ایران کی جنگ ، اسرائیل کا منجن ، خریدار امریکہ ، نقصان کا سامنا

08:48 AM, 16 Apr, 2026

2026ءپاکستان کا امن مشن ایک طرف دنیا میںسراہا جا رہا ہے اور پاکستان کو دنیا میں ایک امن کا پیامبر کہا جا رہا ہے دوسری طرف سمندر پار پاکستانی بھی اپنے ملک کی اقتصادی صورتحال کیلئے ذرمبادلہ بھی بڑی تعداد میں بھیج رہے ہیں، جس کی مقدار میں ہر ماہ اضافہ ہو رہا ہے۔ جمعہ کو جاری ہونے والے مرکزی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2025 میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر 11.9 فیصد ماہانہ اضافے کے ساتھ 3.42 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کی قیادت سعودی عرب سے ہوئی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک کی معیشت میں ان کے تعاون پر تارکین وطن کا شکریہ ادا کیا۔ ترسیلات زر پاکستان کی بیرونی مالیات کا ایک اہم ستون ہیں، جو کرنٹ اکا¶نٹ خسارے کو کم اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دیتی ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقومات پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن کے لیے اہم رہی ہیں۔ ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ حکومت کی پالیسیوں پر سمندر پار پاکستانیوں کے اعتماد کی عکاسی ہے۔ وزیر اعظم ہاو¿س کے مطابق بیرون ملک پاکستانی ملک کا ”سب سے قیمتی اثاثہ“ جو اپنی محنت کی کمائی سے قوم کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سعودی عرب سے 820.9 ملین ڈالر کا زرمبادلہ آیا، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 697.7 ملین، برطانیہ سے 487.7 ملین اور امریکہ سے 290 ملین ڈالر کے ترسیلات زر موصول ہوئے۔ اب بات کرتے ہیں پاکستان کے عظیم اقدام کی جو اسلام آباد میں امن مذاکرات کے حوالے سے ہے، 47 سال کی شکایات 21 گھنٹے کی بات چیت، اتنے پرانے اختلاف کو انجام تک نہیں پہنچا سکتی۔ ایک تاثر ملا کہ اسلام آباد مذاکرات ناکام ہو گئے۔ یہ واویلا نہ صرف پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی سے خوفزدہ پڑوس ملک کا مسئلہ ہے اندرونی طور پر انکے عوام اپنی قیادت کو لعنت ملامت کر رہے ہیں۔ ہمارے نام نہاد اپنے بھی، جن کی سیاست وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی مخالفت ہے، زہر افشانی کر رہے ہیں۔ ہمشیرہ فرماتی ہیں کہ پاکستان کی کون سنتا ہے؟؟ اسلام آباد میں ہونے والے امن مذاکرات کامیاب نہیں ہو پاتے تو بھی ”امن کا مستقبل“ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ عموماً یہ عمل مختلف مراحل میں آگے بڑھتا ہے۔ بین الاقوامی امور اور سفارتی معاملات سے واقفیت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ امریکا اور ایران کا جنگ روک کر مذاکرات کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ میز پر بیٹھنا کوئی عام بات نہیں ہے۔ یہ اکیلا واقعہ پاکستان کی اتنی بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ تاریخ عالم میں اسے ایک اہم ترین واقعے کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ امریکا اور ایران دونوں کی طرف سے پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف اور اسلام آباد مذاکرات کو نہایت اہم پیشرفت قرار دیا گیا ہے۔ فریقین کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک اور ادارے بھی اسلام آباد مذاکرات کو اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ ان مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جس دن ان مذاکرات کے انعقاد کا اعلان ہوا تب سے لے لیکر آج تک ہمارے پڑوسی ملک بھارت سے مسلسل چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے انکے چولہے بجھے ہوئے ہیں۔ بھارتی میڈیا اور قیادت بھی اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہے بات چیت ناکام ہونے کا تاثر ہے مگر اسوقت دنیا کے سامنے ماسوائے امن کے کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ اس وقت دنیا کیلئے معیشت اہم ہے، جنگوں میں سیکڑوں لوگ مر جائیں، بموں سے تمام شہر اُجڑ بھی جائیں مگر کامیابی کا محور معاشی حوالوں سے ہی کچھ نہ کچھ ہوتا ہے وہ چاہے تجارت ہو۔ اس وقت جنگ میں ایران کا پلڑا اس لیے بھاری ہے کہ آبنائے ہرمز تُرپ کا وہ پتہ ہے، جس پر تمام دنیا کی نظر ہے کہ اس پر قبضہ کس کا اور کیسے ہو؟؟ حالیہ جنگ میں دو مزاحیہ کردار نظر آئے، ایک مودی اور اسکا گودی میڈیا دوسرا صدر ٹرمپ کے دھمکیوں پر مبنی بیانات، عمران خان کی طرح صبح کچھ دوپہر کچھ شام کچھ، ایران نے تو پاکستان سے جاتے جاتے بھی پُر امن ماحول کی امید ظاہر کی مگر امریکی صدر کی دھمکیاں پھر شروع اور خواہ مخواہ کے بیانات کہ مجھ سے ایران نے رابطہ کیا ہے وہ مذاکرات پھر شروع کرنا چاہتا ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ اسلام آباد مذاکرات میں ایران نے پاکستان کے پُرزور اصرار پر شرکت کی تھی ورنہ انکے تلخ تجربات و خدشات موجود تھے، جب گزشتہ مذاکرات کے دوران ہی اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا، دراصل نیتن یاہو کے منجن پر صدر ٹرمپ نے اپنے عوام کو مہنگائی کے ایندھن میں دھکیل دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا ایکس اکاﺅنٹ خواہ مخواہ کے بیانات سے بھرا ہوتا ہے جو انکی ذہنی کیفیت بتاتا ہے، وہ کہتے ہیں، میں جیت گیا ہوں، مگر یہ انکا دل جانتا ہے کہ ایسا نہیںہے۔ دنیا جانتی ہے اور خاص طور پر ان کے اپنے عوام انکی باتوں کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔ عوام احتجاج کر رہے ہیں، دنیا بھر کے لوگ یہ 
بات سمجھنا چاہ رہے ہیںکہ یہ جنگ جو امریکہ کی نہیں پھر کیوں تمام دنیا کو تیل کے حوالے سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے اپنی چار دہائیوں کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کی ہے اور اسکا نقصان اسرائیل کو نہیں، امریکہ اور صدر ٹرمپ کو پہنچا ہے۔ دنیا کی سنجیدہ قیادت مذاکرات کی خواہش رکھتی ہے اور مذکرات پھر ہونگے، اسکے علاوہ امن کیلئے کوئی اور راستہ نہیں۔ ورنہ دنیا ایک بڑے اور سنجیدہ حادثہ کی طرف چلی جائےگی، چین ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے اگر چین کے جہاز کو آبنائے ہرمز میں تیل لیجانے سے روکا گیا تو چین کا بھی اس معاملہ میں شامل ہونا بنتا ہے۔ ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ ہم نے ایران کی بچھائی مائینز ختم کر دی ہیں مگر کون ٹرمپ کی بات پر یقین کر کے اپنا جہاز اس علاقے میں لائے گا؟ کونسی کمپنی اس جہاز کی انشورنس کرے گی۔ انشورنس مل بھی گئی تو وہ تیل کتنا مہنگا ہو گا؟ اب ٹرمپ ایک ناکام سیلز مین کی طرح آواز لگا رہے ہیں .... ” تیل ہم سے خریدو، ہمارے پاس اپنا تیل بہت ہے اور وینز ویلا کا تیل بھی ہمارے پاس ہے، ہمارے پاس سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک سے زیادہ تیل موجود ہے۔ اب وہاں سے بھارت تو تیل خرید سکتا ہے کوئی اور ملک نہیں۔ بہرحال سارے معاملے میں یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر جلد امن نہ ہوا تو تیل کی قیمتیں آسمان پر ہونگی۔ تو کیوں نہ ہم اپنے ملک میں سولر انرجی کو فروغ دیں تاکہ ہمیں ایندھن کی کم ضرورت پڑے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بڑی گاڑیوں والوں کی عیاشیاں تو ختم کر دی ہیں، وہ اللہ کرے قائم رہیں۔

مزیدخبریں