فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، ناقابلِ تسخیر دفاع کی علامت

09:04 AM, 16 Aug, 2025


پاکستان کی تاریخ کے ہر دور میں ایسے مردِ مجاہد پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اپنے حوصلے، بصیرت اور قیادت سے اس سرزمین کو نئی زندگی بخشی، مگر عصرِ حاضر میں ایک ایسا نام ابھرا ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے عزم و وقار کی علامت بن چکا ہے، وہ نام ہے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا، ایک ایسا سپہ سالار جس نے اپنے فولادی ارادے، شفاف نیت اور دوراندیش حکمت عملی سے نہ صرف دشمن کو ہر محاذ پر پسپا کیا بلکہ دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان آج بھی ناقابلِ تسخیر ہے، یہ کوئی جذباتی دعویٰ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جسے اب دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ یاد رہے کہ چند برس قبل پاکستان ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا تھا جہاں معیشت ڈیفالٹ کے دہانے پر تھی، عالمی ادارے بداعتمادی کا شکار تھے، پروازوں پر پابندیاں عائد تھیں، تجارتی معاہدے منجمد ہو چکے تھے، کئی ممالک کے دروازے ویزا پالیسیوں کی سختیوں کے باعث بند ہو گئے تھے اور سفارتی تنہائی کے سائے گہرے ہو چکے تھے، لیکن عاصم منیر نے اس اندھیرے میں امید کا چراغ جلایا، اپنے تدبر اور فیصلہ کن اقدامات سے حالات کا دھارا بدل ڈالا، آج دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک بار پھر باوقار، ذمہ دار اور مضبوط ریاست کے طور پر ابھر چکا ہے، عالمی سرمایہ کار پاکستان کی طرف لوٹ رہے ہیں، فضائی آپریشنز بحال ہو رہے ہیں، تجارتی دروازے کھل رہے ہیں، اور سب سے بڑھ کر امریکہ نے باقاعدہ یہ تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان خطے کا ایک مرکزی اور فیصلہ کن ملک ہے جس کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن، توازن اور ترقی کا خواب ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نے جنرل عاصم منیر سے ملاقات کو نہ صرف اپنی خوش قسمتی قرار دیا بلکہ اس ملاقات کو پاک امریکہ تعلقات کے نئے دور کا سنگ میل بھی کہا، یہ اعتراف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب کسی کا محتاج نہیں بلکہ خطے کی تقدیر بدلنے والا ایک اہم کردار ہے۔ دشمن کی سازشیں ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف سرگرم رہی ہیں مگر حالیہ پاکبھارت کشیدگی میں جنرل عاصم منیر کی قیادت نے دنیا کو چونکا دیا، بھارت کی جارحیت کو نہ صرف بروقت اور فیصلہ کن انداز میں ناکام بنایا گیا بلکہ عالمی برادری کے سامنے بھارت کی عسکری کمزوری اور ناکامی کو یوں بے نقاب کیا گیا کہ دہلی کی پالیسی ساز قوتیں بھی ہل کر رہ گئیں، پاک فوج کی بروقت انٹیلی جنس، جامع جنگی منصوبہ بندی اور جوانوں کی بے مثال جرا¿ت نے دشمن کو اس کے اڈوں تک جا کر واضح پیغام دیا کہ پاکستان کا دفاع کسی سیاسی نعرے کا مرہونِ منت نہیں بلکہ ایک اٹل اور ناقابلِ شکست حقیقت ہے، یہ کامیابی صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کے لیے ایک عظیم فتح ثابت ہوئی کیونکہ دنیا نے کھل کر تسلیم کیا کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع میں بے مثال ہے بلکہ امن قائم رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جنرل عاصم منیر نے جان لیا تھا کہ ایک محفوظ پاکستان کے لیے اندرونی صفائی بھی ضروری ہے، اسی لیے انہوں نے کرپشن کے خلاف ایک ایسی فیصلہ کن مہم شروع کی جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنے گی، 2025 میں نیب کی 547 ارب روپے سے زائد کی ریکوری اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شفافیت اور ایمانداری اب صرف تقریروں تک محدود نہیں بلکہ عملی حقیقت ہیں، اس اقدام نے عوام میں اعتماد پیدا کیا، عالمی سرمایہ کاروں کو حوصلہ دیا اور معیشت میں نئی جان ڈال دی، سرمایہ کاری کے دروازے کھل گئے، صنعت و تجارت کو فروغ ملا، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے اور پاکستان ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو گیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے دفاعی میدان میں جدید ترین ٹیکنالوجی کو اپنانے، سائبر سکیورٹی کو مضبوط بنانے، ڈرون اور میزائل ڈیفنس سسٹمز کی تیاری اور ریڈار 
نیٹ ورک کے پھیلاو¿ پر خصوصی توجہ دی، دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کو ترجیح دی گئی، بین الاقوامی دفاعی نمائشوں میں پاکستان کی شمولیت اور دفاعی معاہدوں نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اب صرف اپنی ضرورت کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک معتبر دفاعی صنعت کا مرکز بن چکا ہے، اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، چین، ترکی، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا ہوئی، مشترکہ معاشی منصوبے اور توانائی و معدنیات کے شعبوں میں بڑے معاہدے طے پائے، خاص طور پر معدنی وسائل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھلنے سے پاکستان کی معیشت کو مضبوط سہارا ملا اور عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا مقام بلند ہوا۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ انہوں نے ہر قدم پر عوام کا اعتماد حاصل کیا، ان کے خطابات میں جوش، ولولہ اور ایک واضح وژن جھلکتا ہے، انہوں نے نوجوانوں کو ترقی میں کردار ادا کرنے کی دعوت دی، تعلیمی اور فنی تربیت کے منصوبے متعارف کرائے، خواتین کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے، اور سب کو ایک قوم کے طور پر متحد کرنے پر زور دیا، ان کا پیغام ہمیشہ یہی رہا کہ پاکستان کا دفاع صرف بندوق کی نالی پر نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور قربانی کے جذبے میں ہے، آج جب دنیا کے بڑے ممالک پاکستان کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں، اس کے ساتھ بیٹھ کر خطے کے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، اور جب امریکہ جیسے ملک نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا توازن سنبھالنے والی قوت ہے، تو یہ کامیابی کسی حادثے یا اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ اس قیادت کی مرہونِ منت ہے جو دیانتدار، با صلاحیت اور قوم کے مفاد پر سمجھوتہ نہ کرنے والی ہے، یہی وجہ ہے کہ آج فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا نام پاکستان کی عزت، وقار اور ناقابلِ تسخیر دفاع کی نئی علامت کے طور پر نہ صرف تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جا رہا ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی اسے فخر کے ساتھ یاد کریں گی، کیونکہ انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب قیادت ایماندار ہو اور نیت خالص ہو تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نہ جھکا سکتی ہے اور نہ شکست دے سکتی ہے۔

مزیدخبریں