جواب دہی کا سوال ہے۔ جو شخص ریاست کے حساس فیصلے کرتا ہو، اس کے مفادات اور ذمہ داریوں کے بارے میں واضح قانونی اصول ہونے چاہئیں۔
آج اگر ایک عام شہری موقع ملتے ہی بیرونِ ملک جانے کو کامیابی سمجھتا ہے تو یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں، ریاست اور فرد کے درمیان اعتماد کے بحران کی علامت بھی ہے۔ انسان صرف روٹی نہیں چاہتا؛ اسے عزت، انصاف، اظہار اور آزادی بھی چاہیے۔ہم آج بھی انگریز کی بنائی ہوئی عمارتیں، ریلوے اور بعض ادارے استعمال کرتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت اس کی ایک مثال ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انگریز نے کیا بنایا؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے اس کے جانے کے بعد اپنے شہری کے لیے کیا بنایا؟
آج نئی سڑکیں بنتی ہیں، نئی بستیاں آباد ہوتی ہیں، اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں، مگر بارش آتے ہی شہر ڈوب جاتے ہیں۔ منصوبہ بندی، دیانت اور جواب دہی کا فقدان ترقی کے دعووں کو بے معنی کردیتا ہے۔
تو پھر 14 اگست ہمیں صرف جشن نہیں، خود احتسابی بھی سکھاتا ہے۔
اگر خالص خوراک نہیں ملتی، خالص میرٹ نہیں ملتا، انصاف کے لیے طاقتور کا سہارا چاہیے اور عام شہری کو اپنے ہی ملک میں تحفظ کا یقین نہیں تو ہمیں پوچھنا ہوگا کہ ہماری آزادی کہاں ہے؟
گورا چلا گیا، مگر اگر حاکم اور محکوم کا رشتہ وہی رہ گیا تو آزادی ادھوری ہے۔ریاست طاقتور ہو، مگر قانون کے اندر۔ پولیس سخت ہو، مگر عدالت کا متبادل نہ ہو۔ حکومت فوری کارروائی کرے، مگر آئین کے دائرے میں۔ افسر بااختیار ہو، مگر جواب دہ بھی ہو۔امن ظلم سے نہیں، انصاف سے آتا ہے۔ریاست فریق نہیں، امین ہو۔ مقتول کو انصاف کے لیے طاقتور کی ضرورت نہ ہو، ملزم کو دفاع کے لیے طاقتور کی ضرورت نہ ہو اور عام شہری کو اپنی حفاظت کے لیے کسی گروہ کی ضرورت نہ ہو۔کیونکہ جس ملک میں ہر شخص اپنی حفاظت خود کرنے لگے، وہاں ریاست باقی نہیں رہتی؛ صرف طاقتور گروہ باقی رہ جاتے ہیں۔پھر آزادی کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہوجاتا ہے۔ہمیں ایسی آزادی نہیں چاہیے جس میں ظلم بھی رہے اور امن کا دعویٰ بھی۔جہاں ظلم موجود ہو وہاں امن نہیں ہوتا، صرف خاموشی ہوتی ہے اور خاموشی کو آزادی سمجھ لینا تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہے۔
ظلم رہے اور امن بھی ہو
09:16 AM, 15 Aug, 2026