اسلام آباد: کسٹم اپیلٹ ٹربیونل نے گلگت بلتستان سے متعلق 85 درخواستوں پر فیصلہ سنایا ہے جس کے تحت کسٹمز کی جانب سے عائد کی گئی سزائیں اور جرمانے ختم کر دیے گئے ہیں۔ ٹربیونل نے کسٹمز کو ہدایت دی ہے کہ وہ سامان کا دوبارہ معائنہ کریں اور تمام قانونی شرائط پورا ہونے کی صورت میں سامان جاری کر دیں۔
چیئرمین حافظ انصار الحق اور ممبر ٹیکنیکل عبدالوحید مروت پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دو ہفتوں کے اندر ان کیسز کی سماعت مکمل کی۔ ٹربیونل نے کسٹمز حکام کو کہا کہ دوبارہ چیکنگ کے دوران درخواست گزار کے نمائندے کو بھی موجود رکھا جائے تاکہ ہر چیز کا جائزہ شفاف طور پر لیا جا سکے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ امپورٹ پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے سامان کو ضبط کیا جائے گا، لیکن اپیل کنندگان پر عائد تمام جرمانے اور سزائیں ختم کر دی گئی ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے درآمدی سامان کی تفصیلات میں غلط بیانی کی تھی اور سامان گلگت بلتستان کی سوست ڈرائی پورٹ سے درآمد کیا گیا تھا۔ کسٹمز حکام کے مطابق سامان کی مقدار اور تفصیل میں تضاد تھا، جس کی وجہ سے 1 کروڑ 92 لاکھ روپے سے زائد کی ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ٹربیونل نے کہا کہ چونکہ سامان ابھی تک پورٹ پر موجود ہے اور ٹیکس چوری کا الزام ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے تمام کنسائنمنٹس کا 100 فیصد معائنہ کسٹمز کے ذریعے کیا جائے گا۔ اگر سامان کی جانچ پڑتال کے بعد تمام قانونی تقاضے پورے ہو جاتے ہیں تو ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے بعد سامان کو جاری کر دیا جائے گا۔
اس فیصلے کے ساتھ ہی، کسٹم اپیلٹ ٹربیونل نے گزشتہ 14 مہینوں میں 1 کھرب 9 ارب روپے سے زائد کی مالیت کے کیسز نمٹائے ہیں، اور اس وقت زیر سماعت درخواستوں کی مجموعی مالیت 13 ارب روپے سے زائد ہے۔