سچ اور جھوٹ کی سیاست

09:06 AM, 16 Aug, 2025


پرانے لوگ پرانی کہانیاں پرانے سچ اور پرانے جھوٹ دہرانے کا فائدہ نہیں ہے۔ پرانی باتیں تو اس وقت بار بار کہیں کہ جب جھوٹ بولنے والوں نے جھوٹ بولنا بند کر دیا ہو اور توبہ تائب ہو کر سچ اور حق کی سیاست شروع کر دی ہو۔ یہ نہیں کہ سیاست میں جھوٹ نہیں بولا جاتا بالکل بولا جاتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ صرف جھوٹ کے سوا کچھ اور کہا ہی نہ جائے۔ ایک وقت تھا اور ہماری عمر کے لوگوں نے تو اس بھلے وقت کے ڈھلتے سائے کو ہی دیکھا ہے لیکن یقین کریں کہ وہ اس بھلے وقت کا وہ مختصر دور بھی ذہن پر اس حد تک نقش ہو چکا ہے کہ شاید مرتے دم تک مٹ نہ سکے۔ نظریاتی لوگ تھے اور صرف نظریاتی قیادت ہی نہیں تھی بلکہ کارکن کی سطح تک بھی نظریاتی لوگوں کی اکثریت مل جاتی تھی۔ جنرل ضیاءنے جب مارشل لاءلگایا تو اس وقت کے سیاسی پنڈتوں نے لکھا کہ کوشش کے باوجود بھی ضیاءرجیم کو بھٹو صاحب کے خلاف کوئی کرپشن کا کیس نہیں مل سکا لیکن پھر جنرل ضیاءکے دور میں کرپشن کے کاروبار نے عروج پکڑنا شروع کیا اور کیسی قیامت کی نشانی ہے کہ جس دور میں کرپشن کی کہانیوں نے پاکستان کی سیاست کو آلودہ کرنا شروع کیا تو اسی دور میں جنرل ضیاءنے آئین کے اندر آرٹیکل 62 اور 63 کو شامل کیا کہ صادق اور امین کے علاوہ کوئی اور شخص پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔ اس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ صرف صادق اور امین لوگ ہی پارلیمنٹ کے رکن بنتے بلکہ اس سے مراد یہ تھی کہ جنہیں صاحب لوگ صادق اور امین قرار دے دیں بس وہی صادق اور امین قرار پا کر عوامی عہدے کے اہل قرار پائیں گے۔ پھر یہی ہوا اور اس کی انتہا اس وقت ہوئی کہ جب یو ٹرن کے فضائل بیان کرنے والے میرے محبوب رہنما بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے صادق اور امین قرار دے دیا حالانکہ اکثر صاحب رائے اہل بصیرت لوگوں کے خیال میں صادق اور امین فقط میرے آقاﷺ کے لیے مخصوص ہے لیکن نہیں جب 18ویں ترمیم کے وقت ان آرٹیکلز کو نکالنے کی کوشش کی گئی تو نام نہاد صالحین نے یہ کام نہ ہونے دیا۔
خیر بات ہو رہی تھی جھوٹ اور سچ کی سیاست کی تو حال یہ ہے کہ اب تو کھلم کھلا ایسے جھوٹ بھی بولے جاتے ہیں کہ جن کی معیاد چند گھنٹے بھی نہیں ہوتی لیکن پھر بھی بار بار بولے جاتے ہیں اور ہماری من حیث القوم یہ حالت ہو گئی ہے کہ جو جس جماعت کا حامی ہوتا ہے وہ ڈٹ کر ان کذب بیانوں کا دفاع کرتا ہے اور اسے کوئی شرم بھی محسوس نہیں ہوتی۔ جس طرح کہ کالم کے شروع میں عرض کیا کہ پرانے لوگ پرانی کہانیاں پرانے سچ اور پرانے جھوٹ دہرانے کا فائدہ نہیں ہے۔ پرانی باتیں تو اس وقت بار بار کہیں کہ جب جھوٹ بولنے والوں نے جھوٹ بولنا بند کر دیا ہو۔ ابھی چند دن پہلے لوگوں نے آپس میں شرطیں لگانا شروع کر دیں کہ 5 اگست کے احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے آئیں گے یا نہیں اور یہ عام لوگوں نے ہی نہیں بلکہ جو خاص لوگ تھے وہ عام سے بڑھ کر اس میں حصے لے رہے تھے۔ علیمہ خان صاحبہ نے تو کہا تھا کہ بانی کے دونوں بیٹے 5 اگست کے احتجاج میں آئیں گے لیکن محترم وقاص اکرم نے کہا تھا کہ کون کہتا ہے کہ وہ نہیں آئیں گے وہ لازمی آئیں گے۔ پھر ان کے پاس نائیکوپ ہے پھر ایک کا گم ہو گیا ہے اور دوسرے کا مل نہیں رہا پھر انہوں نے پاکستان آنے کے لیے ویزے کے لیے پاکستانی ہائی کمشنر لندن میں درخواست دی ہے لیکن جب سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا کہ اب درخواست نہیں دی جاتی بلکہ آن لائن ویزہ اپلائی کیا جاتا ہے تو پھر آن لائن اپلائی ہو گیا لیکن آج تک اس آن لائن اپلائی کیے گئے ویزے کا ٹریکنگ نمبر میڈیا کو نہیں دیا گیا تو اندازہ کریں کہ صرف بانی پی ٹی آئی کے پاکستان آنے کے لیے کتنے جھوٹ بولے گئے لیکن پھر اس جھوٹ میں بھی مزید کیے رنگ بھرے گئے کہ پہلے میڈیا میں جمائما کی جانب سے کہا گیا کہ وہ پاکستان نہیں آئیں گے اور پھر بانی پی ٹی آئی نے جیل میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان کو سیاست پر بات نہیں کرنا چاہیے تھی میرے بیٹے پاکستان آئیں گے لیکن وہ مجھ سے ملاقات کریں گے کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے۔
یہ تو ایک جھوٹ ہے لیکن یہاں تو جھوٹ کی ایک پوری فیکٹری ہے جو کام کر رہی ہے۔ ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کیا تو کہا ”دیکھ لینا یہ جواب نہیں دیں گے“ لیکن پھر پاکستان نے ایسا جواب دیا کہ ہندوستان ہی نہیں پاکستان کے تمام مودیز بھی ساری عمر اس جواب کو بھولیں گے نہیں اور پھر بھول بھی کیسے سکتے ہیں کہ انہیں تو اب تک سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ ان کے ساتھ پانچ گھنٹے کی قلیل مدت میں ہوا کیا تھا اور اس کے بعد اب تک مودی کی ہندوستان اور ہندوستان سے باہر پوری دنیا میں جو ذلت و رسوائی ہو رہی ہے اسے کیسے روکا جائے۔ امریکن دورے پر کہا گیا ”فیلڈ مارشل کو اتنی عزت ملی ہے تو کچھ تو دیا ہو گا“ تو اس کے بعد انڈیا پر پچاس فیصد ٹیرف لگ گیا۔ پھر کہا کہ نہیں کچھ تو دیا ہو گا تو امریکہ کی جانب سے کالعدم بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا گیا۔ اسے کہتے ہیںکہ
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے

مزیدخبریں