اگر یہ کہا جائے تو زیادہ غلط نہ ہو گا کہ اس وقت دنیا کا اہم ترین مسئلہ فلسطین اور غزہ کے عوام ہیں۔ویسے تو فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے مشکلات اور ظلم سہہ رہے ہیں لیکن گزشتہ چند ماہ میں یہ بحران بدترین صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ غزہ کے عوام کو نہ صرف جنگ اور بمباری کا سامنا ہے بلکہ خوراک، پانی، بجلی اور دوائی جیسی بنیادی سہولتوں کی کمی نے ان کی زندگی کو مشکل تربنا دیا ہے۔ اسرائیل کے ظلم اور سفاکی کی انتہا یہ ہے کہ وہ خوراک اور امداد کی فراہمی کو ایک جنگی ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔اس ظلم کی فضا میں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ بدترین صورتحال کے باوجود مختلف ممالک ،اداروں اور درد دل رکھنے والے افراد کی جانب سے غزہ کے متاثرین کے لیے کسی نہ کسی صورت میں امداد بھیجے جانے کی کوششیں تو ضرور کی جاتی رہتی ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ امداد متاثرین تک پہنچنے سے پہلے ہی رکاوٹوں کا شکار ہو جاتی ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف تو اسرائیل کی طرف سے بدترین جارحیت جاری ہے تو دوسری طرف تمام تر بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے باوجود انسان دوست قوتیںمتحرک ہیں اور اسرائیل کی مذمت کرنے اور غزہ کے متاثرین کی مدد کرنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔ان حالات میں ایک بڑی اور غیر معمولی خبر یہ سامنے آئی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں سے ستر ہزار سے زیادہ رضاکار امدادی سامان کے ساتھ غزہ جانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ رضاکار کسی فوجی یا سرکاری حکم کے تحت نہیں بلکہ اپنے ذاتی جذبے اور ارادے سے اکٹھے ہوئے ہیں۔ ان میں ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں، جن کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح غزہ کے عوام کی تکالیف میں کمی لانے کی کوشش کر سکیں۔
ان رضاکاروں کا تعلق صرف مسلمان ممالک سے نہیں بلکہ ان میں مغربی ممالک، افریقی خطے اور دیگر جگہوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس قافلے میں ڈاکٹر، نرسیں ، مزدور، طالب علم اور عام لوگ شامل ہیں۔ اور یہ لوگ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ امدادی سامان جس میں کھانے پینے کی اشیائ، پانی، دوائیاں، خیمے اور کپڑے شامل ہیں سے لیس ہیں۔ یہ عمل اس لحاظ سے بھی قابل ذکر ہے کہ حکومتیں اور بڑے ادارے جہاں مفادات اور سیاست میں الجھے ہوئے ہیں، وہاں عام لوگ اپنے ذاتی وسائل اور وقت لگا کر یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ براہِ راست متاثرہ عوام تک پہنچیں۔ یہ عمل اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ فلسطین صرف ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے انسانوں کا مسئلہ ہے۔
یہاں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ، کیا یہ قافلہ کامیابی سے اپنی منزل تک پہنچ بھی پائے گا یا نہیں؟ کیونکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ غزہ کے راستے بند ہیں۔ کئی بار پہلے بھی ایسی کوششیں کی جا چکی ہیں لیکن ان قافلوں کو یا تو روک دیا گیا یا ان پر حملے کیے گئے۔ اس بار بھی یہی خدشہ موجود ہے۔ یہ قافلہ اپنے مقاصد حاصل کر سکے یا نہ کر سکے لیکن اس نے دنیا کے بے حس حکمرانوں اور بڑے بڑے اداروں کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ ظلم کے خلاف عام انسان خاموش نہیں ہیںاور وہ جارحیت اور استحصال کے خلاف متحرک رہیں گے۔ پاکستان میں بھی اس خبر کو بڑے دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہاں کے عوام ہمیشہ فلسطین کے مسئلے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور نہ صرف دعاؤں میں بلکہ عملی طور پر بھی اپنے طور پر امداد بھیجنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔فخر کی بات یہ ہے کہ غزہ جانے والے اس قافلہ میں پاکستان کے سنیٹر مشتاق اور ان کے رفقا بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کے مظالم اور ہٹ دھرمی کے خلاف پاکستان کی حکومت بھی اپنا تگڑا پیغام دینے میں پیچھے نہیں رہتی۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کا دورہ کیا۔ اس دورے کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ قطر پر اسرائیلی حملہ کی مذمت کی جائے اور فلسطین کے مسئلے پر قطر کے ساتھ مشاورت کر کے جنگ بندی اور امداد کی فراہمی کو بہتر طریقے سے ممکن بنانے کی کوشش کی جائے۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان جیسے ملک کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ فلسطین کے بحران کو تنہا حل کرا سکے۔ لیکن اس بات سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی آواز اور اس کا مؤقف دنیا میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر پاکستان اپنے تعلقات اور اثرورسوخ کو استعمال کرے تو فلسطینیوں کو امداد پہنچانے اور ان پر ہونے والے مظالم کے خاتمہ کے لیے کچھ کردار ضرور ادا کر سکتا ہے۔ یقینا شہباز شریف کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا ۔
ستر ہزار رضاکاروں کا خالصتاً انسانیت کے نام پر نکلنا پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے۔ یہ ایک طرح سے دنیا کے ضمیر کی بیداری کی نشانی ہے۔ یہ لوگ نہ تو کسی حکومت کے نمائندے ہیں اور نہ ہی کسی بڑے ادارے کے۔ یہ عام لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اگر دنیا کے طاقتور ادارے کچھ نہیں کر رہے تو ہمیں خود کچھ کرنا چاہیے۔ اور اسی سوچ نے ایک بڑے قافلے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس سارے معاملے کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ یہ قافلہ دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ فلسطینی عوام تنہا نہیں ہیں، پوری دنیا میں بسنے والے امن پسند لوگ ان کے ساتھ ہیں۔ یہ عمل اسرائیل اور اس کے حمایتیوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ آپ ظلم تو کر سکتے ہیں لیکن دنیا کے عوام کے دلوں سے فلسطین کی حمایت ختم نہیں کر سکتے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ غزہ کے عوام تک پہنچنے کا یہ سفر آسان نہیں ہوگا۔ راستوں میں رکاوٹیں آئیں گی، پابندیاں لگیں گی، اور کئی طرح کی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا ۔ لیکن ان رضاکاروں کا ارادہ اور عزم یقینا ان تمام رکاوٹوں سے بڑا ہوگا ۔ ستر ہزار رضاکاروں کا یہ اقدام صرف ایک قافلہ کی روانگی نہیں ہے بلکہ ایک بڑی علامت ہے۔ یہ علامت اس بات کی ہے کہ دنیا کے عام لوگ اب بھی ظلم کے خلاف کھڑے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دوحہ کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعاون حاصل کیا جا سکے اور غزہ کے عوام کی مشکلات کم کی جا سکیں۔ اگرچہ یہ سب کوششیں فوری طور پر مسئلہ حل نہیں کر سکتیں، لیکن یہ ضرور بتاتی ہیں کہ دنیا خاموش نہیں ہے اور مظلوم عوام کے لیے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔
امن کا قافلہ چل پڑا ہے!
09:21 AM, 14 Sep, 2025