پاک امریکا تعلقات نئی بلندیوں پر

09:01 AM, 15 Apr, 2025

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کی ایک سیاسی جماعت نے یہ امید لگا لی تھی کہ جیل میں موجود ان کے لیڈر کی رہائی پر امریکا براہ راست مداخلت کریگا۔لیکن یہ ایک دیوانے کا ہی خواب ثابت ہوا۔ امریکہ دنیا کی بڑی جمہوریت ہے اور اپنے روشن مستقبل کے لئے قومیت کی پالیسی پر یقین رکھتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے پاکستان کے سیاسی معاملات میں مداخلت نہ کر کے ایک بڑے سیاسی لیڈر ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ یقینی طور پر ٹرمپ کی یہ پالیسی قابل تعریف ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب دونوں ممالک کے تعلقات ایک نئی راہ پر گامزن ہونے جارہے ہیں۔ پاکستان امریکا کے لئے پہلے بھی ایک اہم سٹرٹیجک پارٹنر کی حیثیت رکھتا تھا اور اب بھی ہے۔ ایک سیاسی جماعت نے ماضی میں دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کی مگر منہ کی کھانا پڑی۔ اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدارمیں آتے ہی اسی جماعت نے پراپیگنڈا شروع کر دیا مگر دنیا نے دیکھ لیا کہ امریکی صدر نے افطار ڈنر میں پاکستانی سفیرکو بھی مدعو کیا اور مسلم ممالک کے دیگر سفراء کے ساتھ پاکستانی سفیر کو بھی عزت بخشی۔ پاکستان اور امریکا کی باہمی تجارت کی اگر بات کریں تو اس میں بھی مضبوطی اور استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں پاکستان کی امریکا کو برآمدات میں 10.4 فیصد اضافہ ریکارڈ ہواہے۔شمالی امریکا کو برآمدات 9.7 فیصد بڑھ کر 4.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ایس آئی ایف سی کے تحت برآمدات کے فروغ کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی سے امریکی مارکیٹ میں پاکستانی مصنوعات کی طلب میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اس اہم پیشرفت میں پاکستانی مجموعی برآمدات کا 94 فیصد حصہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات قرار دیا گیا۔امریکا کو پاکستانی برآمدات میں اضافے کو زرِمبادلہ ذخائر کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ایس آئی ایف سی کی معاونت اور حکومت کی جانب سے تجارتی پالیسی میں اصلاحات برآمدات میں اضافے کی وجہ قرار دی جا رہی ہیں ۔ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے برآمدات کے شعبے کی بحالی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے مثبت پیشرفت ہے۔
یہی وہ چند مثالیں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے پاکستان اور امریکا کے تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔ سیاسی انتشار میں ڈوبے ٹولے کے لئے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے امریکی کانگریس کے وفد نے ملاقات کی، اس دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد کی قیادت رکن کانگریس جیک برگ مین نے کی، امریکی کانگریس کے وفد میں تھامس سوزی اور جوناتھن جیکسن شامل تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر بھی زور دیا گیا۔ امریکی وفد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا، امریکی وفد نے علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا۔ امریکی وفد نے پاکستان کی خود مختاری کیلئے احترام کا اظہار اور باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ وفد نے سکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے امریکی وفد کی آمد کو سراہا۔ انہوں نے باہمی مفاد پر مبنی دیرپا شراکت داری کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تربیتی تعاون کے لئے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق دونوں جانب سے باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور باہمی مفادات کی بنیاد پر مسلسل روابط کی اہمیت پر زور دیا گیا۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کے اعتراف پر خوشی کا اظہار کیا۔ اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا اور امریکی صدر کا بیان پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف ہے، جو خوش آئند ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار جانوں کی قربانی دی اور عالمی سطح پر اس قربانی کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے تاکہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والی جگہوں سے محروم کیا جا سکے اور کسی بھی ملک کے خلاف ان کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کے لئے قیادت اور عوام کا عزم غیر متزلزل ہے اور امریکا کے ساتھ علاقائی امن و استحکام کے لیے شراکت داری جاری رکھی جائے گی۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا تھا کہ پاکستان نے اس دہشت گرد کی گرفتاری میں مدد فراہم کی جس نے داعش کے زیر اہتمام 13 امریکیوں کی زندگی چھینی تھی۔ ایسے حالات میں پاک امریکا تعلقات یقینی طور پر بلندیوں پر ہیں اور ماضی کے دونوں دوست ممالک اب بھی ایک دوسرے کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں ، جہاں پاکستانی لیڈر شپ اس معاملے میں بہترین خارجہ پالیسی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے وہیں ٹرمپ انتظامیہ بھی با کمال انداز میں پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کر رہی ہے اور یہی پاک امریکا تعلقات میں مزید مضبوطی کی نوید ہے جو آئندہ آنے والے دنوں میں مزید بلندیوں کو چھوئے گی۔

مزیدخبریں