بیوروکریسی کے بونے اور جاوید کوڈو

09:05 AM, 15 Apr, 2025

اداکار جاوید کوڈو انتقال فرما گئے ، اللہ اْنہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے ، اْن کی نماز جنازہ میں ٹی وی اور اسٹیج کے کئی بڑے فنکاروں نے شرکت کی ، وہ اپنی طرز کے واحد فنکار تھے ، جْملوں اور جْگتوں کی ادائیگی میں جو بیساختہ پن اور بھولپن اْن کے ہاں تھا وہ موجودہ دور کے بہت کم فنکاروں میں ہے ، ممکن ہے وہ سکرپٹ کے مطابق بولتے ہوں مگر اکثر یوں محسوس ہوتا تھا وہ سکرپٹ سے ہٹ کر فی البدیہہ ایسے ایسے کمال کے جْملے یا جگتیں بولتے ہیں سامعین یا حاضرین کا ہنس ہنس کر بْرا حال ہو جاتا ہے ، بلکہ کہنا یہ چاہیے’’اچھا حال‘‘ ہو جاتا ہے ، ایک بار فلیٹیزہوٹل لاہور میں ادارہ ہم سخن ساتھی کی ایک تقریب میں ہمدرد دواخانے کے مالک حکیم محمد سعید فرما رہے تھے’’ میں نے بہت سی جڑی بوٹیوں پر تحقیق کی اور اْن سے بیماریوں کے علاج نکالے مگر میری سب سے بڑی تحقیق یہ ہے ایک انسانی قہقہے کی افادیت ایک میل واک جتنی ہے‘‘ ، ہمارے ہاں لوگوں کی صحت اب اس لئے بھی بڑی ناقص ہوگئی ہے وہ ہنسنا بھول گئے ہیں ، اب اْنہیں کوئی ہنساتا بھی نہیں ، رْلانے والے بہت ہیں ، جاوید کوڈو کی موت نے مجھے اتنا دْکھی نہیں کیا جتنا اْن کے ایک انٹرویو نے کر دیا جس میں وہ بتا رہے تھے’’ایک بار کسی افسر کو اپنا کوئی دْکھ بتانے کے لئے اْنہوں نے کال کی وہ افسر اس کا بْرا مان گیا اور بڑی بدتمیزی سے اْن سے پوچھنے لگا ’’اوئے کوڈو تینوں میرا نمبر کنے دتا اے ؟‘‘ ، شکر ہے کوڈو کا فن ظرافت اْس وقت پھڑکا نہیں ورنہ وہ کہہ دیتے’’جناب مینوں تہاڈا نمبر تہاڈی بیگم نے دتا اے‘‘ ، اس پر وہ افسر یقینا حیرت میں مبتلا ہوجاتا کہ’’میری بیگم نے ہْن نمبر وی دینا شروع کر دتا اے‘‘ ، کوڈو چونکہ اپنی عزت آبرو کو مقدم رکھنے والے فنکار تھے چنانچہ وہ افسر کی اس بداخلاقی پر چْپ نہ رہ سکے فرمایا’’پہلے تم بتاؤ تمہیں یہ عہدہ کس نے دیاہے جس پر بیٹھ کر تم اتنا اکڑ رہے ہو ؟‘‘ ، میرے جاننے والے ایک اعلیٰ افسر دوسروں سے ہاتھ ملاتے ہوئے اپنا ہاتھ اکڑا لیتے ہیں ، ایک بار میں نے اْن سے کہا’’سر مجھے لگتا ہے آپ کا صرف ہاتھ ہی اکڑتا ہے‘‘ ، اپنے گزشتہ کالم میں ایک پولیس افسر کی گلوکار مہدی حسن مرحوم کے ساتھ بدسلوکی کا میں نے ذکر کیا تھا ، مجھے بیشمار افسروں کے فون آئے ، وہ مجھ سے اْس افسر کا نام پوچھ رہے تھے ، میں نے عرض کیا’’وہ افسر آپ ہی ہیں‘‘ ، اس لئے کہ ہمارے اکثر افسران اور پولیس افسران اسی فطرت کے مالک ہوتے ہیں ، وہ دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں ، خاص طور پر اْنہیں تو بہت ہی حقیر سمجھتے ہیں جو بغیر کسی تحفے تحائف ، مثلاًجدید ماڈل کے آئی فون ، لیب ٹاپ یا لاکھوں روپے مالیت کے کسی پرفیوم یا گھڑی وغیرہ کے ایسے ہی منہ چْک کے اپنا مسئلہ لے کر یا ویسے ہی اْن سے ملنے آجائے ، ایسا ’’بیکار شخص‘‘ اگر اْن کے ساتھ کوئی تصویر یا سیلفی وغیرہ بنانے کی خواہش ظاہر کرے وہ صاف انکار کر دیتے ہیں جبکہ قیمتی تحائف لے کر آنے والوں کے کام بھی کرتے ہیں اْن کے ساتھ سیلفیاں اور تصویریں بھی بنواتے ہیں ، اصل میں بیوروکریسی کی یہ فطرت ہے ، آٹے میں نمک کے برابر کچھ افسران اس فطرت کے برعکس لوگوں سے حْسن سلوک اگر فرماتے ہیں یہ اْن کے خاندانی ہونے یا اْن کی اْس اعلیٰ تربیت کا ثبوت ہوتا ہے جو اْنہیں ’’اکیڈمیوں‘‘ سے نہیں اْن کے گھروں سے ملی ہوتی ہے ، دوسروں کو عزت وہی دیتاہے جس کے اپنے پاس ہوتی ہے ، اکثر افسران کے پاس صرف عہدے ہوتے ہیں عزت نہیں ہوتی ، جسے وہ عزت سمجھتے ہیں وہ اْن کے عہدے کی وجہ سے ہوتی ہے ، کردار کی وجہ سے نہیں ہوتی ، جیسے ہی عہدہ ختم عزت ختم ، اگلے روز ایک انتہائی بدمزاج افسر کے اردلی نے مجھے بتایا ’’ہمارے صاحب ماتحتوں کو ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں ، ظاہر ہے میں جواب میں اْنہیں گالیاں تو نہیں دے سکتا کہ میری نوکری کا مسئلہ ہے مگر اس کا بدلہ میں اْن سے اس طرح لیتا ہوں کہ دوپہر کو اْن کے گھر سے جو سالن آتا ہے وہ اْنہیں دینے سے پہلے میں اْس میں تھوک دیتا ہوں‘‘ ، بدمزاج افسران سے میری گزارش ہے ماتحتوں سے اچھا سلْوک کریں ورنہ ماتحت اْنہیں جو سالن  یا چائے وغیرہ دیں اْسے احتیاط چیک ضرور کر لیا کریں ، ایک اور پولیس افسر کا کار خاص ( اردلی ) اْس سے بڑا تنگ تھا ، وہ پولیس افسر روزانہ اْس سے پانچ کلو مْرغی منگواتا اور پیسے نہیں دیتا تھا ، ایک روز اْس نے مْرغی فروش کو اپنا یہ دْکھ بتایا تو اْس نے اْسے مشورہ دیا ’’ہمارے پاس روزانہ باہر سے مْرغیوں کی جو وین آتی ہے اْس میں دس بارہ مرغیاں مری ہوتی ہیں ، تم اْن مردہ مرغیوں کا گوشت لے جا کر صاحب کو دے دیا کرو‘‘ ، چنانچہ کئی ماہ تک وہ اردلی مْردہ مرغیوں کا گوشت صاحب کے گھر پہنچاتا رہا ، ‘‘اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘۔۔ جس بدمزاج افسر نے ہمارے معصوم سے فنکار کوڈو سے پوچھا ’’تمہیں میرا نمبر کس نے دیا تھا ؟‘‘ ، اْس کے ماتحت بھی اْس سے بدلہ لینے کے ویسے ہی طریقے اختیار کرتے ہوں گے جیسے اْوپر میں نے عرض کئے ، جاوید کوڈو کو اللہ نے چھوٹا قد دیا تھا ، مگر فن کی دْنیا میں کام اْس نے بڑے بڑے کئے ، جبکہ ہماری بیوروکریسی میں چھ چھ فٹے کئی افسران ایسی چھوٹی حرکتیں کرتے ہیں جاوید کوڈو کا قد اْن سے بہت بڑا محسوس ہوتا ہے ، ہمارے جو فنکار لوگوں میں رات دن قہقہے تقسیم کرتے ہیں ، ڈیپریس معاشرے کو تھوڑا ریلیکس کرنے کی کوشش کرتے ہیں اْن کی قدر نہ کر کے بے حسی کی انتہا تک ہم پہنچے ہوئے ہیں ، اگلے روز میں نے لکھا تھا ’’آپ خوش ہیں یا نہیں ؟ لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، لوگوں کو فرق صرف اس سے پڑتا ہے کہ آپ اْنہیں خوش رکھتے ہیں یا نہیں ، جاوید کوڈو نے ہمیں خوش رکھا ، وہ خود خوش تھا یا نہیں ؟ اس کی ہم نے کبھی پروا ہی نہیں کی ، پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر کا شکریہ وہ تعزیت کے لئے اْن کے گھر چلے گئے ، عظمیٰ بخاری کو چاہئے کسی روز وہ بھی اظہار تعزیت کے لئے اْن کے گھر’’چھاپہ‘‘ ماریں اور وہاں سے اْن کے سارے ایکسرے اور میڈیکل رپورٹیں وغیرہ برآمد کر کے چیک کریں اْس میں کوئی’’فحش مواد‘‘ تو نہیں ہے۔

مزیدخبریں