اسلام آباد: مون سون بارشوں کے باعث خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 224 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں مختلف اضلاع میں کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ خاص طور پر بونیر ضلع میں صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے جہاں 157 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں باجوڑ، مانسہرہ، بٹگرام، سوات اور شانگلہ شامل ہیں، جہاں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
آزاد کشمیر میں بھی شدید بارشوں نے کئی افراد کی جانیں لے لیں، جن میں مظفرآباد کے ایک خاندان کے چھ افراد بھی شامل ہیں۔ رتی گلی میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سیاح پھنس گئے ہیں، جنہیں بچانے کے لیے امدادی کام تیز کر دیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے 10 افراد کی جانیں لی ہیں۔ غذر میں آٹھ اور ضلع دیامر میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ نلتر پاور اسٹیشن سیلاب سے تباہ ہو جانے کی وجہ سے گلگت شہر میں بجلی کا نظام متاثر ہو گیا ہے۔
پاک فوج اور دیگر امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشیں اگلے ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے، اس لیے عوام سے حفاظتی اقدامات کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔