دفاعی مفاہمت یا ازلی رفاقت؟ 

08:43 AM, 16 Apr, 2026


بین الاقوامی سیاست کے افق پر جب بھی پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا ذکر آتا ہے تو اسے محض سفارتی یا عسکری زاویے سے دیکھنا ایک بڑی فکری کوتاہی محسوس ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر سٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کے حوالے سے جاری گزشتہ دنوں بحث نے اس تاثر کو جنم دیا ہے کہ گویا دونوں ممالک کی قربت اسی معاہدے کی مرہونِ منت ہے حالانکہ حقیقت اس سطحی تجزیے سے کہیں زیادہ گہری اور وسیع ہے۔
 تاریخ کے اوراق کو ذرا ٹھہر کر پڑھا جائے تو یہ حقیقت خود کو نمایاں کرتی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق کسی ایک معاہدے، کسی ایک دور یا کسی ایک مفاد کا اسیر نہیں بلکہ یہ رشتہ وقت کی گرد سے آزاد، اعتماد کی مٹی میں گوندھا ہوا اور مشترکہ عقیدت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد سعودی عرب کی جانب سے تسلیم کیے جانے کا عمل محض سفارتی اقدام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے تعلق کا آغاز تھا جس کی بنیاد اخوت، ہم آہنگی اور باہمی احترام پر رکھی گئی۔دفاعی تعاون کو اگر اس تعلق کا ایک ستون کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا مگر یہ ستون بھی کسی ایک معاہدے کا محتاج نہیں ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں پاکستانی افواج نے سعودی عرب کے دفاعی ڈھانچے کو مستحکم بنانے میں جو کردار ادا کیا وہ نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر تھا بلکہ اعتماد کی ایک ایسی مثال بھی تھا جو کم ہی ممالک کے درمیان دیکھنے کو ملتی ہے۔ 1970ءاور 1980ءکی دہائیوں میں خطے کو درپیش سکیورٹی خدشات کے دوران پاکستان کی عملی معاونت نے اس تعلق کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔
یہی نہیں بلکہ خلیجی جنگوں کے نازک لمحات میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ تعلق وقتی مفادات کے تابع نہیں بلکہ اصولی وابستگی کا عکاس ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بھی دونوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس تعاون اور سکیورٹی ہم آہنگی نے ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ ان تمام مثالوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دفاعی شراکت داری پہلے سے موجود تھی جسے بعد ازاں معاہدوں کی صورت میں ایک منظم ڈھانچہ دیا گیا۔اسی تناظر میں اگر SMDA کو دیکھا جائے تو یہ کسی نئے تعلق کی بنیاد نہیں بلکہ ایک پرانے رشتے کی جدید تعبیر ہے۔ یہ معاہدہ دراصل اس اعتماد کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے جو برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان پروان چڑھتا رہا ہے۔ مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور سکیورٹی تعاون کے نئے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید پختہ اور م¶ثر ہو رہا ہے۔
پاکستان کی حیثیت ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست اور پیشہ ور عسکری قوت کے طور پر عالمی سطح پر مسلمہ ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز سے لے کر علاقائی سکیورٹی اقدامات تک، پاکستانی افواج نے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ ایسے میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون نہ صرف پاکستان کے عالمی وقار کو تقویت دیتا ہے بلکہ اسے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر بھی نمایاں کرتا ہے۔دوسری جانب معاشی میدان میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات ایک دوسرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے مختلف ادوار میں فراہم کی جانے والی مالی معاونت، تیل کی سہولتیں اور سرمایہ کاری پاکستان کے لیے سہارا ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان نے اپنی افرادی قوت اور پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے سعودی معیشت میں قابل ذکر کردار ادا کیا ہے۔ یہ باہمی انحصار دراصل اس تعلق کی عملی صورت ہے جو صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ زمینی حقائق میں بھی اپنی جڑیں رکھتا ہے۔
تاہم اس رشتے کی سب سے منفرد اور مضبوط جہت اس کا مذہبی اور عوامی پہلو ہے۔ حرمین شریفین کے تقدس سے جڑی پاکستانی عوام کی عقیدت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ جذبہ محض رسمی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے ابھرنے والی وابستگی ہے جو ہر آزمائش کے وقت خود کو نمایاں کرتی ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جو پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو روایتی سفارتکاری سے بلند کر کے ایک برادرانہ رشتے میں تبدیل کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات عموماً مفادات کے تابع ہوتے ہیں مگر پاکستان اور سعودی عرب کا معاملہ اس عمومی اصول سے قدرے مختلف دکھائی دیتا ہے۔ یہاں مفادات کے ساتھ ساتھ نظریات، عقائد اور جذبات بھی کارفرما ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تعلق وقت کے ساتھ کمزور ہونے کے بجائے مزید مستحکم ہوتا چلا گیا ہے۔
المختصر، سٹرٹیجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) کو اگر اس تعلق کی بنیاد قرار دیا جائے تو یہ تاریخی حقائق سے صرف نظر کے مترادف ہوگا۔ یہ معاہدہ دراصل ایک ایسے رشتے کی توسیع ہے جو پہلے ہی اعتماد، اخوت اور مشترکہ اقدار کی بنیاد پر قائم ہو چکا تھا۔ پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق محض دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت شراکت داری ہے جس میں تاریخ، مذہب، معیشت اور عوامی جذبات سب شامل ہیں۔ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اس رشتے کو کسی ایک معاہدے یا وقتی تناظر تک محدود کرنے کے بجائے اس کی اصل روح کو سمجھیں۔ کیونکہ یہ تعلق صرف دو ریاستوں کے درمیان نہیں بلکہ دو قوموں کے دلوں میں بسنے والی ایک ایسی داستان ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہری اور مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔

مزیدخبریں