سپریم کورٹ کے نئے عدالتی سال کا آغاز، چیف جسٹس نے اصلاحات کی پیشرفت سے آگاہ کردیا

03:48 PM, 14 Sep, 2026

اسلام آباد:سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ تقریب ہوئی، جس میں ججز، سینئر وکلا، اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار اور پاکستان بار کونسل کے عہدیداران نے شرکت کی۔ تقریب میں انصاف کی مؤثر فراہمی اور عدالتی نظام میں اصلاحات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

 چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا اصلاحاتی ایجنڈا ٹیکنالوجی، انصاف تک رسائی، شفافیت، قانونی و ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی اور انصاف کے اداروں کی فعالیت پر مشتمل ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ 8 شعبوں میں 86 اصلاحاتی اقدامات میں سے 65 مکمل ہوچکے ہیں، 8 پر پیش رفت جاری ہے جبکہ 13 اقدامات پر مزید توجہ درکار ہے۔

 چیف جسٹس کے مطابق مقدمات کی ڈیجیٹائزیشن اور بارکوڈنگ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ ای فائلنگ، ای آفس، پیپر لیس کورٹس اور فیصلوں و احکامات کی الیکٹرانک ترسیل بھی عدالتی اصلاحات کا حصہ ہیں۔

 جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ اصلاحات کا اگلا مرحلہ مربوط ڈیجیٹل نظامِ انصاف کا قیام ہے، جس کیلئے مضبوط ڈیٹا انفراسٹرکچر اور مؤثر سائبر سکیورٹی ضروری ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور ضلعی عدلیہ کیلئے یکساں قومی ای فائلنگ فریم ورک پر کام جاری ہے، جبکہ ثالثی اور متبادل حلِ تنازعات کو بھی اصلاحاتی ایجنڈے میں اہم حیثیت دی گئی ہے۔

 چیف جسٹس نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے بین الاقوامی عدالتی تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ چین اور ترکیہ کی اعلیٰ عدالتوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ میں عوامی سہولت مرکز اور ڈیجیٹل رابطہ کاری کے نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔ لاہور رجسٹری میں عوامی سہولت مرکز نومبر کے وسط تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

مزیدخبریں