کمال حیرت یہ کہ ہرلمحہ دوسرے لمحے سے متصادم رہتا ہے دل کی دنیا زمانے کے ہاتھوں اور زمانہ دل کے ہاتھوں رسواء ہوتا رہتا ہے محبت ایسی خوبصورت سرکشی پر بہت جلد شرمساری پہرے لگادیتی ہے آپ ایک مخصوص عمر ازدواجی حیثیت اور متوازن صورتحال میں بھی چھپ چھپا کر محبت کے مرتکب ہوسکتے ہیں اور وہ بھی کوئی پسندیدہ عمل نہیں مگر ذرا سی عمر کھسکی یا دیگر معاشرتی لوازمات بڑھے کیا مجال کہ آپ کا سہما ہوا دل آپ کومحبت کی اجازت دے ہوجائے تو چھپائے پھریئے خود سے جھیپنے جھیپنے شرمسار رہتے خود کو سرزنش کرتے رہے۔ اعلان محبت کا سوال ہی نہیں کہ چاروں جانب سے لعن طعن اورجوتوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے حتیٰ کہ تنہائی میں بھی آپ خود سے شرمندہ ہورہے ہوتے ہیں میں محبت کی بات کررہی ہوں عیش پسندی کی نہیں جن کا شرمساری سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا یا پھر ٹیبوز عبور کرنے والے حدود وقیود ماڈرن کہلانے کے شوق میں توڑنے والے اس زمرے میں نہیں آتے …
یہ تو وہ مقبرہ ہے جہاں آرزوئیں بین ڈالتی ہیں حسرتیں بال کھولے آہ بکاہ کرتی ہیں…
ان وقتوں کی یاد میںجب آرزوئیں دل کے بالاخانے میں رقصاں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں پیالے کھنک اٹھتے ہیں جلترنگ بجتی ہے اپنے آپ راتوں میں پائلیں کھنکتی ہیں…
ان چھما چھم برستی بارشوں میں محبت کی بوندیں آٹھویں راگ کو ایجاد کرتی ہیں لبریز مسکراہٹیں منور تنہائیاں مہکتی ہوئی مسرور چال قدموں میں عدم توازن دنیا کے سب سے بڑے انسانی سکھ کا سندیسہ دیتا ہے …
کمال حیرت یہ کہ تاہم محبت کی تسکین سے واقف ہوسکے اور نہ رفاقت کے تقاضے پورے کرسکے۔…محبت کو ارینج کرکے گلدانوں میں سجایا تو گیا یعنی محبت کو منکوحہ کیا گیا مگر مہنگائی کمیابی غم روز گار کی چڑھتی دھوپ نے آنکھوں سے محبت کی دھند چھٹا کر لنچ بازار چوراہے میں کھڑا کردیا انسان کو جہاں وہ آٹے دال کا بھاؤ تاؤکررہا تھا۔
بدمزاج حقیقت کا بھداپن بیماریاں دوائیوں کی عدم دستیابی بچوں کے داخلے فیسیں غم روزگار اور مقام روزگار پر نت نئی سازشیں …بندہ آٹھ گھنٹے نوکری کرتا ہے اور 16گھنٹے نوکری پکی کرتا ہے ۔
تین دہائیاں کریئر نوکری کو دے کر قرضے قسطوں پر گھر گاڑی اور بچوں کی تعلیم شادی یہاں کے کامیاب ترین جوڑے کی اخیر ہے اس دوران وہ آئینہ دیکھنا بھول جاتا ہے سر سے بال اڑ جاتے ہیں سفید قلمیں چہرے پہ غم روزگار قسطوں کی فکریں اپنا شعر یاد آگیا۔
چہرے پہ اس کے گردش دوراں کا ذکر تھا
اظہار عشق اس کا مجھے بے بسی لگا
ایسے میں ماضی پرست عورتیں گئے دنوں کے ڈائلاگز کے انتظار میں دکھی ہوتی رہتی ہیں آئندہ ڈراتا ہے تو پارلرز اور بوتیکس کی چاندی ہو جاتی ہے اور اب تو سرجری میڈیسن والوں نے بھی کھوئے ہوئے حسن کو واپس لانے کے کاروبار کو انسانی صحت پر ترجیحی دے دی ہے۔ کیونکہ انسان سب سے زیادہ خود سے پیار کرتا ہے اور خود سے پیار کرنے والوں سے لگاؤ کی بھی یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ اس کی خوبصورتی اور خود پسندی کی تصدیق کرتے ہیں۔
پہلے دھن کی تلاش میں حسن کی دولت کو کھودینا پھر اسی خسارے کی کمائی سے بال لگوانا حسن چمکاناکہاں کی عقلمندی ہے چہرے پر رشوت بدصورتی بن کر چپک جاتی ہے نوالہ حرام ہوجاتا ہے معدے سڑجاتے ہیں دوائیوں نے دل کی نالیاں تک بے رنگ کردی ہوتی ہیں ساری دنیا سے سٹنٹ کرنے کے بعدبالآخر وہی سٹنٹ واپس مالک ہی کے دل میں آکر جڑ جاتے ہیں۔
مالک کائنات نے کیسی دلکش زندگی دی تھی ندی نالے پہاڑ درخت سایہ دار پھل دار مگر ہم نے ان سب کو برابر کرکے لالچ کی بستیاں بسالیں جو حقیقتاً بسی بھی نہیں کیوں کے خریدنے والے بھی فراڈیئے تھے۔
اب کیا بچپن کو یاد کرنا اور وہ اطمینان قلب سے سجے چہرے وہ پرخلوص سادہ لوح انسان یاد کرنے واپسی کا عمل ناممکن ہوتا جہاں جہاں سے انسان گزرجاتا ہے واپس نہیں لوٹ سکتا پھر اپنا شعر یاد آگیا …
کتنا مشکل ہے ماضی میں جاکر اس کا حصہ بننا
پھر سے کاسۂ پکڑکے خود کو اس کے درپہ سائل کرنا
دوست بنانادھوکے کھانا اور شکستہ خاطر ہونا
اچھا لگتا ہے دشمن کو اپنی رہ میں حائل کرنا
ہر زمانہ اپنے ہی دکھوں سکھوں سے لبریز ہوتا ہے ہرزمانے کے دکھ دوسرے زمانے سے الگ ہوتے ہیں بعینہہ سکھ بھی…
اس سارے کشٹ میں سوال بنتا ہے کیا رفاقت اچھی رفاقت محبت کا مداوا بنتی ہے۔اور کیا محبت شکستہ حال ٹوٹی پھوٹی رفاقت کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے ذاتی مشاہدے وتجربے سے تو دونوں باتیں ناممکن سمجھتی ہوں اب اصلی سوال بنتا ہے کہ ہم ان دوراستوں سے الگ جو شہرت کی گلیوں سے ہوکرایوانوں تک چلے جاتے ہیں کیا یہ محبت اور رفاقت دونوں کا مداوا بن سکتی ہے، شہرت کی قیمت چکاناپڑتی ہے یہ سب جانتے ہیں مگر اس بات سے اجتناب اور قطعی اختلاف جو کہتے ہیں انہیں تو شہرت کا شوق ہی نہیں تھا یوں ہی مارے مارے مشاعروں اور تقریبات میں پھرتے رہے حالانکہ قتل کا شوق بری چیز ہے شہرت کا شوق ایسی بری چیز نہیں اصل موضوع یہ ہے کہ انسان کیا کرے؟ میں نے تو تاحال کامیاب (بظاہر ) رفاقت میں بوریت سے سلگتے لوگ دیکھے روٹین سے بڑی بے رنگ اذیت ہو نہیں سکتی تیس چالیس پچاس سال کی یکسانیت اور غم روزگار …محبت کی مدت تو ویسے ہی کم ہوتی ہے مگر وہ اپنے مختصر عرصہ ملٹی وٹامنز کی مانند ہوتی ہے منیر نیازی صاحب کے ہاں ’’محبت اب نہیں ہوگی ‘‘ میں یاد کی صورت ہے جو بہت قرین قیاس ہے۔
آخرمیں رہ گئی شہرت تو بظاہر اور باہر جس قدر شہرت کا طوفان ہوتا ہے یہ اندر سے بندے کا دم گھوٹ دیتی ہے یہ باہر سے چمکتی دمکتی رہتی ہے اور جس انسان پر چمکدار لباس کی صورت جڑی ہوتی ہے اندھیرے اس کے اندر دھکیل دیتی ہے اس کا اندر گہرے کالے دھوئیں کے بادلوں سے بھردیتی ہے جو نہ ٹھہرتے ہیں نہ برستے ہیں …
محبت، رفاقت اورشہرت
09:23 AM, 14 Sep, 2025