گزشتہ کالم پر گوجرانوالہ کے معروف قانون دان و شاعر جناب حافظ انجم سعید کے ریمارکس ’’معروف سیاسی کالم نگاروں کا بھی تبحر علمی ایسا نہیں ہوتا کہ وہ سیاسی کالم نگاری سے کچھ اوپر اٹھ سکیں۔ کسی علمی، فکری اور روحانی موضوع پر بات کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آصف صاحب کو یہ ملکہ دیا ہے کہ وہ بیک وقت علمی، روحانی اور فکری موضوعات پر بھی روانی سے بات کرتے ہیں۔ یہی بات ان کو دوسرے کالم نویسوں سے ممتاز کرتی ہے۔ میرے خیال میں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیالات مستعار کے نہیں ہیں۔ جیسے بھی ہیں ان کے اپنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں اپنائیت کی خوشبو ہوتی ہے۔ میں آصف صاحب کے اس کالم کو پڑھ کے خود سناٹے میں آ گیا ہوں۔ اور میرے اندر خاموشیوں کی آوازیں بلند سے بلند تر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ میری ان خاموشیوں میں ایک آواز مرشد رومی کی یہ بھی آ رہی ہے۔
’’خاموشی کا ادب کرو کہ یہ آوازوں کی مرشد ہے۔ سو میں خاموش ہوں‘‘۔
قبلہ حافظ صاحب! آپ صاحب ذوق شخصیت، صاف گو، شُستہ پسند، تہذیبی، سادہ دل، حساس طبیعت کے حامل، سادہ مزاج، درد مند، نرم خو، خوش مزاج، نرم گفتار، بااخلاق، مخلص، خوش اخلاق، خوش پوش انسان ہیں بلکہ ہر ودیعت کا وسیع قبیلہ ہیں، ایڈیٹر تو کہتے ہیں حالات حاضرہ پر لکھوں اب میں کیا لکھوں جو 1947 سے پہلے سے جاری ہے۔ مجھے تو کبھی La bale dam merci by John Keats and Three days to see by hellen Keller کبھی مرزا عبدالقادر بیدل کے اندر کا بحر بیکراں، کبھی مرزا غالب کی مجبوریاں، کبھی بہلول دانا، کبھی آقا کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نڈھال حالت میں انگور کا خوشہ پیش کرنے والے طائف کے حضرت عداس، کبھی حضرت خبابؓ، کبھی حضرت ابودجانہؓ، کبھی ام ایمنؓ آقاؐ کی خادمہ، کبھی کرشن نگر لاہور میں گونگی پاگل کی رات بے آسرا سڑکوں پر بچہ جننے کی چیخیں، کبھی گجر پورہ لاہور رنگ روڈ پر لٹ جانے والی ماں، کبھی بے کفن باپ کے ہاتھوں دفن ہونے ولا فیصل آباد کا لڑکا، کبھی عیدین پر خودکشیاں کرنے والے، کبھی سولی چڑھتا رزاق جھرنا، کبھی بیورو کریسی کی رعونت و رزاقی، کبھی نو دولتیوں کے ڈالے یاد آتے ہیں۔ کبھی ان کے ٹائروں میں کچلے جانے والے، کس کس کی خاموشی کو زبان دوں کس کس کو زندہ رہ جانے کا پُرسا دوں، میں خود گھائل ہوں۔ یہ وفا پرست طبیعت ہی دشمن بنی بیٹھی ہے کہاں سے اصحاب کہف کی نیند اپنا مقدر بناؤں، انا اور سانس کا ٹکراؤ کب تک یہ بدن بوجھ اٹھائے؟ کیا کریں، کدھر جائیں، ہر سانس لیتے ہوئے محسوس ہونا کس کو بتاؤں، انسانیت کی روایت کیا ہم بے وسائل پر ہی اتری ہے؟ مر چکے ہونا جیے جانے سے کب تک سبقت لیتا رہے گا۔ کب چشم تصور ہی سہی ظالموں کو مظلوموں، ہرجائیوں کو وفا پرستوں کے بدن میں سسکتے دیکھے گی؟ کب قربانی سزا نہیں وفا جانی جائے گی، حیرت و حریت کا سفر کب مکمل ہو گا، کب دلیل معتبر ٹھہرے گی؟ کب مرنے والے کی تعزیت پر آنے والے کے بجائے مرنے والے کو مرنے سے پہلے کھلایا جائے گا، کب دلآزاری کے لیے محض گناہ قرار دیئے جانے کے بجائے تعزیر قانون بن پائے گی، دل آزاری کا کوئی ایک بھی مجرم قید ہوا ہے کبھی، ہجر کی کوئی دوا ایجاد ہو سکی ہے کوئی، وصال میں بھی اداسی کا خاتمہ کر پایا کوئی!!!!
جناب حافظ انجم سعید کی نظم:
عشق دوام
ایک کن سے
ابتدائے آفرینش ہوئی
اور اسی وقت آفرینش
کے سینے میں عشق سما گیا
تب سے آج تک
وہیں حلول کیے ہوئے ہے!!
کائنات اور عشق
اصل میں دونوں ایک ہیں
ایک رہیں گے
کائنات اپنے وجود کو ختم کرے
تو کہیں عشق اپنی راہ لے
جب تک ایسا نہیں ہوتا
عشق زندہ رہے گا
کہ کائنات کی کل کائنات ہے یہ
کل کائنات!!
کن کہنے والے نے
عشق کو کائنات کے سینے سے نکال دیا تو
کائنات کن کہنے والے
کے قدموں میںآ گرے گی
کہ حرف کن میں عشق مستور ہے!!
وقت کہ جس کو
کن کہنے والے نے
سب کچھ رفتہ رفتہ
نگل جانے کا اختیار دیا
وہ بھی عشق کے آگے بے بس ہے
وقت ساری دنیا کو تہہ و بالا کر کے بھی
کائنات کو نہیں جھکا سکا
نہیں جھکا سکے گا کہ
عشق اور کائنات ایک ہیں
ایک ہی کن کی پیداوار ہیں
ایک ہی کن کہنے والے کے
غلام ہیں غلام رہیں گے
ازل سے ابد تک
کن فیکون ۔۔۔۔ کن فیکون!!!
ترقی یافتہ ممالک میں نظام ہے اور ہمارے ہاں نصیب، لہٰذا اپنا ہی شعر پیش کیے دیتا ہوں
گر لکھا تھا مقدر میں، مقدر سے ہی لڑنا
آدم کو بھی صاحب مقدور کیا ہوتا
نارسا و وارفتگی
09:03 AM, 15 Apr, 2025