حکومت نے مارکیٹ اور کاروباری مراکز شام آٹھ بجے بند کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کردیا ہے۔حکومت نے جب تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا تو ہمارے بہت سے لوگ ناراض تھے۔اب کاروبار کے وقت کے متعلق فیصلہ آیا تو کئی لوگ پھر سے خفا ہیں لیکن یہ جانتے نہیں کہ اس فیصلے سے ان کی اپنی زندگی کس قدر آسان ہو جائے گی۔میں نے آسٹریلیا میں دیکھا کہ لوگ جلد کاروبار بند کر کے سماجی و خاندانی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہیں۔ دو سال پہلے میں نے ایک ملنے والے شیخ صاحب کے بارے میں کالم لکھا تھا۔ آج وہ شیخ صاحب پھر یاد آ رہے ہیں۔
ماڈل ٹاﺅن لنک روڈ کی اس دکان سے میرا برسوں کا تعلق تھا۔ مسز کے ساتھ لیڈیز کپڑوں کی خریداری کے لیے میں اکثر وہیں جاتا اور شیخ صاحب سے سال میں ایک دو بار ملاقات ہو ہی جاتی۔ تعلق محض خریدار اور دکاندار کا نہیں رہا تھا، اس میں ایک خلوص شامل ہو چکا تھا۔ وہ مجھے خاطر تواضع کے بنا جانے نہیں دیتے تھے،موسم کے مطابق کبھی ٹھنڈا مشروب، کبھی تازہ جوس۔ میں خود کو ایک عام سا گاہک سمجھتا تھا، مگر ان کی اپنائیت کچھ اور ہی کہانی سناتی تھی۔
ایک دن جب میں دکان پر پہنچا تو شیخ صاحب نظر نہ آئے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہیں اور گھر پر ہیں۔ یہ سن کر دل میں ایک خلش سی پیدا ہوئی۔ خریداری کے بعد سیدھا ان کے گھر جا پہنچا۔ وہاں کا منظر دل کو ہلا دینے والا تھا۔ شیخ صاحب ایک کمرے میں تنہا بیٹھے تھے، جسم بھاری اور بیماریوں سے نڈھال۔ چلنا پھرنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔میں نے خیریت دریافت کی تو وہ خاموشی سے مجھے دیکھتے رہے، پھر جیسے بند ٹوٹ گیا ہو۔ کہنے لگے: میں نے زندگی میں کسی کو وقت ہی نہیں دیا، بچوں کو نہ والدین کو۔ بس پیسہ کمانے کی دھن میں دکان پر بیٹھا رہا۔ کیش کاو¿نٹر چھوڑنے کا تصور بھی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ واش روم جانے میں بھی تاخیر کرتا رہا، اور اسی لاپروائی نے میرے گردوں کو خراب کر دیا۔“
ان کی آواز بھرانے لگی۔ ”امی آخری وقت تک کہتی رہیں کہ بیٹا، میرے پاس آ کر بیٹھا کرو، مگر میں صبح سویرے نکل جاتا اور رات گئے واپس آتا۔ ان کی خواہش پوری نہ کر سکا۔“ پھر ایک وقفہ لے کر بولے، ”حج اور عمرہ بھی بیوی کے اصرار پر کیا، ورنہ شاید وہ بھی نہ کر پاتا۔ ماں کی زندگی میں یہ سعادت نصیب نہ ہوئی، یہ بھی ایک دکھ ہے۔“
وہ رکے نہیں، جیسے برسوں کی کہانی ایک ہی سانس میں سنا دینا چاہتے ہوں۔ ”میرے بچوں کا بچپن مجھ سے چھوٹ گیا۔ میری چھٹی جمعہ کو ہوتی تھی، وہ سکول میں ہوتے تھے۔ اتوار کو ان کی چھٹی ہوتی، میں دکان پر ہوتا تھا۔ آج جب ان کے بچپن کو یاد کرتا ہوں تو دل روتا ہے۔ میری ایک بیٹی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی اور مجھے اس وقت بتایا جب نکاح ہو چکا تھا۔ یہ سب میری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔“
پھر وہ آبدیدہ ہو گئے۔ ”میں جنازوں تک میں نہیں جاتا تھا، بس یہی سوچتا تھا کہ دکان کون سنبھالے گا۔ کسی پر اعتبار نہیں کرتا تھا۔ اب جب بیماریوں نے گھیر لیا ہے تو لگتا ہے جیسے میرا جسم امراض کاجمعہ بازار بن چکا ہے،ہر بیماری یہاں موجود ہے۔“
انہوں نے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کیا۔ ”ڈاکٹر کہتے رہے کہ اپنی صحت کا خیال رکھو، آرام کرو، واک کرو، مگر میں نے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ دل میں یہی خیال تھا کہ موت کا وقت مقرر ہے، اس سے پہلے کچھ نہیں ہوگا۔ مگر اب سمجھ آیا ہے کہ اللہ نے انسان کو احتیاط کا سبق بھی دیا ہے،اچھی غذا، مناسب آرام، اور متوازن زندگی۔“
بات کرتے کرتے وہ معاشرتی مسائل کی طرف بھی مڑ گئے۔ ”ہماری خوراک ملاوٹ سے بھری ہوئی ہے، کاروبار میں دیانت کم ہوتی جا رہی ہے، اور یہی چیزیں بیماریوں کو بڑھا رہی ہیں۔ اوپر سے ہمارا طرزِ زندگی،بے وقت سونا، بے وقت جاگنا، کوئی ترتیب نہیں،یہ سب ہمیں اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔“
دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں کا حال ایسا نہیں۔ وہاں لوگ وقت کی پابندی کرتے ہیں، شام کو جلدی کاروبار بند کر کے گھر چلے جاتے ہیں، بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اسی لیے ان کی اوسط عمر زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں نہ وقت کی قدر ہے، نہ صحت کی۔
ہماری اکثریت نے دنیا دیکھی ہی نہیں، اسی لیے ہم اپنی محدود سوچ میں قید ہیں۔ نہ ہمیں بہتر طرزِ زندگی کا شعور ہے، نہ ہم اسے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے لیڈر بھی عوام کو صحیح سمت نہیں دیتے، نہ آگاہی مہم چلائی جاتی ہے، نہ تربیت کا کوئی نظام ہے۔
ملاقات کے آخر میں شیخ صاحب کی آواز مدھم ہو گئی۔ کہنے لگے کہاگر زندگی دوبارہ مل جائے تو میں سب کچھ بدل دوں،اپنے والدین کو وقت دوں، بچوں کے ساتھ رہوں، اپنی صحت کا خیال رکھوں۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے۔“
میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا۔ یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں تھی، بلکہ ہمارے معاشرے کے ہزاروں لوگوں کی مشترکہ داستان تھی۔ ہم سب کہیں نہ کہیں اسی دوڑ میں شامل ہیں،پیسہ کمانے کی دوڑ، جس میں ہم رشتے، صحت اور سکون سب کچھ کھو دیتے ہیں۔شیخ صاحب کی یہ کہانی ایک آئینہ ہے، جس میں ہم اپنا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم وقت پر اس خرابی کو پہچان لیتے ہیں، یا پھر کسی شیخ صاحب کی طرح دیر سے جاگتے ہیں، جب واپسی کا راستہ دھندلا چکا ہوتا ہے۔اب حکومت نے کاروبار کے لئے آٹھ بجے تک کا وقت مقرر کیا ہے تو اصل میں ہمیں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے اور صحت مند زندگی کا موقع دیا ہے۔
کاروباری مراکز کا نیا ٹائم شیڈول: حکومت کا اچھا قدم
08:49 AM, 16 Apr, 2026