الاسکا:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن آج الاسکا میں ایک اہم سربراہی اجلاس میں ملاقات کر رہے ہیں، جہاں یوکرین جنگ کا خاتمہ ایجنڈے کا اہم ترین موضوع ہے
روس کی خواہش ہے کہ یوکرین کے چار متنازعہ علاقے روس کا حصہ رہیں، جبکہ امریکہ اور مغربی دنیا اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تاہم، ٹرمپ اس ملاقات کو عالمی امن کے لیے ایک "پیش رفت" کے طور پر پیش کرنے کے خواہاں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پوتن اس ملاقات کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی حیثیت منوانا چاہتے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے لیے یہ ایک نیا سفارتی کارنامہ ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر پہلے ہی اس تنازع کے حل کے لیے یوکرین پر تنقید کر چکے ہیں اور فوجی امداد روکنے جیسے اقدامات اٹھا چکے ہیں۔
ملاقات کی جگہ الاسکا علامتی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ خطہ ماضی میں روس کا حصہ رہ چکا ہے۔ اس مقام کا انتخاب پوتن کی جانب سے طاقت کا پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے ملاقات کو "سننے کا سیشن" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر فیصلہ کریں گے کہ بات آگے بڑھ سکتی ہے یا نہیں۔
مبصرین کے مطابق، اگر یہ ملاقات کسی بڑے معاہدے کی طرف نہ بھی بڑھی تو بھی یہ دونوں رہنماؤں کے لیے سفارتی برتری حاصل کرنے کا موقع ضرور بن سکتی ہے۔