بہت مشاہدہ کرنے کے بعد میں اِس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے جہاں سرکاری دورے پرجانا ہوں وزیر مواصلات عبد العلیم خان تین چار روز پہلے ہی وہاں روانہ ہو جاتے ہیں۔ سینٹرل ایشیائی ممالک کے حوالے سے تو یہ بات سو فیصد درست ہے ۔ یقینا یہ عبد العلیم خان کی صلاحیتیں ہیں جن سے اُن کے اتحادی مستفید ہو رہے ہیں ۔عمران نیازی کی یہ بدقسمتی تھی کہ اُس نے ریس کا گھوڑا تانگے میں جوتنا چاہا اور گھوڑے کی جگہ بزداری خچر لا کر پنجاب میں جُت دیا ۔میں نے شعوری طور پر بزدار کو خچر لکھا ہے کیونکہ خچر میں پیدا ہونے کی صلاحیت تو ہوتی ہے لیکن کچھ بھی پیدا کرنے کی خوبی قدرت نے اُسے نہیں بخشی ہوتی ۔ عمران نیازی کے جیل سے باہر آنے کی تاریخیں ہر بار اُس کے نجومیوں کو شرمند ہ کرا رہی ہیں لیکن پاکستان کی مروجہ سیاست میں غیر تربیت یافتہ سیاسی ورکروں کو زند ہ رکھنے کیلئے کوئی نہ کوئی تاریخ تودینا پڑتی ہے سو اِس بار یہ تاریخ عید الاضحی کی دی جارہی ہے اورمجھے مکمل امید ہے کہ جب تک عمران نیازی کے ’’ جعلی انقلاب ‘‘ اور ’’ریاست کوفہ ‘‘ کے مرض کا شافی علاج نہیں ہو جاتا وہ کبھی آزاد اور ذہنی طور پر تندرست انسانوں کے درمیان رہنے کا پروانہ وصول نہیں کرپائے گا ۔ ہمارے بچپن میں تاریخ اور جغرافیہ اکھٹے ہوا کرتے تھے اور میں اُس حوالے سے مکمل کلیئر ہوں کہ جغرافیے سے نہ آشنا شخص کبھی تاریخ سمجھنے اور تاریخی تجزیہ کرنے کی اہلیت حاصل نہیں کرسکتا ۔ ’اب عمران نیازی کا جغرافیہ اور تاریخ تو پوری قوم کے سامنے ہے کہ وہ جرمنی اور جاپان کی سرحدیں ملا دیتا ہے ممکن ہے اُسے جیل میں جغرافیہ پڑھنے کا موقع ملے جائے لیکن جو تاریخ اُس کے پاس تھی وہ بھی اچھوتی تھی اور تاریخ کی کسی کتاب سے دستیاب نہیں ہوتی تھی جس میں پاکستان کے بارہ موسم اور ایک لاکھ چالیس ہزار پیغمبر ہوں ۔سیاسی ورکر اپنے قائد سے سیکھتے ہیں اور جب قائد کی یہ حالت ہو تو پھر آپ ورکروں کی صلاحیت کا انداز ہ لگا سکتے ہیں ۔ ’زرد صحافت ‘‘ کی طرح ’’زرد سیاست ‘‘ بھی ہوتی ہے اور خوش قسمتی سے تحریک انصاف کے پاس یہ دونوں کارگر ہتھیار موجود ہیں ۔
وزیر اعظم پاکستان کے بیلا روس کے دورے کے بعد اپ پی ٹی آئی کا یہ پروپیگنڈا سامنے آیا ہے کہ بیلا روس کا صدر چونکہ انتہائی کرپٹ ہے عنقریب میاں فیملی کو اقتدار سے باہر کردیا جائے گا سو وہ اپنے مستقبل کیلئے نئی پناہ گاہ ڈھونڈنے کیلئے نکلے ہیں ۔اب یہ غیر سیاسی تجزیہ اورجھوٹ کا میدان صرف پی ٹی آئی لگا سکتی ہے یا پھر اُن کا میڈیا سیل اور زرد صحافی ۔ بیلا روس کے جغرافیے سے ناواقف لوگ نہیں جانتے کہ مشرقی یورپ کے اس ملک کا ایک بارڈر مشرق سے شمال مشرق تک روس اور اُس کے جنوب میں یوکرائن ٗ مغرب میں پولینڈ جبکہ شمال مغرب میں لتھوانیا اور لٹویا کے ممالک ہیں ۔آپ یہاں سے یورپ میں داخل ہو جاتے ہیں اور یورپین یہاں سے سینٹرل ایشیائی ریاستوں میں ۔ بیلا روس کا اپنا کوئی سمندر نہیں سو مواصلات کے حوالے سے افغانستان اور ایران سے بننے والے رستوں کی صورت میں یہاں تک رسائی دراصل یورپی منڈی تک زمینی راستہ ہو گا۔ اس صورت حال میں نئی منڈیوں کی تلاش اور وہاں روابط بڑھانا پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے ۔بیلا روس سے پہلے آذربائیجان کے دورے کے وقت بھی وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے پہلے وزیر مواصلات عبد العلیم خان کوہی آذر بائیجان بھیجا اور بعد میںخود تشریف لے گئے ۔یقینا اس طریقہ کار کا مقصد زیادہ سے زیادہ معلومات اورمعاملات کو پہلے سے سیٹل کرنا ہی ہو سکتا ہے تاکہ ایک تو وزیر اعظم کا بہت زیادہ وقت ضائع نہ ہو اور دوسرا اہم معالات وزراء اور سرکاری ملازمین کے لیول پر پر بات تقریباً مکمل ہو چکی ہو۔ آذر بائیجان تو اسلامی ملک ہے لیکن بیلا روس میں 91 فیصد مسیحی بستے ہیں ۔ بیلا روس کے کامیاب دورے سے واپسی پر وزیر اعظم نے ڈیڑھ لاکھ نوجوانو ں کے بیلا روس میں روز گار کے حوالے سے خوشخبری سنائی ۔ اس کے علاوہ عبد العلیم خان وزیر اعظم سے پہلے وہاں بطور سٹیٹ گیسٹ قیام پذیر تھے اور اس دوران بیلاروس کے وزیر توانائی ڈینس موروز اور وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی بیلاروس میں منسٹریل سیشن میں شرکت اور خطاب انتہائی اہم تھا ۔دونوں ممالک نے پہلے سے موجود معاہدوں پر تیز پیشرفت کی خواہش کا اظہار کیا ٗ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی بات چیت ہوئی ۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان اور بیلا روس کے وزیر ٹرانسپورٹ الیگزسی لیخنووچ نے مواصلات کے شعبے سمیت پاکستان سے باہمی تعاون میں اضافہ کی خواہش کا اظہار کیا۔ بیلا روس کے دارالحکومت منسک میں پاکستانی وفد نے وفاقی وزیر مواصلات کی سربراہی میں ٹریکٹر مینو فیکچرنگ پلانٹ کادورہ کیا ٗ جس میں75 سال سے قائم ٹریکٹر پلانٹ کی کارکردگی بارے وفاقی وزیر کو بریفنگ دی گئی ۔ بیلاروس کے اس ادارے میں ٹریکٹرو گاڑیوں کے 62ماڈل تیارکیے جاتے ہیں اور 20ہزار سے زیادہ ورک فورس،سالانہ 50ہزار ٹریکٹر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اس ٹریکٹرز کی خریداری کے بڑے امپورٹرز میں یوکرین، آذربائیجان، ہنگری، قازقستان، رومانیہ اور پاکستان شامل ہیں ۔ عبد العلیم خان نے بتایا کہ وہ پاکستان میں بھی ایسا جدید ٹریکٹر پلانٹ لگانے کے خواہاں ہیںاور اِس سلسلہ میں بیلاروس کی معاونت پاکستان کے لئے حوصلہ افزا ہوگی، عبد العلیم خان نے امید ظاہر کی کہ پاکستان توانائی، مواصلات، انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں پیشرفت کرے گا ٗدونوں وزراء کے مابین ایم او یوز پر دستخط کے بعدبیلاروس کے دارالحکومت منسک میں دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔
اہم ترین بات تو یہ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین ذرائع آمدورفت کو بڑھانا ضروری ہے جس کیلئے جی ٹی جی اور بی ٹو بی تعلقات کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ پاکستان سے بیلاروس کوئی ڈائریکٹ فلائٹ نہیں جاتی جس کا جلد بندوبست کردیا جائے گا کیونکہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ان تمام رابطوں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا کہ جغرافیائی اعتبار سے بیلاروس یورپ کی بڑی منڈی ہے، پاکستان سے بزنس کمیونٹی امپورٹ ایکسپورٹ کے لئے دلچسپی رکھتی ہے اور ہمیں اس مارکیٹ سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونا ہے۔وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کادورہ بیلا روس انتہائی کامیاب و کامران رہا اور امید کی جاتی ہے کہ عنقریب اِس کے ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔
وزیر اعظم کا بیلا روس کا کامیاب دورہ
09:01 AM, 15 Apr, 2025