ملک بھر میں چہلم حضرت امام حسینؑ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے

09:57 AM, 15 Aug, 2025

لاہور : پاکستان کے مختلف شہروں میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چہلم کے جلوس اور مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ لاکھوں عزادار اس موقع پر نوحہ خوانی، ماتم اور دیگر مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کئی شہروں میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔

لاہور میں چہلم اور عرس کا اجتماع، سیکیورٹی ہائی الرٹ
لاہور میں آج چہلم کے ساتھ ساتھ حضرت داتا علی ہجویریؒ کے عرس کی تقریبات بھی جاری ہیں۔ اس موقع پر شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ پولیس کے مطابق 644 مجالس اور 392 جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے 37 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ تمام مسالک کو آپس میں اتحاد و رواداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ یہ دن پُرامن انداز میں منایا جا سکے۔

کراچی میں چہلم کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس کے راستوں پر دکانیں بند کر دی گئی ہیں اور اردگرد کی گلیوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔ شہر میں بعض علاقوں میں موبائل فون سروس بند ہے جبکہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد ہے۔ سیکیورٹی کے لیے چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

پشاور میں چہلم کے دو بڑے جلوس نکالے جا رہے ہیں جو مخصوص راستوں سے ہوتے ہوئے امام بارگاہوں میں اختتام پذیر ہوں گے۔ سیکیورٹی ادارے پوری طرح مستعد ہیں۔

کوئٹہ میں علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن سے چہلم کے جلوس برآمد ہو رہے ہیں جن میں عزادار بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ پولیس، ایف سی اور بی سی کے 5 ہزار سے زائد اہلکار سیکیورٹی پر مامور ہیں اور جلوس کے راستے کی نگرانی سی سی ٹی وی کیمروں سے کی جا رہی ہے۔ 

مزیدخبریں