ایک طرف ملک بھر میں بے روزگاری کا طوفان برپا ہے، بھوک اور ننگ جیسے مسائل عام آدمی کا مقدر بنتے جا رہے ہیں اور مختلف رپورٹس کے مطابق چالیس فیصد سے زائد افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جن کے ہاتھوں میں کتابوں کی جگہ وقت سے پہلے ذمہ داریوں کا بوجھ آ چکا ہے۔ دوسری جانب اگر آپ بازاروں، فیکٹریوں اور کاروباری مراکز کا رخ کریں تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے.... ہر جگہ ”ضرورت ہے“ کے بورڈ آویزاں ہیں، دکانوں پر سٹاف کی کمی ہے، فیکٹریوں کو کاریگر درکار ہیں، مگر اس کے باوجود بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ تضاد دراصل ہمارے معاشی اور تعلیمی نظام کی ایک گہری خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نوکریاں موجود ہیں تو لوگ بے روزگار کیوں ہیں؟ اس کا سیدھا اور تلخ جواب یہ ہے کہ ہمارے پاس ”ہنر مند افراد“ کی شدید کمی ہے۔ ہماری اکثریت، خصوصاً نوجوان طبقہ، کسی بھی عملی ہنر سے ناآشنا ہے۔ ہم نے ڈگری کو کامیابی کا معیار تو بنا لیا، مگر ہنر کو نظرانداز کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے پاس کاغذی تعلیم تو ہے، مگر عملی مہارت کا فقدان ہے۔ مارکیٹ کو ایسے افراد درکار ہیں جو کام جانتے ہوں، جو اپنے ہاتھوں سے کچھ تخلیق کر سکیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے نوجوان اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔
یہ مسئلہ صرف انفرادی نہیں بلکہ قومی سطح کا بحران بن چکا ہے۔ ایک اچھا سیلز مین، ماہر پلمبر یا قابل الیکٹریشن تلاش کرنا آج ایک مشکل ترین کام بن چکا ہے۔ حالانکہ یہ وہ شعبے ہیں جن میں روزگار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہی ہنر مند افراد معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، مگر ہمارے ہاں ان پیشوں کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر یا افسر تو بنانا چاہتے ہیں، مگر کوئی یہ نہیں چاہتا کہ اس کا بچہ ایک بہترین کاریگر بنے۔
ہمارا تعلیمی نظام بھی اس مسئلے کا ایک بڑا سبب ہے۔ ہم بچوں کو صرف کتابی علم تک محدود رکھتے ہیں، عملی تربیت اور فنی مہارتوں کو نصاب کا حصہ نہیں بناتے۔ سکولوں اور کالجوں میں ایسے پروگرامز کا فقدان ہے جو طلبہ کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کریں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی بے روزگار رہتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس وہ مہارت نہیں ہوتی جس کی مارکیٹ کو ضرورت ہوتی ہے۔
مزید برآں، حکومت کی جانب سے بھی ہنر مندی کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ اگرچہ مختلف ادارے اور پروگرامز موجود ہیں، مگر ان کی رسائی محدود اور معیار غیر تسلی بخش ہے۔ ہمیں ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے جو ہنر کو فروغ دے، فنی تعلیم کو عام کرے اور نوجوانوں کو عملی میدان میں اترنے کے قابل بنائے۔ چین، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے فنی تعلیم کو ترجیح دی، اور آج وہ اس کے ثمرات سمیٹ رہے ہیں۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی قابل غور ہے.... ہماری سماجی سوچ۔ ہم نے کچھ پیشوں کو عزت اور کچھ کو کمتر درجہ دے رکھا ہے، جو کہ ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک ہم ہنر کو عزت نہیں دیں گے، نوجوان اس طرف راغب نہیں ہوں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، اصل چیز مہارت اور دیانتداری ہے۔ ایک ماہر الیکٹریشن یا پلمبر نہ صرف باعزت روزگار کما سکتا ہے بلکہ ملک کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اگر ہم واقعی بے روزگاری کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔ ہمیں تعلیمی نظام میں اصلاحات لانا ہوں گی، فنی تعلیم کو فروغ دینا ہوگا، اور نوجوانوں کو ہنر سکھانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ حکومت، نجی ادارے اور معاشرہ.... سب کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بے روزگاری کا مسئلہ صرف نوکریوں کی کمی کا نہیں، بلکہ ہنر کی کمی کا ہے۔ جب تک ہم اس بنیادی مسئلے کو حل نہیں کریں گے، تب تک بے روزگاری کا خاتمہ ممکن نہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم خوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت کا سامنا کریں اور اپنے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کی طرف سنجیدگی سے قدم بڑھائیں، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں خود کفالت، ترقی اور خوشحالی کی منزل تک لے جا سکتا ہے۔
ضرورت ہے مگر قابل افراد نہیں،بے روزگاری کی وجہ
08:46 AM, 16 Apr, 2026