منی لانڈر کا اہم پیغام

09:12 AM, 15 Aug, 2025

روایت ہے کہ جنوبی سوڈان کے ارب پتی شہری کے ذرائع آمدن پر جب وہاں کی حکومت نے تحقیقات کا آغاز کیا، تو اس نے موقع پاتے ہی راہ فرار اختیار کی، سرکار کو اپنے ذرائع بتانے اور متعلقہ اداروں سے تعاون کرنے کی بجائے زیادہ مناسب سمجھا کہ وہ اپنی کمائی ہوئی دولت کسی دوسرے ملک میں منتقل کرتے ہوئے خود بھی ہجرت کر جائے، اس مشن میں کامیاب بھی رہا، مگر رخصت ہوتے ہوئے اس نے کمال جملہ کہا، جو بہت سے دلوں کا ترجمان بھی تھا۔
اس شہری نے کہا کہ جب وہ شہر کے فٹ پاتھوں پے سوتا رہا، اپنی چھت میسر نہ ہونے کی وجہ سے بارش میں بھیگتا رہا، بھوکا پیاسا رہ کر دن گذارتا رہا، کچرے کے ڈھیر سے رزق تلاش کرتا رہا، ایک بے بس شہری کی سی زندگی گذارتا رہا، اس وقت حکومت نے میرے ’’سورس آف غربت‘‘ میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ دل لگتا جملہ یہ تھا ’’جس حکومت کو تمہاری غریبی کی کوئی پروا نہ ہو، اسے تمہاری امیری کا حساب لینے کا بھی کوئی حق نہیں‘‘۔ بظاہر ایک جملہ ہی ہے مگر آج کی دنیا میں کروڑوں بے بس ان انسانوں کی خاموش فریاد بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کسی ایسے شہری سے اسکی خوشحالی کے عہد میں اس کے ذرائع آمدنی کا حساب مانگنے کے لیے کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے، جنہیں انکی غربت میں نظر انداز کیا گیا ہو۔
کہا جاتا ہے کہ ریاست کی حیثیت اک ماں کسی سی ہے، جس طرح ماں اپنے بچوں سے پیار کرتی ہے انکی ضروریات کا خیال رکھتی ہے، ان سے شفقت سے پیش آتی ہے، کسی بھی قسم کا امتیاز نہیں رکھتی، اسی طرح ریاست کی نگاہ میں بھی تمام شہری بلا امتیاز رنگ و نسل، مذہب، زبان برابر ہوتے ہیں، اس کو بھی ماں کی طرح اپنے شہریوں کی ضروریات کا نہ صرف خیال رکھنا چاہیے بلکہ انکی فراہمی کو بھی یقینی بنانا اسکی اولین ذمہ داری ہے۔
سوڈان کے مذکورہ شہری کی دوسرے ملک اپنی دولت منتقل کرنے کے اس فعل کو فی زمانہ منی لانڈرنگ کا جرم ہی قرار دیا جا سکتا ہے یہی اصطلاح مستعمل ہے، اس نے ملک کے قانون کا احترام نہ کیا، اور ناجائز طریقہ کار سے دولت جمع کرتا رہا تا کہ مناسب وقت پر دوسرے ملک منتقل کر سکے، اس لحاظ سے تو وہ ریاست کا مجرم بنتا ہے، لیکن اگر وہ ایسا نہ کرتا تو ساری حیاتی کچرے کے ڈھیر سے رزق تلاش کرتا رہتا، کھلے آسمان تلے زندگی گزار کر اگلے جہاں سدھار جاتا، مگر اس نے اپنا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا جو دولت کی کمانے کی طرف جاتا تھا، اس نے کسی قانون اور ضابطہ کی پروا نہ کی، یوں اس نے دولت جمع کر کے اپنا اور اپنے بچوںکا مستقبل محفوظ کر لیا۔
اس سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ریاستیں یا ممالک جو اپنے شہریوں کے حقوق کا پاس نہیں رکھتے، انکی حالت زار کا نوٹس نہیں لیتے، ان کی بے بسی پر بھی انکے دل کی حالت نہیں بدلتی، تو بے بس افراد کو جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ قومی دولت لوٹنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں کا منی لانڈر ذرا وکھری ٹائپ کا ہے اس نے نہ تو غربت میں آنکھ کھولی ہے نہ ہی کچرے کے ڈھیر سے رزق تلاش کیا ہے، نہ ہی کھلے آسمان تلے سونے کی اس نے مشقت اٹھائی ہے، بلکہ ان میں سے اکثر وہ ہیں جو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئے جن کو یہ موقع نہیں ملا انہوں نے اپنے عہدوں اور اختیارات سے سونے کا چمچہ از خود بنوا لیا۔ سوڈان کے شہری کی طرح دولت بیرون ملک منتقل کرنے میں کسی تساہل سے کام نہیں لیا ہے، اولین فرصت میں انہوں نے یہ فریضہ انجام دے کر سکھ کا سانس لیا انہوں نے باہر پراپرٹی بنا کر اپنی آنے والی نسلوں کا محفوظ تر ین مستقبل بنا لیا ہے، جس کی باز گشت ان دنوں میڈیا میں عروج پر ہے اور اس وزیر کی کلاس لی جا رہی ہے، جس نے باہر جائیدادیں بنانے کا انکشاف کیا ہے یہ پہلا موقع نہیں کہ اس طرح کے راز سے پردہ اٹھایا گیا ہو، اس سے قبل پاناما اور وکی لیکس یہی فریضہ انجام دے چکی ہیں۔
سوڈانی شہری کی طرح ہمارے منی لانڈرز کے ذہن میں البتہ ایسا نایاب جملہ نہیں آیا جو کسی غریب کی ترجمانی کر سکے اور سرکار کو آئینہ دکھا سکے، ایسا ممکن بھی نہ تھا، ہمارے منی لانڈر کوئی بھوکے ننگے نہیں نہ ہی انہوں نے کبھی فٹ پاتھ پر رات گزاری تھی، نرالے خیالات جو دل کی ترجمانی کرتے ہوں ہمیشہ خالی پیٹ ہی آتے ہیں، ہمارے منی لانڈرز تو ایسی نعمت سے ہمیشہ محروم ہی رہے۔ سوڈانی شہری ایک لحاظ سے بدقسمت ہے کہ وہ منی لانڈرنگ کے باوجود اپنی ریاست میں کوئی کلیدی عہدہ اور مرتبہ حاصل نہ کر سکا، اگر اس کا جنم ہماری ریاست میں ہوتا تو ریاست میں کہیں نہ کہیں وہ سرکاری منصب پر ضرور فائز ہوتا، دولت کی تحقیق کے نتائج اس کے حق ہی میں نکلتے، عدلیہ سے بھی اسے بریت کا پروانہ مل جاتا۔
بعض ممالک کی دولت کا ایک راز یہ بھی ہے، وہ اپنے ہاں بڑے منی لانڈرز کو پناہ دیتے ہیں، جبکہ منی لانڈرنگ ان کے ہاں ایک سنگین جرم ہے، جس طرح کی شہرہ آفاق کہانیاں منی لانڈرنگ کے حوالہ سے  ہمارے ہاں منظر عام پر آتی ہیں، ان کا نصیب کہاں، مگر ایسی دولت کو جو کسی ریاست سے لوٹی ہوئی ہو، اس کو بینکوں میں اپنے مفاد کے لیے محفوظ رکھنا بھی حد درجہ کی بد دیانتی ہے منی لانڈرنگ کی رقم کو بینکوں میں سرمایہ کاری کے لیے جمع رکھنے والے ممالک اگر اپنا دست شفقت منی لانڈرز کے سروں سے اٹھا لیں تو تیسری دنیا کی دولت کبھی ناجائز ذرائع سے باہر نہ جا سکے۔
سوڈانی شہری سے اس بابت تو کوئی ہمدردی نہیں اس نے دولت کو ناجائز ذرائع سے لوٹ کر بیرون ملک منتقل کیا، البتہ سوڈانی ریاست پر افسوس ضرور ہے کہ اس کی غربت کی وجوہات سے لاعلم رہی اب دولت کا حساب مانگ رہی ہے، ماں کی طرح اپنے شہری کی پرورش کرتی تو وہ دولت دوسری ریاست میں منتقل نہ کرتا، اس کا پیغام ہر ریاست کے ذمہ داران کے نام ہے جو بے بس افراد کو نظر انداز کرتے ہیں جب وہ ٹائیکون بن جاتے ہیں تو حساب مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ سوڈانی منی لانڈر کا پیغام اپنے اندر بہت درد رکھتا ہے، اس کو وہی حکمران محسوس کر سکتے ہیں، جن کا اپنا دامن صاف ہو، لیکن دولت کو ناجائز ذرائع سے جمع اور منتقل کرنا تیسری دنیا کی بد انتظامی کو نمایاں کرتا ہے۔

مزیدخبریں