اسلام آباد : پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں نے سرحد پار بھارتی میڈیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی متحرک سفارتکاری کے نتیجے میں پاکستان ایک بار پھر عالمی طاقتوں کے درمیان ثالث اور مرکزِ نگاہ بن کر ابھرا ہے، جس پر بھارتی میڈیا نے چیخ و پکار شروع کر دی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا دوسرا اور فیصلہ کن مرحلہ پاکستان میں ہونے جا رہا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ میں شدید بوکھلاہٹ دیکھی جا رہی ہے، جہاں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے امریکی صدر کے ممکنہ دورہ پاکستان کی خبروں نے بھارت کے اس پروپیگنڈے کو دفن کر دیا ہے کہ پاکستان تنہائی کا شکار ہے۔
بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر یہ دہائی دے رہا ہے کہ پاکستان کی میزبانی میں امریکی اور ایرانی صدور ایک ہی چھت تلے جمع ہو سکتے ہیں، جو کہ خطے کی تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی پیش رفت ہوگی۔نئی دہلی کے میڈیا ہاؤسز میں اس وقت صفِ ماتم بچھی ہے کیونکہ بھارت نے طویل عرصے سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی مہم چلا رکھی تھی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان دنیا کے دو بڑے حریفوں (امریکہ اور ایران) کو میز پر لانے والا کلیدی کھلاڑی بن گیا ہے۔ امریکی صدر کی آمد کی خبروں نے بھارت کی "اسٹریٹجک اہمیت" کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت ہونے والے حالیہ اجلاسوں نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اب معذرت خواہانہ نہیں بلکہ "فعال سفارتکاری" کی پالیسی پر گامزن ہے۔
بھارتی میڈیا میں کہرام: پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز، امریکی اور ایرانی صدور کی آمد کی خبروں نے نئی دہلی کو ہلا دیا
12:48 PM, 15 Apr, 2026