سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر اہم سوالات اٹھا دیے

04:48 PM, 15 Apr, 2025

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں عام شہریوں پر مقدمات کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی جہاں جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جب تک ایف آئی آر نہ ہو اور مجسٹریٹ کا حکم نہ ہو، کسی کو گرفتار یا حراست میں رکھنا قانون کے خلاف ہے۔

کیس کی سماعت 7 رکنی بینچ نے کی، جس میں خواجہ حارث اور دیگر وکلا نے دلائل دیے۔ جسٹس مندوخیل کا کہنا تھا کہ بھارت جیسے ممالک میں بھی شہریوں کے لیے آزاد فورمز موجود ہیں۔ جسٹس علی مظہر نے کہا کہ 9 مئی کے ملزمان کے خلاف فوج نے براہ راست نہیں بلکہ انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ذریعے کارروائی کی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی اور خواجہ حارث کو دلائل مکمل کرنے کے لیے 30 منٹ کا وقت دیا گیا ہے۔

مزیدخبریں