لاہور : پاکستانی فلمی موسیقی کو اپنی منفرد پہچان دینے والے معروف موسیقار امجد بوبی کو مداحوں سے بچھڑے آج 20 سال ہو گئے، مگر ان کے تخلیق کردہ نغمے آج بھی سننے والوں کے دلوں میں تازہ ہیں۔
1942 میں امرتسر میں پیدا ہونے والے امجد بوبی کو موسیقی ورثے میں ملی۔ ان کے والد غلام حسین خان کلاسیکل گائک تھے، جنہوں نے اپنے بیٹے کو راگوں کی دنیا سے روشناس کرایا۔ رشید عطرے جیسے لیجنڈری موسیقار کے بھانجے ہونے کے باوجود امجد بوبی نے خود کو منوانے کے لیے برسوں جدوجہد کی۔
1969 میں فلم ’’اک نگینہ‘‘ سے آغاز کرنے والے امجد بوبی کو اصل شہرت 1983 میں فلم ’’کبھی الوداع نہ کہنا‘‘ سے ملی۔ اس کے بعد تو جیسے کامیابی نے ان کے قدم چوم لیے۔ ’’گھونگھٹ‘‘، ’’نزدیکیاں‘‘، ’’چیف صاحب‘‘، ’’یہ دل آپ کا ہوا‘‘ سمیت کئی فلمیں ان کی لازوال موسیقی کی گواہی دیتی ہیں۔
ان کی دھنوں میں سادگی، گہرائی اور جذبے کا ایسا امتزاج ہوتا تھا جو سیدھا دل کو چھو جاتا۔ امجد بوبی نے اپنی آخری فلم ’’کھلے آسمان کے نیچے‘‘ کے لیے موسیقی دی، اور 15 اپریل 2005 کو دل کا دورہ پڑنے سے دنیا سے رخصت ہو گئے۔