دنیا کی سیاست میں سچ اکثر سب سے بڑا مظلوم ہوتا ہے، اور افغانستان اس کی زندہ مثال بن چکا ہے۔ ایک طرف عالمی ادارے انسانی ہمدردی کے نام پر رپورٹس جاری کر رہے ہیں، تو دوسری طرف زمینی حقائق کو یا تو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا دانستہ طور پر مسخ کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت کے نام پر پیش کیا جانے والا یہ بیانیہ واقعی غیر جانبدار ہے، یا پھر ایک خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے جس میں حقائق کو قربان کر دیا گیا ہے؟۔
2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خطے کی سکیورٹی صورتحال میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی 2024–25 کی رپورٹس کے مطابق افغانستان اس وقت 20 سے زائد دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بن چکا ہے، جہاں تقریباً 20 سے 23 ہزار جنگجو موجود ہیں۔ اس کے باوجود جب عالمی رپورٹس میں صرف انسانی بحران کو اجاگر کیا جائے اور ان بنیادی اسباب کو نظر انداز کیا جائے، تو یہ محض کوتاہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے۔
مزید یہ کہ نمائندہ خصوصی برائے تعمیر نو افغانستان (SIGAR)کی رپورٹس بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح داعش خراسان (ISKP) اور القاعدہ جیسے گروپس کی افغانستان میں موجودگی کو بھی متعدد عالمی رپورٹس میں تسلیم کیا گیا ہے، مگر یہ حقائق اکثر انسانی بیانیے میں جگہ نہیں پاتے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ دہشتگردی کے ڈھانچے کو شہری آبادی کے اندر چھپا لیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں، مساجد اور مدارس کو کئی مواقع پر تربیتی مراکز، اسلحہ ڈپو اور کمانڈ سینٹرز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ طالبان اور ان کے حمایت یافتہ عناصر نہ صرف شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں بلکہ بعد میں انہی نقصانات کو عالمی سطح پر ہمدردی حاصل کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہ کوئی اتفاقیہ عمل نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی ہے۔
پاکستان اس صورتحال کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے۔ 2021 کے بعد سے اب تک 8 ہزار سے زائد پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار دہشتگردی کا نشانہ بن چکے ہیں، جبکہ صرف 2025 میں 600 سے زائد سرحد پار حملے ریکارڈ کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ افغانستان میں موجود دہشتگردی کا نیٹ ورک براہِ راست پاکستان کے امن کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ایک طرف عالمی ادارے انسانی بحران کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف انہی کے اپنے سکیورٹی رپورٹس افغانستان کو دہشتگردی کا عالمی مرکز قرار دیتی ہیں۔ یہ تضاد خود اقوامِ متحدہ کے نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر ایک ہی ادارہ دو متضاد بیانیے پیش کرے، تو عالمی سطح پر اس کی ساکھ متاثر ہونا فطری امر ہے۔
پاکستانی افواج نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ آپریشنز سے لے کر سرحدی سکیورٹی تک، ہر محاذ پر پاکستان نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ مگر افسوس کہ عالمی سطح پر اس کا اعتراف کم اور یکطرفہ بیانیے زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔
افغانستان میں جاری صورتحال کو محض انسانی بحران کے تناظر میں دیکھنا ایک خطرناک سادگی ہے، کیونکہ اس کے پسِ منظر میں چھپی سکیورٹی حقیقتیں کہیں زیادہ سنگین ہیں۔ جب ایک ہی سرزمین پر انسانی امداد کے نام پر سرگرمیاں جاری ہوں اور ساتھ ہی وہی علاقہ درجنوں دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بھی بن چکا ہو، تو یہ تضاد صرف اتفاق نہیں ہو سکتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عالمی بیانیہ زمینی حقائق کے بجائے محدود معلومات پر تشکیل دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف سچ مسخ ہو رہا ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی مسلسل خطرات لاحق ہیں۔
بھارت کی جانب سے اس صورتحال کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا بھی ایک حقیقت ہے۔ خطے میں عدم استحکام بھارت کے بیانیے کو تقویت دیتا ہے، جبکہ پاکستان کو مسلسل دباو¿ میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح افغانستان میں موجود عناصر کی خاموش حمایت اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا عالمی برادری سچ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے؟ اگر انسانیت کے نام پر حقائق کو دبایا جاتا رہا، تو نہ صرف افغانستان بلکہ پورا خطہ اس کی قیمت ادا کرتا رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ دہشتگردی کے اصل مراکز کو تسلیم کیا جائے، دوہرے معیار ختم کیے جائیں اور زمینی حقائق کو بنیاد بنا کر پالیسیاں تشکیل دی جائیں۔
پاکستان کی سلامتی، اس کی خودمختاری اور اس کی افواج کی قربانیاں کسی بیانیے کی محتاج نہیں ، یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہیں۔ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، مگر امن کی یہ خواہش کمزوری نہیں بلکہ ایک مضبوط اور باوقار قوم کی پہچان ہے۔
دہشت گردی کا مرکز افغانستان، قیمت ادا کرتا پاکستان
08:46 AM, 16 Apr, 2026