پروفیسر خورشید احمد ہم سے جدا ہوگئے, ان کا شمار جدید اسلامی معاشیات کے بانیوں اور اہم ترین مفکرین میں ہوتا ہے۔ اس میدان میں ان کی خدمات کا دائرہ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اس کے چند اہم پہلو یہ ہیں, انہوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاشی اصول وضع کیے، مروجہ معاشی نظاموں کا تنقیدی جائزہ لیا اور اسلامی معاشیات کو ایک باقاعدہ علمی شعبے کے طور پر متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پاکستان میں اس اہم تھنک ٹینک کے بانیوں میں شامل تھے، جو اسلامی نقطہ نظر سے پالیسی تحقیق پیش کرتا ہے۔ اسلامی معاشیات پر ان کی لاتعداد کتب، مضامین اور مقالات دنیا بھر کی جامعات میں پڑھائے جاتے ہیں اور محققین کے لیے بنیادی ماخذ کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے سود (ربا) سے پاک اسلامی بینکاری نظام کے نظریاتی اور عملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور اس کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں معاشی پالیسیوں کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے ان کی آرا اور تجاویز کو ہمیشہ اہمیت دی گئی۔ پروفیسر خورشید احمد کا مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے تعلق محض رسمی نہیں تھا، بلکہ ایک گہرے فکری، نظریاتی اور ذاتی تعلق پر مبنی تھا، وہ مولانا مودودیؒ کے اولین اور اہم ترین فکری شاگردوں میں سے تھے۔انہوں نے مولانا مودودیؒ کے افکار، خصوصاً "تفہیم القرآن" کو انگریزی میں منتقل کرکے عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ وہ جماعت اسلامی کا حصہ رہے اور مولانا مودودیؒ کے معتمد خاص سمجھے جاتے تھے۔ مولانا کے انتقال کے بعد ان کے فکر و مشن کو علمی و عملی سطح پر آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ماہر اقتصادیات،انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد اور اسلامک فاؤنڈیشن برطانیہ کے بانی جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر خورشید احمد کی اسلامی اقتصادیات اور مالیات کے شعبے میں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے استنبول کے ریسرچ سینٹر فار اسلامی اقتصادیات (IKAM) کی طرف سے ایوارڈ برائے اسلامی اقتصادیات سے نوازا گیا۔ پروفیسر خورشید احمد 23 مارچ 1932ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔آپ نے قانون اور اس کے مبادیات میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ علاوہ ازیں اکنامکس اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری
حاصل کی، جبکہ ایجوکیشن میں یونیورسٹی کی طرف سے انہیں اعزازی ڈگری عطا کی گئی۔پروفیسر خورشید احمد 1949 ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے۔ 1953ء میں ناظم اعلٰی منتخب کیا گیا۔ 1956ء میں آپ جماعت اسلامی میں باضابطہ طور پر شامل ہو گئے۔ آپ 1985ء ، 1997ء اور 2002 ء میں سینٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اورسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور اقتصادی و منصوبہ بندی کے چیئرمین کے طور پر کام بھی کیا، 1978ء میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی بنے۔ وہ حکومت پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین بھی رہے۔ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے 1955ء سے لے کر 1958ء تک کراچی یونیورسٹی میں پڑھایا۔ یونیورسٹی آف لیسٹر میں ریسرچ سکالر بھی رہے ہیں۔ 1983ء سے 1987ء تک آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ آف اکنامکس کے چیئرمین رہے۔ 1984ء سے 1992ء تک آپ انٹرنیشنل سنٹر فار ریسرچ اِن اسلامک اکنامکس لیسٹر کے ایڈوائزری بورڈ کے ارکان رہے ہیں جبکہ1979ء سے 1983 ء تک شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے وائس پریزیڈنٹ رہے۔ دوران تعلیم پڑھنے کے ساتھ ساتھ ذاتی لائبریری میں اچھی کتب جمع کرنے کا شوق بھی رہا اور طالب علمی کے زمانے ہی سے ان کے پاس اچھی خاصی لائبریری رہی۔ 1965ء میں، ان کے پاس 20ہزار کتابیں تھیں جن میں سے کچھ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کو عطیہ کیں۔ لندن میں بھی ان کے پاس 8 ہزار کتابیں تھیں جن کا بیشتر حصہ اسلامک سنٹر فاؤنڈیشن کو عطیہ کیا اور یہاں بہت سی کتب انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز اسلام آباد کے سپرد کیں۔ پروفیسر صاحب نے اسلام، تعلیم، عالمی اقتصادیات اور اجتماعی اسلامی معاشرے کے حوالے سے بہت سا کام کیا اور اسی وجہ سے انہیں بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں متعدد ممالک، اداروں اور تنظیموں کی طرف سے بہت سے اعزازات دیئے گئے۔
آپ سوسے زائد بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں ذاتی یا نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہوچکے ہیں۔ پہلی مرتبہ اسلامی معاشیات کو بطورعلمی شعبہ کے ترقی دی۔ اس کارنامے کے پیش نظر 1988ء میں پہلا اسلامی ترقیاتی بینک ایوارڈ عطاکیا گیا۔ آپ کے کارناموں کے اعتراف میں 1990ء میں شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ عطاکیا گیا۔ اسلامی اقتصادیات ومالیات کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں انہیں جولائی 1998ء میں پانچواں سالانہ امریکن فنانس ہاؤس لاربو یوایس اے پرائز دیا گیا۔ پروفیسر خورشید احمد کو اقتصادیات اسلام میں گراں قدر خدمات انجام دینے پر اسلامی بنک نے 1990ء میں اعلیٰ ترین ایوارڈ دیا،جبکہ بین الاقوامی اسلامی خدمات انجام دینے پر سعودی حکومت نے 1990ء میں انہیں شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں اعلیٰ سول ایوارڈ نشانِ امتیاز 2010ء میں عطا کیا۔ پروفیسر خورشید احمد پر ملائیشیا، ترکیہ اور جرمنی کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی کے مقالات لکھے گئے ہیں۔ 1982ء میں ان کی تعلیمی و تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ملائے یونیورسٹی آف ملائیشیا نے، 1983ء میں تعلیم پر لغبرہ یونیورسٹی (لوف بورو) برطانیہ نے، 2003ء میں ادبی شعبہ میں اور نیشنل نیشنل یونیورسٹی ملائیشیا نے 2006ء میں انہیں اسلامی معاشیات پر پی اے یچ ڈی۔ کی اعزازی ڈگریاں عطا کی ہیں۔
پروفیسر خورشید احمد متعدد نظریاتی موضوعات پر مبنی رسائل وجرائد کی ادارت کرچکے ہیں۔ آپ نے اردو اور انگریزی میں ستر کتابیں تصنیف کی ہیں۔ کئی رسائل میں اپنی نگارشات عطا کر چکے ہیں۔ دوسری بہت سی مصروفیات کے علاوہ فی الوقت آپ جماعت اسلامی کے ترجمان ماہنامہ ترجمان القرآن کے مدیر رہے، پروفیسرخورشید احمد دو اداروں کے بانی چیئرمین رہے، ایک انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد، دوسرا لیسٹر (یوکے) کی اسلامک فاؤنڈیشن۔ اسلامک سنٹر زاریا (نائجیریا)، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، فاؤنڈیشن کونسل، رائل اکیڈمی فار اسلامک سولائزیشن عمان(اردن)کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن جبکہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی اور لاہور کے وائس پریذیڈنٹ رہے
ان کا انتقال بلاشبہ عالمِ اسلام اور علمی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ پروفیسر خورشید احمد رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام علمی، دینی اور ملی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے۔ آمین
پروفیسر خورشید احمد، اسلامی معیشت کا سنہرا باب
09:05 AM, 15 Apr, 2025