انگریزوں کی برصغیر آمد اور تسلط قائم کرنے کے بعد کچھ دیدئہ بینا رکھنے والے ایسے تھے جنہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ انگریز صرف تجارت کے لئے نہیں بلکہ یہاں طویل عرصہ تک حکومت کرنے کے لئے آیا ہے۔ یہ سوچ آگے بڑھتی رہی مگر چیونٹی کی رفتار سے اس کے مقابل غاصب ٹولہ تیزی سے وہ اقدامات کرتا رہا ہے جس سے اس کے قدم جم جائیں۔ اس نے مقامی اہم افراد کو رشوتیں اور سہولتیں بھی دیں، ڈرایا اور دھمکایا بھی۔ ہندوئوں نے اسے اپنا پارٹنر بنا لیا۔ مسلمانوں کے پاس تو پارٹنرشپ قائم کرنے کے لئے وسائل ہی نہ تھے۔ مسلمان متمول نہ تھے، نہ ہی زیادہ سوشل تھے، ان کے میل ملاپ میں کئی چیزیں حائل تھیں۔ جن میں مخلوط محفلیں، شراب نوشی اور سور کا گوشت اس کے ساتھ ساتھ رقص اور موسیقی سے دوری تھی۔ ہندوئوں کے یہاں ان تمام باتوں کی کوئی ممانعت نہ تھی۔ موسیقی ان کے مذہب کا حصہ تھی۔ بھگوان کو راضی کرنے کے لئے اس کے سامنے رقص بھی کیا جاتا تھا جو بھگوان کو خوش کرنے کے نام پر ہوتا تھا۔ دراصل اس میں خوشی اور راحت مندر کے پنڈتوں کے لئے تھی جو اس کلچرل کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ انگریز عورتوں سے ہندوئوں کے ناجائز تعلقات استوار ہونا شروع ہوئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انگریز عورتیں سرشام تیار ہو کر ہندوئوں کے انتظار میں بیٹھ جاتی تھیں۔ یہ سرگرمیاں ویک اینڈ پر شروع ہوتی تھیں۔ متمول اور شوقین ہندوئوں کو ان محفلوں تک رسائی تھی۔ ان میں ہندوئوں کے لیڈر پیش پیش ہوتے تھے۔ اس حوالے سے بھارتی اہم شخصیت پنڈت جواہر لال نہرو نے بہت نام کمایا، ان کے ایڈوانا کے ساتھ تعلقات استوار ہوئے۔ انہوں نے انہی تعلقات کی بنا پر پارٹیشن میں کئی فیصلے اپنے حق میں تبدیل کرائے جن میں پنجاب کی تقسیم بہت اہم تھی، اسی طرح کشمیر کے معاملے میں جواہر لال نہرو نے اپنے ناجائز تعلقات کو خوب خوب استعمال کیا۔ ہندو لیڈرشپ نے نصف شب والی حکمت عملی سے فائدہ اٹھایا۔ مسلمان قائدین ان سب باتوں کو ان لوگوں کا ذاتی معاملہ سمجھتے رہے۔ انہیں ہوش اس وقت آیا جب یہ تقسیم کا فارمولہ منظر عام پر آگیا۔ پاکستان 14اگست 1947ء کو قائداعظم کی عظیم کوششوں، ان کی اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں آزاد ہوا اور بدقسمتی سے چوبیس برس بعد 1971ء میں دولخت ہو گیا۔ اس کی وجوہات لاتعداد ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ آزادی حاصل کرنا بلاشبہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے لیکن اپنی آزادی کی حفاظت کرنا اسے برقرار رکھنا اس سے بڑا مرحلہ ہوتا ہے۔ وقت تیزی سے بدل رہا ہے، اس کے تقاضے اس سے زیادہ تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اب زمانہ اخلاقیات اور دیانتداری کا نہیں لوٹ مار اور وسائل پر قبضوں کا ہے۔ وقت اور زمانے کی بڑی طاقتیں انہی مقاصد کے حصول میں سرگرداں ہیں۔ اسی سوچ نے دنیا کے پرامن ممالک کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
جن ممالک کو بڑی طاقتوں میں شمار کیا جاتا ہے ان میں فقط چین ایسی طاقت ہے جس نے اپنی منصوبہ بندی اور اپنی افرادی قوت کے زور پر ترقی کی ہے جبکہ برطانیہ،امریکہ اور بعض یورپی ممالک نے جہاں جہاں بس چلا وہاں وہاں لوٹ مار کی وسائل پر قبضے کئے، انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ اپنی طاقت بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کو کمزور کیا جو اس کی طاقت کو کسی بھی زمانے میں کسی بھی اعتبار سے چیلنج کر سکتے تھے۔ پہلی اور دوسری جنگ دراصل وسائل پر قبضوں کی جنگ تھی جس نے حجاز کے ٹکڑے ٹکڑے کئے، خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا، عراق ، کویت، لیبیا، مصر، شام، سوڈان، ایران اور پاکستان و فلسطین ان کی پالیسیوں کا نشانہ بنے۔ بعض دوستوں نے دوستوں کو مروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اس سوچ میں تبدیلی آجانی چاہئے تھی لیکن مظلوم کا ساتھ دینے کی بجائے جارح کے ساتھ شانے سے شانہ ملا کر کھڑے ہونے کا چلن بڑھ رہا ہے۔ یہ مسلمان قیادتوں کی کمزوری ہے۔ وہ مصلحت اندیشی کا شکار ہیں۔ سب اپنے آج میں زندہ ہیں، کسی کو اپنے مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔ سب اپنا مستقبل جارح کے ساتھ دیکھ رہے ہیں، سب کی پالیسیاں انہی خطوط پر استوار ہو رہی ہیں۔ اسلامی ممالک اور ان کی قیادتوں نے اسلامی فلاسفی سے دوری اختیار کر کے مغربی فلاسفی میں فلاح ڈھونڈنا شروع کر دی ہے۔ اسی فلاسفی کے تحت اب آپ دنیا کے بعض ممالک میں ایک ہی عمارت میں مسجد، مندر، چرچ اور ڈانسنگ کلب بنتے ہوئے دیکھیں گے۔ دیکھنے والوں میں صالح اور پرہیزگار سمجھے جانے والے ابابیلوںاور طوفان نوح کے انتظار میں رہیں گے۔ یہ کلچر غالب آجائے گا پھر وہ اپنے آس پاس نفوس کو یہ کہہ کر تسلی دیں گے کہ قیامت کی یہی نشانیاں بیان کی گئی ہیں، پس اب قرب قیامت ہے، اس کا انتظار کیا جائے۔ روزِ محشر قریب ہے۔ خدا ان لوگوں سے خود ہی حساب لے لے گا۔ اس سوچ کا پرچار کرنے والے اپنے تئیں شاید بہت بڑی نیکی کر رہے ہوں لیکن یہ کسی بھی طور نیکی نہیں ہے۔ یہ دشمن دین، دشمن اسلام ، دشمنان پاکستان کے سامنے سرنگوں ہونے اور ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کا معاملہ ہے۔ وہ اپنی ذمہ داریوں سے جان نہیں چھڑا سکتے۔ طوفان نوح اس وقت آتا ہے جب حضرت نوح علیہ السلام نہیں تو ان کی سوچ تو نظر آئے۔ ابابیلیں بھی خدا وہاں بھیجتا ہے جہاں خدا کے بندے وقت کے ابراہا کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن قوت نہ رکھتے ہوں جو قومیں ابراہا کے ہاتھ مضبوط کرنے میں لگی ہوں وہاں ابابیلیں نہیں بھیجی جاتیں جہاں خلقت کشتی نوح میں بیٹھنے کے لئے تیار نہ ہو اور سمجھتی ہو وہ آنے والے طوفان کی زد میں نہیں آئیں گے بلکہ فرزند نوح کا طرزعمل اختیار کریں گے اور راہ راست پر نہیں آئیں گے ، وہ فلاح نہیں پائیں گے۔
پاکستان اور اہل پاکستان اپنی افواج اور حکومت کے ساتھ اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے سینہ سپر ہیں لیکن یہ حفاظت اس وقت یقینی ہو گی جب فقط اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ اس ملک کو لوٹنے، اس کے خلاف سازشیں کرنے اور اسے کمزور کرنے والے جانے پہچانے مجرموں کے خلاف کریک ڈائون ہو گا۔ ایسا نہ ہو سکا تو پھر وہ ہو جائے گا جو نہیں ہونا چاہئے۔ طوفان نوح کے بغیر ہی سب ڈوب جائے گا۔
ضرورت کریک ڈائون
09:11 AM, 15 Aug, 2025