بر صغیر میں سلطنت مغلیہ کے ختم ہونے تک صورتحال یہ تھی کہ گو مجموعی طور پر ملک کا نظام اجتماعی اسلام کے مطابق نہ تھا لیکن ایک طرف مسلم معاشرے میں ہماری ثقافت کی روایات بڑی مضبوطی سے جاگزیں تھیں اور دوسری طرف ساری خرابیوں کے باوجود ملک کا قانون شریعت اسلامی پر مبنی تھا اس لئے اس وقت کے مسلمانوں کی کوششوں کا محور مزید اصلاح و تبدیلی اور نظامِ اجتماعی کی خرابیوں کو دور کرنا تھا۔ مغربی سامراجیوں کی آمد نے مسلمانوں کے سیاسی اقتدار کو ختم کر دیا اور نئے حکمرانوں کی تمام قوت اس امر پر مرکوز ہوئی کہ مسلمانوں کی ملی زندگی میں نظریاتی نقطہ نظر سے جو زوال آ رہا تھا اس کی رفتار تیز کر دیں اور اسے اس کی انتہا تک پہنچا دیں تا کہ مسلمان سیاسی، مذہبی، تہذیبی ہر حیثیت سے غلام بن جائیں اور ان کا منفرد وجود باقی نہ رہے۔ مسلمانوں نے برطانوی ہند میں اس نئی حیثیت کو قبول نہیں کیا وہ محض ہندوستان میں بسنے والی ایک قوم کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک مسلمان حیثیت سے اپنے قومی وجود کو زندہ رکھنا چاہتے تھے۔
1857ء کے بعد مسلمانوں کے سامنے وہ راہ پورے طور پر اجاگر نہیں ہوئی تھی جو ایک طرف انہیں غلامی سے نجات دلائے اور آزادی کو ان کے لیے مسخر کرے اور دوسری طرف ان کے رشتے کو ان کے مذہب اور ان کی تہذیب سے مستحکم کر کے ان تاریخی تقاضوں کو تکمیل کا موقع دے جن کے اظہار کے لیے بر عظیم کی ملت اسلامیہ کا اجتماعی ذہن مضطرب اور بے چین تھا۔ اس طرح مجدد الف ثانی سے لے کر تصور پاکستان تک ایک ہی فکر مختلف صورتوں اور تحریکوں میں کارفرما رہی اور اس سلسلے کی تمام تحریکات دراصل اسی ایک واحد مقصد کے تحت رہیں کہ مسلمانوں کے لیے غیر اللہ کی غلامی سے نجات اور حاکمیت الٰہی کے حصول کے لئے جد و جہد کی جائے تا کہ یہ ملک اگر کلیتاً نہیں تو بڑی حد تک دارالاسلام بن جائے۔ بر عظیم کی تمام تحریکات مجدد الف ثانی سے لے کر تحریکِ پاکستان تک اردو زبان کے عام استعمال اور اس کے عروج و ترقی کے دور
میں رونما ہوئیں۔ چونکہ اردو اٹھارویں صدی تک اپنے وسیع اور بسیط ماحول میں واحد مشترک بولی کا درجہ حاصل کر چکی تھی اس لیے ان تحریکات کے لیے اردو زبان کا استعمال ناگزیر تھا۔ تحریر و تقریر دونوں صورتوں میں اس زبان کا استعمال سارے برعظیم کے لیے بڑی حد تک کافی تھا۔ اس صورت حال میں اسلامی تحریکوں کے علاوہ دیگر قوموںکی تحریکیں بھی اردو کو استعمال کرنے پر مجبور ہوئیں۔
برعظیم اور اس کے باشندوں میں اجتماعی روح پیدا کرنے ان کے ملی اور وطنی شعور کو بیدار کرنے اسے تقویت دینے اور سیاسی انتشارات کی مختلف کوتاہیوں اور بربادیوں کے بعد ان کے مردہ دلوں کو حرارت سے آشنا کرنے میں اردو زبان نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ یہ زبان برعظیم کی حیات اجتماعی کی مظہر اورایسا مصفی آئینہ ہے جس میں اس کی زندگی اور تہذیب کے خط و خال پوری طرح جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ جنگ آزادی 1957ء اردو ادب میں قدیم و جدید کے درمیان حد فاصل ہے۔ اس کی ناکامی کے اثرات اور پھر برعظیم میں رونما ہونے والے بے شمار سیاسی اور معاشرتی واقعات، حادثات اور تحریکات نے یہاں کے عام باشندوں اور مسلمانوں کی زندگی پر گونا گوں اور دور رس اثرات مرتب کیے۔ نتیجتاً شعر و ادب بھی متاثر ہوئے اور ان تحریکات و رجحانات کی ترجمانی کر کے معاشرے کو بھی متاثر کرتے رہے۔ سر سید احمد خان نے پہلی مرتبہ اردو زبان میں ہر قسم کے موضوعات پر صاف و سادی زبان میں مضمون لکھنا شروع کیے اور اردو زبان میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ ان کی کوششوں کا فوری نتیجہ نکلا کہ اسی طرز پر لکھنے والوں کا ایک گروہ پیدا ہو گیا۔ سر سید کے رفقاء تو ان کے ساتھ شریک تحریر رہے، ان کے مخالفین نے بھی اسی طرز کو اختیار کیا۔ جدید اردو ادب کا پہلا دور اپنے مقصد اور موضوع کے اعتبار سے اصلاحی تھا۔ جنگ آزادی کی ناکامی اور ملک پر انگریزوں کے مکمل تسلط نے مسلمانوں کو سخت زبوں حالی اور مصائب و مشکلات میں گرفتار کر دیا تھا۔ ایسے وقت میں سید احمد خان کی سرکردگی میں ایک گروہ مسلمانوں ادیبوں اور شاعروں کا پیدا ہوا جس نے اردو ادب اور اس کے ذریعے پوری قوم کی اصلاح کی تدابیر اختیار کیں۔ حالی، شبلی، مولوی نذیر احمد، محسن الملک، وقار الملک، مولوی چراغ علی، مولانا وحید الدین سلیم، مولانا حسرت موہانی، مولوی عزیز مرزا، سید سلیمان ندوی، مولانا ابو الکلام آزاد اورمولانا حسین احمد مدنی اس کے اہم اور ممتاز ادیب اور شاعر تھے۔ ان کی تخلیق کی گئی کتابوں، رسالوں اور اخبارات نے اردو ادب میں مقصدیت پیدا کی اور اسے اصلاحِ تہذیب و اخلاق کا ذریعہ بنایا۔
برعظیم کے مسلمانوں کی مختلف مذہبی، تہذیبی اقدار کے علاوہ اردو نے بھی مسلمانوں کی توجہ ان کی علیحدہ اور منفرد قومیت کی تشکیل اور اس کے تحفظ و استحکام کی جانب مبذول کرائی۔ اردو ہی کے طفیل مسلمانوں کی قومی زندگی میں وحدت خیال و عمل پیدا ہوئی اور مشترک مقاصد کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اردو کی جانب ہندوؤں کی معاندانہ تحریکوں کے نتیجہ میں مسلمان اپنی تہذیب اور اپنے مذہب کے تحفظ کی جانب متوجہ ہوئے۔ ان میں دو قومی نظریہ کا احساس جو ابتدا ہی سے ان میں موجود تھا لیکن یہ عام مسلمانوں میں خوابیدہ تھا اب زیادہ قوی اور شدید ہو گیا۔ہندوؤں کی اردو دشمنی اور لسانی تنازع نے مسلمانوں کو اسلام کی اجتماعی روح سے آشنا کیا اور ہزار سال کے خوابیدہ ملی شعور کو بیدار کیا۔ برعظیم کے مسلمانوں کو وطنیت، علاقائیت اور نسلی تعصبات سے بالاتر رکھ کران کو احساسات ملی اور ملی مفادات کے زیر اثر رکھا۔ اردو ہی کے سبب ان کے دو قومی نظریہ کے احساس میں شدت پیدا ہوئی جس کی بنیاد پر علیحدگی کی سیاست کا دور شروع ہوا۔ مسلمانوں نے اپنی علیحدہ اور منفرد قومیت کے تحفظ اور اپنی تہذیب کے احیا کے لیے آزاد اسلامی ریاست کے قیام کی جد و جہد کی۔ اس جدو جہد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے، قومیت کا احساس بیدار کرنے، آزاد اسلامی ریاست کے قیام کی ضرورت کے ابلاغ میں اردو ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوئی۔
تحریکِ آزادی میںاردو کا کردار
09:11 AM, 15 Aug, 2025