سیلاب کے بعدسیلاب

09:21 AM, 14 Sep, 2025

اللہ بخشے مرحوم منیرنیازی صاحب نے نہ جانے کس حال اور انداز میں یہ شعر کہا تھا کہ ۔اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔۔ میں ایک دریاکے پار اترا تو میں نے دیکھا۔ نیازی صاحب کودریاکے پاردریاکاسامناتھایانہیں لیکن حالات وواقعات کواگردیکھاجائے تو ہمیں سچ میں آج کل دریاکے پاردریاکاسامناہے۔ابھی ایک دریاہم نے پارنہیں کیاہوتاکہ سامنے پہلے سے تیار دوسرادریاہمارے استقبال کے لئے ایسے موجیں ماررہاہوتاہے کہ اللہ کی پناہ۔ہم توابھی تک طوفانی بارشوں اور سیلاب والے دریاسے پاربھی نہیں ہوئے تھے کہ اوپرسے مہنگائی کادریابھی سیلاب لئے سرپرآن کھڑا ہے۔ آٹا اورچینی سمیت دیگراشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں چنددنوں کے اندردوگنااضافہ یہ دریاکے پاردریانہیں تو اور کیا ہے۔؟ غریب لوگ سیلاب کی وجہ سے سراٹھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ ان کے پاس جوکچھ تھاوہ سیلاب میں بہہ کرتباہ ہو چکا ہے۔ گلگت سے بونیر اور باجوڑ سے قصورتک سیلاب نے جوتباہی پھیلائی اورمچائی ہے اس کااندازہ نہیں۔درجنوں اور سیکڑوں نہیں ہزاروں افراد اپنے گھربارسیلاب میں بہہ اورتباہ ہونے کے باعث کھلے آسمان تلے زندگی کے شب وروز گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حال میں جب سیلاب لوگوں کاسب کچھ بہا لے گیا ہے۔ ملک کے اندر آٹا اور چینی سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اچانک دوگنا اضافہ یہ فقط ظلم نہیں بلکہ ظلم عظیم ہے۔ لوگ زلزلہ وسیلاب جیسے عذاب سے عبرت حاصل کرکے انسان بن جاتے ہیں مگرافسوس ہم ایسے واقعات اورحادثات کے بعدانسانیت سے ہی دورنکل جاتے ہیں۔ دوہزارپانچ کے تباہ کن زلزلے کے بعدبھی جب لوگ دووقت کی روٹی کے لئے تڑپ اورترس رہے تھے تب بھی ہم نے لوٹ مارکااسی طرح بازارگرم کرکے مخلوق خداکوجی بھرکردونوں ہاتھوں سے لوٹاتھا۔آج بھی جب اکثرلوگوں کودووقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اب بھی ہمیں لوٹ مارسے فرصت نہیں۔مہذب معاشروں میں قدرتی آفات، حادثات، واقعات اورہنگامی حالات میں نظام کی بھاگ دوڑسنبھالنے اورتھامنے والے لوگ عوام کی آسانی کے لئے اپنے خزانوں کے منہ کھول کراپنے دربھی واکردیتے ہیں مگرہمارے اس معاشرے کے حالات،ہماری روایات اورعادات اس طرح کی باتوں اورکاموں سے بہت مختلف ہیں۔ہمیں تو اپنے اس پیٹ والے جہنم اور تجوریاں بھرنے کے لئے قدرتی آفات،حادثات اور واقعات کاشدت سے انتظاررہتاہے۔ہم ہروقت اس تاک میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کب ہمیں دوسروں کی مجبوری، بے بسی اور لاچارگی سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ملے۔ آٹا اور چینی توبڑی شے ہے۔ ہم تووہ ظالم لوگ ہیں جوکفن کے چندگزکپڑے پربھی لوٹ مارکابازارگرم کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔زلزلہ اورسیلاب سمیت کونسی قدرتی آفت اوراللہ کاعذاب ہے جو ہم نے اپنی ان گنہگار آنکھوں سے نہیں دیکھا۔؟ قدرتی آفات میں گاؤں کے گاؤں، بستیاں اور شہر ہمارے سامنے اجڑ گئے۔ سیلاب وزلزلوں میں اپنے جیسے ہزاروں جیتے جاگتے انسانوں کوہم نے ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے اس دنیاسے جاتے دیکھا۔آٹا،چینی اور گھی کے بڑے بڑے گودام اورٹرک ہمارے سامنے سیلاب میں پتوں کی طرح بہہ گئے۔ بڑے بڑے تاجر، سرمایہ کار، صنعتکار اور زمیندار ہماری ان آنکھوں کے سامنے دنیاسے فنا ہو گئے لیکن پھربھی ہم گزرے واقعات، حادثات اورآفات سے کچھ نہیں سیکھ سکے۔جوالمناک وغمناک واقعات، حادثات اورسیلاب وزلزلوں جیسے قدرتی آفات ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں یہ اگرپتھردیکھتے تووہ بھی اللہ کے ڈر، خوف اورگھبراہٹ سے ریزہ ریزہ ہوجاتے مگرہم پھربھی ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ ہمارے جیسے انسانوں کے دل واقعی پتھر سے زیادہ سخت ہیں۔ اسی لئے توقرآن مجیدمیں ہمارے جیسے لوگوں کے دلوں کوپتھرسے زیادہ سخت قرار دیا گیا۔ پتھروہ تواللہ کے ڈراورخوف سے پھٹ بھی جاتے ہیں اورگربھی جاتے ہیں۔پتھروں سے تونہریں بھی نکلتی ہیں اورچشمے بھی پھوٹ پڑتے ہیں لیکن ہمارے دل یہ نہ تواللہ کے خوف سے کانپتے ہیں اورنہ ہی مخلوق خدا کے لئے دھڑکتے ہیں۔ ہمارے دل پتھر سے زیادہ سخت نہ ہوتے توہم دوہزار پانچ کے قیامت خیز زلزلے کودیکھ کراللہ کے خوف وڈرسے مر جاتے۔ نہیں تواب اس سیلاب اوراللہ کے قہرکودیکھ کر ضرور توبہ تائب ہوجاتے لیکن افسوس ہمارے دل واقعی پتھرسے زیادہ سخت ہیں کہ ہم نہ پہلے اللہ کے عذاب سے کانپے اورنہ اب ہم پرسیلاب جیسی ان آزمائشوں کاکوئی اثراورفرق پڑرہاہے۔اورلوگ ہوتے تو وہ اپنے آٹا، چینی، دال اورگھی کے گوداموں کے ساتھ اپنے گھراوردربھی لوگوں کے لئے کھول دیتے مگرہم نے قوم کی مجبوری کافائدہ اٹھانے کے لئے گودام اورملز کے ساتھ اپنے گھروں کوبھی لوٹ مارکے اڈوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ جو چیز کل تک دس روپے کی تھی سیلاب اورطوفانی بارشوں کی وجہ سے وہ اب ہم نے سوروپے کی کردی ہے۔گودام میں پڑا آٹاجوہم نے پندرہ سوروپے میں بیس کلوتھیلے کے حساب سے خریداتھااب وہی آٹاہم نے پچیس سوسے تین ہزارروپے میں وہ بیس کلووالاتھیلا بیچنا شروع کردیاہے۔ظلم اورناانصافی کی بھی آخرکوئی حد ہوتی ہے لیکن اپنے مسلمان بھائیوں کی اس لوٹ مارکودیکھ کرلگتاہے ہمارے ہاں ظلم اورناانصافی کی کوئی حدنہیں۔طوفانی بارشوں اورسیلاب سے فصل مکئی اورچاول کی خراب ہوئی اورقیمتیں ہم نے آٹا اور چینی سمیت دیگر تمام اشیاء کی آسمانوں تک پہنچا دیں۔ چند ٹکوں کے لئے غریب اور مجبور عوام پر مہنگائی مسلط کر کے آخرہم کیاچاہتے ہیں۔؟ کیا ہم نے نہیں مرنا۔ بونیر، باجوڑ اور بٹگرام سمیت دیگر علاقوں میں سیلاب کے اندرشہیدہونے والوں کے پاس بھی مال ودولت سمیت دنیاکی ہرچیزتھی لیکن اب وہ کدھرہے۔؟یہ پیسے یہ مال وزرسمیت یہ ساری چیزیں یہی رہنی ہے۔ انسان نے خالی ہاتھ ہی اس دنیاسے جاناہے۔جاتے وقت پھرنیک اعمال کے سواکچھ ہاتھ نہیں آتا۔یہ زلزلے اور سیلاب ویسے نہیں آتے ۔ہم میں خرابیاں اور خامیاں ہیں تب ہی توتباہ کن سیلاب کے بعد یہ زمین مسلسل ہل رہی ہے۔ہمیں اللہ کی مخلوق کولوٹنے کے بجائے اللہ کے حضوراپنے سابقہ گناہوں، ظلم، زیادتی اورناانصافیوں کی معافی مانگنی چاہئے۔ نہیں تو پھر اللہ کے عذاب سے ہمیں بھی کوئی بچا نہیں پائے گا۔

مزیدخبریں