’’زرِ مبادلہ کے ہیروز‘‘ سے ’’سکیورٹی رسک‘‘ تک

09:11 AM, 15 Aug, 2025

دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ پاکستانی اوورسیز کمیونٹی کے طور پر بیرونی ممالک میں مستقل یا عارضی طور پہ رہائش پذیر ہیں۔ یہ لوگ اپنے وطن سے ہزاروں میل دور رہتے ہوئے بھی پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر زر مبادلہ پاکستان بھیج کر نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دیتے ہیں بلکہ معاشی بحران کے وقت حکومتوں کے لیے ’’لائف لائن‘‘ ثابت ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب معیشت کمزور ہو اور ڈالر کی ضرورت ہو تو یہی اوورسیز پاکستانی ’’قابلِ تعریف ہیروز‘‘ کہلاتے ہیں، مگر جب وہ سیاسی حق مانگتے ہیں، تو اچانک انہیں ’’سکیورٹی رسک‘‘ اور ’’غیر وفادار‘‘ جیسے القابات دے دئیے جاتے ہیں۔
پاکستان کے سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اوورسیز پاکستانی سالانہ تقریباً 40 ارب ڈالر کے قریب ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں۔ یہ خطیر رقم پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور ملکی کرنسی کو گرنے سے روکتی ہے۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ آئی ایم ایف یا دیگر عالمی اداروں نے بھی پاکستان کے معاشی استحکام کا کریڈٹ ترسیلاتِ زر کو دیا ہے۔
حکومتی سطح پر اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی وزارت، سرمایہ کاری سکیمیں اور اعزازی خطابات تو دئیے جاتے ہیں، مگر جب بات سیاسی نمائندگی یا انتخابی عمل میں شمولیت کی آتی ہے تو یہی لوگ ’’ناقابلِ اعتماد‘‘ سمجھے جاتے ہیں آخر کیوں؟
پاکستان کا آئین تو اپنے شہریوں کو ووٹ دینے اور الیکشن لڑنے کا حق دیتا ہے۔ مگر الیکشن کمیشن اور پارلیمان نے قانون سازی کے ذریعے دوہری شہریت رکھنے والوں پر الیکشن لڑنے کی پابندی لگا رکھی ہے۔ جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ دوہری شہریت رکھنے والا ممکنہ طور پر دوسرے ملک کے مفادات کو ترجیح دے گا، اس لیے اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دلیل کئی حوالوں سے کمزور ہے کیونکہ دوہری شہریت لینے والے اکثر لوگ معاشی مجبوری، بہتر روزگار، یا تعلیم کے لیے بیرونِ ملک گئے اور انہوں نے معاشی فوائد اور ویلفیئر کی وجہ سے وہاں کی شہریت اختیار کی۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ پاکستان کے وفادار نہیں رہے۔ اگر پھر بھی حکومت یا کسی ادارے کو کسی پر شک ہے تو اسے امیدوار بننے دیں، اس حلقہ کی عوام فیصلہ کرے کہ اسے ووٹ دینا ہے یا نہیں۔ اگر جیتنے والا شخص واقعی پاکستان میں بطور ممبر ذمہ داری نبھانا چاہتا ہے، تو الیکشن کے عمل کے شروع میں اس پہ یہ شرط رکھی جا سکتی ہے کہ جیت کر بطور ممبر حلف لینے سے پہلے وہ پاکستان کے علاوہ دوسری شہریت ترک کرے گا۔
آئیے اس ضمن میں ترقی یافتہ دنیا کے چند ممالک کے الیکشن اور نیشنیلٹی قوانین کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس صورت حال میں کیا کہتے ہیں۔ کینیڈین سیٹیزن شپ ایکٹ اور الیکشن ایکٹ کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے شہری پارلیمنٹ کے لیے اہل ہیں، دوسرے ملک کی شہریت کی بنیاد پر کسی پہ بھی کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ برٹش نیشنیلٹی ایکٹ 1981 اور ہاؤس آف کامنز ڈس کوالیفکیشن ایکٹ 1975 کے مطابق دوہری شہریت رکھنے والے افراد عوامی عہدے کے لیے اہل ہیں، بشرطیکہ وہ برطانیہ یا دولتِ مشترکہ کے شہری ہوں۔ فرانسیسی آئین اور کوڈ الیکٹورل کے تحت دوہری شہریت رکھنے والے شہری پارلیمان یا مقامی حکومت میں انتخاب لڑ سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ فرانسیسی شہریت رکھتے ہوں۔
یہ ممالک اپنے اوورسیز شہریوں کو اپنا قیمتی اثاثہ سمجھتے ہیں، خطرہ نہیں۔ ان کے لیے اصول سادہ ہے: جب آپ اپنے ملک کے آئین کے پابند ہیں اور اس سے حلفِ وفاداری لیتے ہیں، تو آپ کے ماضی کی کوئی دوسری شہریت مسئلہ نہیں رہتی۔ یقینا سکیورٹی رسک کا بہانہ باہر مقیم پاکستانیوں کو ان کے اپنے ملک کے انتخابی عمل سے باہر رکھنے کے ایک بے سروپا سیاسی جواز سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان یا اسکی سیاست میں اصل خطرہ پاکستان میں مقیم پاکستانی اشرافیہ کی کرپشن، اقربا پروری اور نااہلی ہے، نہ کہ دوہری شہریت رکھنے والے۔ اگر کسی کا دل و دماغ پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے، تو وہ ایک قیمتی سرمایہ ہے چاہے وہ دنیا میں کہیں بھی رہتا ہو۔ المیہ تو یہی ہے کہ جو باہر ہیں وہ ناقابل قبول ہیں کیونکہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ ملک کی محبت سے سرشار ہو کر واپس آ کر ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ اور جو اہل اقتدار ہیں وہ اقتدار تو پاکستان کا انجوائے کرنا چاہتے ہیں لیکن اقتدار سے الگ ہوتے ہی بیرونی ممالک بھاگنا چاہتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو پارلیمنٹ میں مخصوص نمائندگی اور نشستیں دی جائیگی۔ تو پھر کیا دوہری شہریت والے ممبران اسمبلی سکیورٹی رسک نہیں ہوں گے؟ یہ تجویز یا حل ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔
یاد رکھیں کہ اوورسیز پاکستانی محض ترسیلاتِ زر کا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ پاکستان کے لیے سفارتی، تجارتی اور علمی سرمایہ بھی ہیں۔ انہیں الیکشن کے عمل سے باہر رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی قابل اور منجھے ہوئے کھلاڑی کو میچ میں شامل کیے بغیر اس سے جیت کی امید رکھنا۔ اگر ہم واقعی اپنے اوورسیز شہریوں کو اپنا سمجھتے ہیں تو ہمیں انہیں وطن واپس آ کر ووٹ دینے اور الیکشن لڑنے کا مساوی حق دینا ہو گا۔ ورنہ یہ تضاد برقرار رہے گا کہ ڈالر بھیجنے تک تو وہ ’’ہیرو‘‘ ہیں، مگر حقِ نمائندگی مانگنے پر ’’سکیورٹی رسک‘‘۔

مزیدخبریں