لاہور: وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ وہ ایسا تھیٹر کلچر چاہتے ہیں جہاں ہر کوئی، خاص طور پر فیملیز، بلا خوف و خطر آ کر ڈرامے دیکھ سکیں۔
انہوں نے یہ بات تھیٹر ایسوسی ایشن کے فنکار قیصر ثناء اللہ اور نسیم وکی سے ملاقات میں کہی، جہاں نئے ڈرامہ ایکٹ کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ اس دوران تھیٹر ایسوسی ایشن کی دو اہم تجاویز کو قانون میں شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وہ تھیٹر ایکٹ انڈسٹری کے ساتھ مشاورت سے تیار کر رہے ہیں تاکہ تھیٹر کا ماحول بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ فحاشی پھیلانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کے بعد ڈراموں میں بہتری آئی ہے، مگر اب بھی کچھ شکایات آ رہی ہیں۔
وزیر نے واضح کیا کہ جب تک تھیٹر سے فحاشی ختم نہیں ہو جاتی، وہ چین سے نہیں بیٹھیں گی۔ گلی محلوں میں غیر قانونی تھیٹر بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور تھیٹر کے اوقات بھی بدلنے ہوں گے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ تھیٹر میں خواتین کو ٹارگٹ کرنے اور ان کے بارے میں نامناسب باتیں کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اچھے اور معاشرتی موضوعات پر ڈرامے بنانے چاہئیں اور نوجوانوں کو تھیٹر میں زیادہ مواقع دیے جائیں تاکہ ماحول بہتر ہو۔