سندھ میں نیا گریڈنگ سسٹم متعارف، آئندہ تعلیمی سال سے لاگو ہوگا

11:52 AM, 14 Oct, 2025

کراچی: محکمہ یونیورسٹی اینڈ بورڈز سندھ نے نویں سے بارہویں جماعت تک نیا گریڈنگ سسٹم متعارف کروا دیا ہے جو اگلے تعلیمی سال سے نافذ ہوگا۔ اس نئے نظام میں طلبہ کے نتائج اب کل نمبرز یا پرسنٹیج کی بجائے گریڈز کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے، جس سے نتائج کا حساب کتاب مزید شفاف اور منصفانہ ہو گا۔

نئے سسٹم کے مطابق پاسنگ مارکس میں بھی تبدیلی کی گئی ہے۔ اب تک جو 33 فیصد پر طلبہ کو پاسنگ مارکس ملتے تھے، ان کی جگہ 40 فیصد پاسنگ مارکس مقرر کیے گئے ہیں۔ گریڈز کی تقسیم اس طرح کی جائے گی:

50 سے 59 فیصد پر ڈی گریڈ
60 سے 69 فیصد پر سی گریڈ
70 سے 74 فیصد پر بی گریڈ
75 سے 79 فیصد پر بی پلس
80 سے 84 فیصد پر بی پلس پلس
85 سے 89 فیصد پر اے گریڈ
90 سے 94 فیصد پر اے پلس
95 سے 100 فیصد پر اے پلس پلس گریڈ دیا جائے گا۔
محکمہ یونیورسٹی اینڈ بورڈز کے مطابق یہ نیا سسٹم بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کا جائزہ زیادہ منصفانہ طریقے سے لیا جا سکے گا۔ اس سسٹم کے ذریعے طلبہ کی محنت اور کارکردگی کو بہتر طریقے سے پرکھا جا سکے گا، اور وہ اپنے گریڈز کے بارے میں واضح طور پر جان پائیں گے۔

مزیدخبریں