چوپال سجی ہوئی تھی اور سب سرگوشیاں کررہے تھے۔ چپ سائیں حسب عادت اخبارکے مطالعہ میں مصروف تھے۔ نتھو اور پھتو کی نوک جھونک بھی جاری تھی۔۔۔۔ چاچا رفیق نے چوپال میں باآواز بلند سلام کیااور خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئے۔۔۔ نتھو اور پھتو ان کو دیکھنے لگے۔۔۔ چاچارفیق آج خلاف معمول بالکل چپ تھے۔۔۔ پریشانی ا ن کے چہرے سے عیاں تھی۔۔چپ سائیں اخبار کے مطالعہ سے فارغ ہوئے اور اخبار کو ایک طرف رکھ دیا۔۔۔ چاچا رفیق کو دیکھ کو بولے۔۔بھئی رفیق۔۔خیر تو ہے۔۔ آج آپ ضرورت سے زیادہ ہی خاموش ہیں اور چہرے پر ہشاشیت نہیں ہے اور پریشانی عیاں ہے۔۔کیا معاملہ ہے؟۔۔۔کچھ روشنی ڈالیں تاکہ ہم آپ کی پریشانی کوکم کریں یا کوئی تدبیر سوچیں۔۔۔۔ چاچا رفیق نے جھکا ہوا سر اٹھایا۔۔۔کہا حق ہو۔۔۔ بس تو ہی تو!۔۔حق ہوبس تو ہی تو!۔۔۔چاچا رفیق کی زبان سے یہی الفاظ جاری تھے۔۔۔چپ سائیں سمجھ گئے کہ آج کچھ ایسا ہے جس نے بھئی رفیق کوبھی غمگین کردیا ہے۔ چاچا رفیق کو سب سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ چاچا رفیق نے چپ کا روزہ توڑا اور بولے۔۔۔ چپ سائیں جی۔۔۔ آج مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ جیسے میری طاقت آدھی ہوگئی ہے اور دونوں بازو جسم سے کسی نے الگ کر دیئے ہیں۔۔۔یہ کہتے ہوئے۔۔ چاچا رفیق کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔۔۔سب چاچا رفیق کی طرف متوجہ ہوئے۔۔ نتھو اور پھتو نے پانی کا گلاس پیش کیا۔۔۔چاچا رفیق نے بڑی مشکل سے دو چار گھونٹ پئے۔۔۔ اب تو چپ سائیں کابھی تجسس بڑھ رہا تھا۔۔۔ وہ بولنے کی بجائے چاچا رفیق کو دیکھے جارہے تھے۔۔۔ تھوڑی دیر کے بعد چاچا رفیق بولے۔۔۔ دوستو! آپ سب کو معلوم ہے کہ میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔۔ وہ میری کل کائنات ہے۔۔۔ لیکن اب۔۔ چاچارفیق پھر چپ کرگئے۔۔۔۔مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ میری دنیا ویران ہوگئی ہے۔۔۔ چپ سائیں سے رہانہ گیا۔۔پوچھا بھئی کیا ہوا آخر کچھ تو بتاؤ۔۔۔ چاچا رفیق نے بولے۔۔ دونوں بھائیوں میں ایسازبردست جھگڑا ہوا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنا پسند نہیں کررہے۔۔۔ اور تواور۔۔۔ دونوں نے گھر بھی چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے اورسونے پر سہاگہ۔۔۔ دونوں بیوی بچوں سمیت اپنے اپنے کمرے میں بند ہوگئے ہیں اور راستے الگ کرکے بٹوارے والی صورتحال ہوگئی ہے۔۔۔ میرا گھر جو نانی دادی والا ہے۔۔دوستوگھر اور محبتوں کا بٹوارہ ہوگیا ہے۔۔یہ بتا کر چا چا رفیق پھوٹ پھوٹ کر بچوں کی طرح رونے لگے۔۔۔
چپ سائیں نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا۔۔۔بھئی رفیق آپ فکر نہ کریں۔۔۔ میں ان سے بات کروں گا۔۔۔ وہ بچے ہیں سمجھ جائیں گی۔۔۔ جہاں برتن ہوں وہ ایک دوسرے سے کھڑک جاتے ہیں اورمشترکہ خاندانی نظام میں عام طور پر ایساتوہوتا ہی رہتا ہے۔
چپ سائیں بولے صاحبو! فیملی سسٹم ایک معاشرتی ڈھانچہ ہوتا ہے جس میں افراد ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں اور اپنے حقوق، ذمہ داریوں، اور محبت کا تبادلہ کرتے ہیں۔جوائنٹ فیملی سسٹم میں ایک ہی گھر میں مختلف نسلوں کے افراد رہتے ہیں، جیسے والدین، بچے، دادا دادی، نانا نانی، اور کبھی کبھار چچا چچی، پھوپھی وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ سسٹم اکثر قدیم معاشروں میں رائج تھا، اور اب بھی کئی جگہوں پر یہ روایت برقرار ہے۔اس نظام کی وجہ سے خاندان کے درمیان تعلقات مضبوط ہوتے ہیں۔ بزرگوں سے نوجوانوں کو زندگی کے اہم اسباق ملتے ہیں اور ان کی تجربات سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ دوستو! جوائنٹ فیملی سسٹم میں افراد ایک دوسرے کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ہر فرد کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔ کبھی کبھار خاندان میں مالی یا جذباتی طور پر ایک فرد پر زیادہ ذمہ داری آ جاتی ہے لیکن مشکل وقت بھی آسانی سے کٹ جاتا ہے۔
دوستو اب میں دوسرے سسٹم کی بات کرتا ہوں۔ جب افراد علیحدہ رہتے ہیں، تو مختلف نسلوں اور افراد کے درمیان چھوٹے تنازعات کا سامنا کم ہوتا ہے۔ الگ رہتے ہوئے افراد کی آپس میں ملاقات کم ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں خاندان کے افراد کے درمیان روابط کمزور پڑ سکتے ہیں۔ بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع کم ملتا ہے، جس سے ان کے ساتھ تعلقات کمزور ہو سکتے ہیں۔ الگ رہنے کی صورت میں ہر فرد کو اپنے اخراجات خود اٹھانے پڑتے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب خاندان الگ الگ رہتے ہیں، تو بزرگ افراد کو اکیلا محسوس ہو سکتا ہے اور ان کی دیکھ بھال مشکل ہو سکتی ہے۔
بھئی دوستو!گھر وہ جگہ ہوتی ہے جہاں انسان سکون اور محبت کی تلاش کرتا ہے، جہاں اس کی اپنی جگہ ہوتی ہے، جہاں کا ہر کمرہ، ہر دیوار اور ہر یاد ایک احساس سے جڑا ہوتا ہے لیکن جب یہی گھر محبتوں کے بٹوارے کا گواہ بن جائے، تو وہ ماحول بدل جاتا ہے۔ گھر کا بٹوارہ یا محبتوں کا بٹوارہ نہ صرف مادی چیزوں کا تقسیم ہوتا ہے، بلکہ یہ جذباتی طور پر بھی انسان کو بہت متاثر کرتا ہے۔دوستوکئی بار یہ بٹوارہ ایک طویل اور پیچیدہ عمل بنتا ہے جس میں اختلافات اور بے چینی کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ بٹوارہ کسی بھی خاندان میں ہو، چاہے وہ جوائنٹ فیملی سسٹم ہو یا الگ فیملی سسٹم، یہ ایک جذباتی اذیت بن جاتا ہے۔ صاحبو!گھر کا بٹوارہ صرف مادی اشیاء کی تقسیم تک محدود نہیں ہوتا بلکہ اس کا اثر خاندان کے اندر موجود محبتوں اور تعلقات پر بھی ہوتا ہے۔
صاحبو!اگرچہ گھر اور محبتوں کا بٹوارہ ایک تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے، لیکن اس کا علاج ممکن ہے۔ایک دوسرے کے جذبات کا احترام اور اعتدال اس تعلق کو مزید مضبوط کرتا ہے۔صاحبو درگزر کرو اور ایک ساتھ رہو کیونکہ اتفاق میں ہی برکت ہے ۔
صاحبو!موجودہ دور میں معاشی دباؤ اور شہری زندگی کی تیز رفتار ترقی نے خاندانوں کو روایتی جوائنٹ فیملی سسٹم سے دور کر دیا ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا کی وجہ سے روایتی خاندانی نظام بکھرگیا ہے۔افراد اب زیادہ فردی آزادی اور خودمختاری کو اہمیت دیتے ہیں۔یہ تلخ حقیقت ہے کہ بزرگوں کی دیکھ بھال مشکل ہو جاتی ہے اور بچوں کو ان کی رہنمائی اور محبت کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔ صاحبو!ساتھ رہتے ہوئے ایک دوسرے کو برداشت کرو۔۔۔باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔!
محبتوں کا بٹوارہ
09:02 AM, 15 Apr, 2025