پاکستان زندہ باد تھا زندہ باد ہے اور میرے خدا کو منظور ہوا تو تا قیامت زندہ باد رہے گا ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ہونے کی خبریں میڈیا میں آنا شروع ہوئیں تو پہلے تو کسی کو یقین ہی نہیں تھا لیکن جب ان مذاکرات کے امکانات نظر آنا شروع ہوئے تو اس وقت تک بھی پاکستانی حاسدین کے حوالے سے راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا لیکن جیسے ہی میڈیا میں یہ خبریں آنا شروع ہوئیں کہ ان مذاکرات کے لئے پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت متحرک ہے تو بس اس کے بعد بہت ساری جگہوں پر بھونچال کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اور اس حوالے سے کس کس طرح پاکستان کا تمسخر اڑایا گیا یہ سب کچھ میڈیا میں بھی آ چکا ہے اور ہم ان الفاظ کو دہرانا بھی نہیں چاہتے ۔ امریکہ اور ایران دونوں کے وفود پاکستان آئے اور اعلیٰ سطح کے وفود آئے ۔ اس کے بعد بارہ یا چودہ گھنٹے کے طویل مذاکراتی عمل کے بعد فریقین کسی معاہدے حتیٰ کہ کسی مشترکہ اعلامیہ کے بغیر اپنے اپنے ملک کو لوٹ گئے ۔ اس موقع پر حاسدین کے من میں جو لڈو پھوٹ رہے تھے وہ ابل ابل کر باہر آنا چاہتے تھے لیکن ان کو اس وقت بریک لگ گئی کہ جب دونوں اطراف سے مثبت بیانات آنا شروع ہو گئے لیکن ” دل کے پھپھولے “ کب چین سے بیٹھنے دیتے ہیں لہٰذا کبھی پیٹرول کی قیمتوں کو لے کر اور پھر کچھ نہیں ملا تو ایک صحافی کے لباس کو لے کر زہر اگلنا شروع کر دیا کہ جیسے اس صحافی کو وہ لباس ریاست پاکستان کی جانب سے تحفہ میں دیا گیا تھا ۔ عجیب عجیب باتیں تھیں کہ جن کا کوئی سر تھا نہ پیر ۔ مثلاً ایک سیاسی جماعت کا جلسہ تھا جسے ملتوی کیا گیا تو اس پر بھی کیا کیا فسانے تھے جو نہیں بنائے گئے لیکن اس دوران ہر گذرتے لمحہ کے ساتھ حالات اتنی تیزی سے بدل رہے تھے جو بھی منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اگلے ہی لمحہ اس کا اثر ” زیرو “ ہو جاتا تھا ۔
اصل میں بات یہ تھی کہ مذاکرات کے حوالے سے ہم نے امیدوں کو اس قدر بڑھا دیا تھا اور یہ ایک بالکل فطری عمل تھا تو جب بنا کسی نتیجہ پر پہنچے مذاکرات ختم ہوئے تو کچھ دھچکا لگنا بھی عین فطری عمل تھا لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان ان مذاکرات میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مذاکرات میں شامل امریکہ ایک سپر پاور اور دوسرا ایران اس خطے کا ایک انتہائی اہم اور دفاعی میدان کا ایک طاقتور کھلاڑی تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ مذاکرات کے ایک راﺅنڈ میں آدھی صدی کے بکھرے انتہائی سنگین معاملات طے پا جاتے جبکہ انھیں ناکام بنانے والی اسرائیل اور ہندوستان ایسی قوتیں بھی اپنا کام پوری طاقت سے کر رہی ہیں ۔ یہاں ایک لمحہ کے لئے رک کر قارئین کو یاد دلاتے جائیں کہ 1979میں مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ کے نام سے ایک تاریخی معاہدہ ہوا تھا جس میں ثالثی امریکہ جیسی سپر پاور نے کی تھی لیکن پھر بھی ایک دو نہیں بلکہ بارہ دن مذاکرات ہوتے رہے تھے اس کے بعد کہیں جا کر دونوں فریق کسی سمجھوتے پر پہنچے تھے تو یہاں تو معاملات کہیں زیادہ سنگین ہیں اور ممکن ہی نہیں تھا کہ ایک راﺅنڈ میں ہی تمام معاملات طے پا جاتے اور فریقین کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ جاتے ۔ دونوں فریقین نے روانگی کے وقت اور اس کے بعد سے لے کر اب تک منفی سے زیادہ مثبت بیانات دیئے ہیں حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی کہ جن سے کسی اچھی بات کی کم ہی امید کی جاتی ہے وہ بھی اگر مثبت رائے کا اظہار کر رہے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اچھی امیدیں نہ رکھی جائیں ۔ ہم نے ہمیشہ اپنے قارئین کو حالات کی مثبت تصویر دکھا کر امید کی روشن کرنیں بکھیری ہیں لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اس امن کے عمل کو سبو تاژ کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے اور جو قوتیں یہ کام کر رہی ہیں وہ بھی کوئی کم طاقت ور نہیں ۔ ان کی پوری کوشش ہو گی کہ کسی طرح اس امن کے پورے عمل کو ڈی ریل کر کے اس خطے کو ایک بارپھر جنگ کے شعلوں کی نذر کر دیں۔
اس میں ایک چھوٹی سی چنگاری اس خطے کے امن کو تباہ کر سکتی ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ میڈیا میں جو خبریں آ رہی ہیں وہ بڑی خوش آئند ہیں اور بجا طور پر امید کی جا سکتی ہے کہ مذاکرات کے اگلے راﺅنڈ میں یا ایک دو راﺅنڈ کے بعد دونوں فریقین کسی امن معاہدے پر پہنچ جائیں گے ۔ یہ بات اس لئے بھی قرین قیاس ہے کہ امریکہ ایران سے جو کچھ مانگ رہا ہے در حقیقت ایران تو اس پر پہلے سے ہی راضی ہے ۔ امریکہ کی شرط ہے کہ ایران نیو کلیئر ہتھیار نہیں بنائے گا تو شہید علی خامنائی اس حوالے سے پہلے ہی فتویٰ دے چکے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا ۔ جہاں تک افزودہ یورینیم کی بات ہے تو سول ٹیکنالوجی کے لئے 20%افزودہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے تو عین ممکن ہے کہ ایران کہ جس کے پاس کم و بیش 450کلو گرام 90%یورنیم موجود ہے تو اس حوالے سے کوئی درمیانی راہ نکل آئے اور جہاں تک آبنائے ہرمز کی بات ہے تو کسی بھی سمجھوتے کے بعد اسے تو کھلنا ہی ہے ۔ اب اس پر فی بیرل ایک ڈالر ایران نے لینا ہے یا نہیں تو یہ بھی کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے کہ جس پر معاملات ڈیڈ لاک کا شکار ہو جائیں اور فریقین جنگ جیسی تباہی کی طرف لوٹ جائیں لہٰذا قوی امید ہے کہ معاملات طے پا جائیں گے اور اس میں خدا نے چاہا تو سر خروئی پاکستان کے حصے میں ہی آئے گی ۔
پاکستان زندہ باد
08:47 AM, 16 Apr, 2026